ایران: صوفیوں سے تصادم ، 5 پولیس اہلکار ہلاک

226
تہران: صوفی تحریک کے ارکان نے سڑک پر دھرنا دے رکھا ہے‘ چھوٹی تصاویر زخمی اور گرفتار مظاہرین کی ہیں
تہران: صوفی تحریک کے ارکان نے سڑک پر دھرنا دے رکھا ہے‘ چھوٹی تصاویر زخمی اور گرفتار مظاہرین کی ہیں

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران میں پولیس اور ایک صوفی رہنما کے حامیوں کے مابین ہونے والے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 5 اہل کار ہلاک اور 30 زخمی ہو گئے۔ ایرانی صوفی رہنما نور علی تابندہ کے حامیوں کی پولیس اہل کاروں کے ساتھ جھڑپیں پیر اور منگل کی درمیانی شب ہوئیں۔ اس دوران کم از کم 300 افراد کو حراست میں بھی لے لیا گیا۔ ایران میں صوفیوں اور حکام کے مابین جھڑپوں کا یہ تازہ ترین واقعہ ہے۔ نور علی تابندہ کے درجنوں حامی پچھلے کئی دنوں سے ان کے گھر کے باہر دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ ایران میں 1979ء کے انقلاب کے بعد نائب وزیر انصاف کے عہدے پر فائز رہنے والے 90 سالہ تابندہ کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ اس خوف کی وجہ جنوری میں منعقدہ حکومت مخالف مظاہروں کے تناظر میں کئی صوفی رہنماؤں کی گرفتاریاں ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ دارالحکومت تہران میں رہایش پزیر تابندہ کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ ان کے ملک میں سرگرم آزاد خیال رضاکاروں کے ساتھ قریبی روابط ہیں۔ تازہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب نور علی تابندہ کے حامیوں نے ایک شخص کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے تہران کے ایک پولیس اسٹیشن پر دھاوا بول دیا۔ یہ مظاہرین بعد میں صوفی پیر کی رہایش گاہ کے باہر جمع ہوئے۔ پولیس نے جب انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی، تو اس کے رد عمل میں تصادم شروع ہو گیا۔ ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی فارس کے مطابق ایک شخص نے کئی پولیس اہل کاروں پر بس چڑھا دی، جس کے نتیجے میں 3 پولیس اہل کار ہلاک ہو گئے۔ حملہ آور کو حراست میں لے لیا گیا۔ خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پولیس ترجمان جنرل سعید منتظر المہدی نے بتایا کہ گاڑی اور چاقو سے حملوں کی 2 دیگر وارداتوں میں بھی 2 مزید پولیس اہل کار ہلاک ہوئے۔ پولیس نے اس پیش رفت کے بعد متعلقہ علاقے کی ناکابندی کی ہوئی ہے اور وہاں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔