تھرپارکر میں ننھے سائنسدانوں کا میلہ

215

سحر بلوچ
پاکستان کے صوبہ سندھ کے صحرائی علاقے تھرپارکر کے شہر مِٹھی میں مختلف اسکولوں کے بچوں کے 2روزہ سائنسی میلے کا انعقاد ہوا۔ اس میلے میں بچوں نے اپنے من پسند سائنسی تجربات کے بارے میں نہ صرف ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھا بلکہ لوگوں کو اپنی تخلیقی کاوشوں کے بارے میں آگاہ بھی کیا۔
14 اور 15 فروری کو ہونے والے اس سائنسی میلے میں تھرپارکر کے 50 سے زائد پرائمری اسکولوں کے بچوں نے حصہ لیا۔پاکستان میں ایک عرصے سے توانائی کا بحران چل رہا ہے جس میں موجودہ حکومت نے گیس اور کوئلے کی مدد سے چلنے والے بجلی گھر لگا کر قابو پانے کی کوشش کی ہے۔
ان بچوں نے پانی سے بجی پیدا کرنے کا ماڈل تیار کیا، جو ماحول دوست بھی ہے اور اس سے حاصل کرنے والی بجلی کی قیمت بھی انتہائی کم ہوتی ہے۔ تھر میں اس نوعیت کے سائنسی میلوں کی عدم موجودگی بچوں کو سائنس کے میدان سے دور نہیں کر پائی اور اب میلے کی وجہ سے ان کو اپنی قابلیت اور سائنس میں آگے بڑھنے میں مدد ملے گی۔
میلے میں بچوں کی زیادہ توجہ بجلی پیدا کرنے کے شعبے پر تھی شاید اس کی وجہ سے ملک میں دہائیوں سے جاری بجلی کا بحران ہے۔ جہاں میلے میں توانائی کے شعبوں میں ماڈلز بنائے گئے وہیں بچوں نے اپنے ماڈلز کے ذریعے ملک میں موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے میں بتانے کی کوشش کی۔ پاکستان کا شمار ان کا ملک میں ہوتا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہے۔ صوبہ سندھ میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے وسیع امکانات ہیں اور ایسے منصوبوں پر کام جاری بھی ہے۔ بچوں نے ماحول دوست توانائی کے اس شعبے میں بھی سائنسی ماڈل بنائے۔
میلے میں بچوں نے اعتماد کے ساتھ شرکا کو اپنے ماڈلز کے بارے میں بتایا۔ اس طرح کے میلوں سے بچوں میں خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے جو ان کی تخلیقی سرگرمیوں کے لیے اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ بچوں کا کہنا تھا کہ میلہ کم از کم ایک ہفتے تک جاری رہنا چاہیے تھا۔ (بشکریہ بی بی سی )