پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا پر فارن پالیسی پر کوئی بھی پروگرام پیش نہیں کیا جاتا ،عمیر بن ریاض

665

کراچی (اسٹا ف رپورٹر)وفاقی اردو یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے تحت’’میڈیا اور خارجہ پالیسی ‘‘کے موضوع پر ہونے والے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وائس آف امریکہ سے تعلق رکھنے والے معروف صحافی عمیر بن ریاض نے کہا کہ پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا پر فارن پالیسی پر کوئی بھی پروگرام پیش نہیں کیا جاتا جبکہ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

امریکہ میں حکومت اورمیڈیا کے درمیان کتنے ہی اختلافات کیوں نہ ہوں وہ اسے منظر عام پر نہیں لاتے ہیں۔سابق صدر پاکستان پرویز مشرف کے دور حکومت میں غیر ممالک نے انکی بڑی مدد کی اور معاشی ودیگر معاملات پر بھرپور تعاون کیا۔فارن میڈیا بھی بعض عالمی معاملات پر خبر دینے سے کتراتا ہے کیونکہ اس میں ان کے ملک کے وسیع تر مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔الجزیر ہ چینل متحدہ عرب امارات کے لئے کام کرتا ہے لیکن اس میں کسی بھی شیخ کی سرمایہ کاری نہیں ہے۔

امریکہ میں میڈیا کے مقابلے میں حکومت طاقتور ہے۔پاکستان کا میڈیا خبروں کو جاری کرتے ہوئے اس کی صداقت پر توجہ نہیں دیتا ہے خصوصا اکثر الیکٹرانک میڈیا پر ریٹنگ کے چکر میں پیمرا کے جاری کردہ اخلاقی ضابطے کو بھی نظر انداز کردیا جاتا ہے۔انچارج شعبہ بین الاقوامی تعلقات ڈاکٹر ممنون احمد خان نے کہاکہ قرآن میں بھی خبر کی تصدیق اور تحقیق پر بہت زور دیا گیا ہے۔

میڈیا ریاست کا اہم ترین ستون ہے لیکن اس کی آزادی کی کوئی حد مقرر ہونا چاہئے تاکہ اس سے انفرادی طور پر لوگ اور معاشرہ متاثر نہیں ہو۔آج کے دور میں میڈیا اسقدر بے لگام ہوچکا ہے کہ اس کے آگے ریاست بھی بے بس نظر آتی ہے۔میڈیا نہ صرف معاشرے کا عکس ہوتا ہے بلکہ معاشرے کے ہر فرد پر کسی نہ کسی طرح اثر انداز ہورہا ہوتا ہے۔

اس کی مثال جرائم کی وہ خبریں اور پروگرامز ہیں جس کو پیش کرتے ہوئے اخلاقی اقدار کا خیال نہیں رکھا جاتا ہے جس کے باعث نوجوان نسل میں بے راہ وی، نشہ آور اشیاء کا استعمال اور خودکشی جیسے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ڈاکٹر فیصل جاوید نے کہا کہ اس قسم کے سیمینارز کے انعقاد کا مقصد دنیا بھر کے ماہرین کی مدد سے اساتذہ ، طلباء اور عام لوگوں میں مختلف موضوعات پر شعور بیدار کرنا ہے۔

ذرائع ابلاغ بین الاقوامی تعلقات پر بہت گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ذرائع ابلاغ کے ذریعے نہ صرف لوگوں کو معلومات فراہم کی جاتی ہے بلکہ ان کی ذہنی تربیت بھی ہوتی ہے۔ پروگرام میں ڈاکٹر اصغر دشتی، ڈاکٹر رضوانہ جبین ،ڈاکٹر مسرور خانم، ڈاکٹر عرفان عزیز، اساتذہ اور طلباء کی بڑی تعداد موجود تھی۔