شامی بچوں کی شہادت پر یونیسف کا اعتراف بے بسی

481
دمشق: مشرقی غوطہ میں بدھ کے روز اسدی فوج کی وحشیانہ کاررائیوں میں زخمی ہونے والے بچوں کو امداد فراہم کی جارہی ہے
دمشق: مشرقی غوطہ میں بدھ کے روز اسدی فوج کی وحشیانہ کاررائیوں میں زخمی ہونے والے بچوں کو امداد فراہم کی جارہی ہے

جنیوا (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ کے ادارہ اطفال یونیسف نے شام کے علاقے مشرقی غوطہ میں بمباری کے نتیجے میں 39 بچوں کے جاں بحق ہونے پر بطور احتجاج خالی اعلامیہ جاری کیا ہے، جس کے آغاز پر مضمون کی جگہ پر یہ سطر تحریر کی گئی ہے کہ کوئی الفاظ ان جاں بحق بچوں، ان کے ماں باپ اور پیاروں کو انصاف نہیں دلا سکتے۔ اس کے بعد پورا صفحہ خالی چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ خالی اعلامیہ یونیسف کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے اور نشریاتی اداروں کو جاری کرتے ہوئے اعلامیہ کے ساتھ ایک یادداشت بھی منسلک کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ شام میں معصوم بچوں کی ہلاکتوں پر خالی اعلامیہ جاری کیا جا رہا ہے، کیوں کہ کسی لغت میں وہ الفاظ موجود نہیں جو ایسے سانحات اور مظالم کو بیان کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ یونیسف کے ریجنل ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا گیرٹ کیپیلیرے نے بین الااقوامی خبررساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران سب سے زیادہ نقصان بچوں کی ہلاکتوں کی صورت میں سامنے آتا ہے، کیوں اس طرح ہمارا مستقبل منوں مٹی تلے دب جاتا ہے، ہمیں ایسے الفاظ نہیں مل رہے ہیں، جو ان کرب ناک سانحات کا احاطہ کرسکتے ہوں۔ واضح رہے کہ شام کے مشرقی علاقے غوطہ میں اتحادی افواج کی بمباری کے نتیجے میں تقریباً 300 شہری شہید ہوچکے ہیں، جن میں 50زے زائد بچے بھی شامل ہیں۔ اس قبل بھی شام میں جاری خون آشام جنگ میں بچوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کی دل دہلانے والی تصاویر نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا تھا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر جنگ بندی کے اقدامات کے لیے ٹرینڈ بھی چلایا گیا تھا، جس میں عالمی رہنماؤں کو جنگ کا ذمے دار قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا گیا تھا۔ اسدی فوج نے ان وحشیانہ کارروائیوں کا سلسلہ اتوار کے روز سے جاری رکھا ہوا ہے۔ بدھ کے روز مزید 24 شہری اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن میں 3 بچے بھی شامل ہیں۔ شامی مبصر برائے انسانی حقوق کے مطابق دمشق کے نزدیک طویل عرصے سے محصور اس علاقے میں حالیہ جارحیت کے آغاز کے بعد سے اب تک جاں بحق افراد کی تعداد 300 کے قریب پہنچ گئی ہے۔ مبصر کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن کے مطابق بدھ کے روز جاں بحق ہونیوالے 24 شہریوں میں اکثریت کفربطنا میں بیرل بموں کے نتیجے میں لقمہ اجل بنی۔