بیت المقدس سے متعلق امریکی ہٹ دھرمی برقرار

71
نیویارک: سلامتی کونسل میں امریکا کی مستقل مندوب نکی ہیلی بیت المقدس کے مسئلے پر بات کر رہی ہیں
نیویارک: سلامتی کونسل میں امریکا کی مستقل مندوب نکی ہیلی بیت المقدس کے مسئلے پر بات کر رہی ہیں

نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) فلسطینی صدر محمود عباس نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کے فیصلے پر برہم ہیں۔ منگل کے روز انہوں نے سلامتی کونسل سے کہا کہ یہ اقدام ’غیرقانونی‘ ہے۔ اس پر امریکی سفیر نکی ہیلی نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا جانتا ہے کہ فلسطینی قیادت سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کے فیصلے پر انتہائی ناخوش ہے۔ ضروری نہیں کہ آپ اس فیصلے کو پسند کریں۔ ضروری نہیں کہ آپ اس کی تعریف کریں۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ اسے تسلیم کریں۔ لیکن جان لیں کہ یہ فیصلہ تبدیل نہیں ہوگا۔ انہوں نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ فلسطینی امریکا کی مذمت کر سکتے ہیں اور امن کی ثالثی کے اس کے کردار کو مسترد کرسکتے ہیں، لیکن ان باتوں سے فلسطینی عوام کسی طور پر بھی اپنی خواہشات کی تکمیل نہیں کر پائیں گے۔ ہیلی نے کہا کہ میں یہاں بیٹھی ہوں۔ امن کے مقدمے میں امریکا نے فلسطینی عوام کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا ہے۔ ان کی پچھلی نشست پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یہودی داماد جیرڈ کشنر بیٹھے تھے، جو مشرق وسطیٰ امن کوششوں کے حوالے سے وائٹ ہاؤس میں سرکردہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی بین الاقوامی مذاکرات کے لیے ٹرمپ کا خصوصی نمایندہ جیسن گرین بلیٹ بھی موجود تھے۔ ادھر امریکی ترجمان نے منگل کے روز کہا کہ تینوں اہل کاروں کا نیو یارک میں عباس سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوتا رہا ہے، اس خوف کو بڑھاوا دیتے ہوئے کہ اس کے باعث کوئی نیا تنازع کھڑا ہو سکتا ہے۔