واٹر بورڈ ملازمین کیلیے یو ٹیلیٹی الاؤنس کافی الفوراجراکیا جائے،حافظ نعیم

372
پریس کلب کے سامنے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ ایمپلائز یونین کے تحت مظاہرے سے حافظ نعیم الرحمن خطاب کررہے ہیں، خالد خان اور عبدالوحید کیانی بھی موجود ہیں
پریس کلب کے سامنے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ ایمپلائز یونین کے تحت مظاہرے سے حافظ نعیم الرحمن خطاب کررہے ہیں، خالد خان اور عبدالوحید کیانی بھی موجود ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر)ا میر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا ہے کہ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ملازمین کے لیے یوٹیلیٹی الاؤنس کا فی الفور اجرا کیا جائے ، واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں ملازمین کے بچوں کو سن کوٹے کی بنیاد پر بھرتی کیا جائے اور ایڈ ہاک ملازمین کو بحال کیا جائے ۔ شہر کراچی میں اس وقت 1250گیلن پانی کی ضرورت ہے لیکن اس وقت صرف 450گیلن پانی دیا جارہا ہے ، کراچی کی مردم شماری میں یہاں کی آبادی کو کم دکھا کر کراچی کے کے 4منصوبے فیزII کو ختم کر نے کی کوشش اور سازش ہورہی ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کلب پر کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ جنرل ایمپلائز یونین کے تحت واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں یوٹیلیٹی الاؤنس ،سن کوٹے اور ایڈ ہاک ملازمین کی بحالی کے لیے احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ احتجاجی جلسے سے جنرل ایمپلائز یونین کے صدر خالد خان ،جنرل سیکرٹری عبد الوحید کیانی ، ناصر مسیح، وارث مسیح،لیاری یونٹ کے صدر سعید بلوچ ، لانڈھی یونٹ کے صدر شمسو، سینئر نائب صدر صغیر احمد ، غلام عباس اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پرسیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری اور دیگر بھی موجود تھے ۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ جنرل ایمپلائز یونین واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے محنت کشوں کے لیے دیانتداری کے ساتھ جدوجہد کررہی ہے اور آج محنت کش یونین کے پلیٹ فارم سے احتجاجی جلسے میں مطالبہ کررہی ہے کہ سن کوٹہ ، یوٹیلیٹی الاؤنس اور ایڈ ہاک ملازمین کو فوری بحال کیا جائے ۔ جماعت اسلامی جنرل ایمپلائز یونین کے تمام مطالبات کی مکمل حمایت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ جنرل ایمپلائز یونین کے مطالبات منظورکیے جائیں بالخصوص ایسے ملازمین جو گٹر کی صفائی پرمامور ہیں ان کے لیے پروٹیکشن کا انتظام کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ شہر کراچی کے لیے اس وقت 1250ملین گیلن پانی کی ضرورت ہے لیکن عملاً 450 گیلن پانی مل رہا ہے جبکہ سیوریج کی لائنیں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ۔ سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان نے کے 3منصوبہ مکمل کر کے 100ملین گیلن پانی دیا تھا اور 2010میں کے4منصوبہ مکمل ہونے کے بعد 250ملین گیلن پانی ملنا تھا لیکن ایم کیو ایم نے کے 4منصوبے کی تکمیل کے لیے کچھ نہیں کیا ۔انہوں نے کہا کہ کراچی کی نئی مردم شماری کے اعداد و شمار کو جواز بنا کر کراچی کے منصوبے کو ختم کر نے کی کوشش اور سازش ہورہی ہے ۔ کے4 منصوبے کے فیز 2کی منظوری نہیں دی جارہی ۔انہو ں نے کہا کہ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے افسران کو پیپلز پارٹی نے اپنے قبضے میں لیا ہوا ہے۔ جنرل ایمپلائز یونین ہی آپ کے حقوق دلاسکتی ہے ۔واٹر بورڈ کے ملازمین خالد خان کا ساتھ دیں تاکہ آپ کے مسائل جلد از جلد حل ہوسکیں ۔خالد خان نے کہا کہ سندھ حکومت جو کہ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کوکنٹرول کرتی ہے صرف اور صرف لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہے ، ملازمین کو یوٹیلیٹی الاؤنس نہیں دیا جارہا ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ واٹر بورڈ میں ملازمین کو سن کوٹے کی بنیاد پر بھرتی کیا جائے اور ایڈ ہاک ملازمین کو بحال کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے مطالبات منظور نہ کیے گئے تو جنرل ایمپلائز یونین وزیر اعلیٰ ہاؤس پر احتجاجی دھرنا دے گی۔عبد الوحید کیانی نے کہا کہ انتظامیہ واٹر بورڈ کے ملازمین کے ساتھ بھیڑ بکریوں جیسا سلوک کررہی ہے ، سندھ کے دیگر اداروں میں یوٹیلیٹی الاؤنس مل چکا ہے لیکن واٹر بورڈ کے ملازمین کے ساتھ سوتیلی ماؤں جیسا سلوک کیا جارہا ہے ان کو ان کے حق سے محروم کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں کرپشن کی جارہی ہے ،ملازمین کو اپنے فنڈ لینے کے لیے بھی رشوت دینا پڑتی ہے اور تنخواہوں میں بھی ہر ماہ تاخیر کی جارہی ہے ۔ جنرل ایمپلائز یونین اس اقدام کی سخت مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ ملازمین کو فی الفور یوٹیلیٹی الاؤنس دیا جائے ۔