۔2018ء آزمائش کاسال ہے لٹیرے منتخب ہوئے تو پھر نجات نہیں ملے گی ،سراج الحق

302
لاہور، امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق صفدر چودھری مرحوم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب کررہے ہیں
لاہور، امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق صفدر چودھری مرحوم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب کررہے ہیں

لاہور (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ عدلیہ کو وہی کام کرنا چاہیے جس کا اس نے حلف اُٹھایا ہے ‘ ذاتی مفادات کی لڑائی لڑنے والوں سے عدالتوں کو دبنا چاہیے نہ اس کی پروا کرنی چاہیے ‘ پوری قوم عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے۔ حکمرانوں نے70 سال میں ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دی۔ 2018ء قوم کے لیے ایک آزمائش کا سال ہے، اگر قوم نے ایک بار پھر لٹیروں اور کرپٹ مافیا کو گردنوں پر سوار کیا تو انہیں بدامنی، غربت وجہالت، مہنگائی اور بیروزگاری جیسے مسائل سے نجات نہیں مل سکے گی۔ چودھری صفدر علی مرحوم ملک میں اسلامی انقلاب کے علمبردار تھے۔ قومی تاریخ میں وہ ہمیشہ نظریہ پاکستان کے داعی کی حیثیت سے زندہ رہیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں سابق سیکرٹری اطلاعات وڈائریکٹر تعلقات عامہ جماعت اسلامی صفدر علی چودھری مرحوم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ریفرنس سے لیاقت بلوچ، حافظ محمد ادریس، معروف کالم نگار ڈاکٹر حسین احمد پراچا، رؤف طاہر، صفدر چودھری مرحوم کے بیٹے مبشر نعیم چودھری ودیگر نے بھی خطاب کیا۔ تعزیتی ریفرنس میں شعبہ صحافت سے وابستہ معروف شخصیات، مرحوم کے دوست واحباب، خاندان کے افراد اور جماعت اسلامی کے کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں ارکان اسمبلی کی بھیڑ بکریوں کی طرح بولیاں لگ رہی ہیں اور ارکان اسمبلی کو گوبھی اور آلو کی طرح خریدا جا رہا ہے مگر الیکشن کمیشن خاموش تماشائی بنا ہوا ہے‘ الیکشن کمیشن کے اس رویے کی وجہ سے ہی پورا انتخابی نظام مشکوک ہوگیا سے‘ جاگیردار اور سرمایہ دار الیکشن لڑنے کے بجائے ارکان کی بولیاں لگا رہے ہیں۔ پہلے پجارو گروپ مشہور تھے اب ہیلی کاپٹر اور جہاز مافیا میدان میں آگیا ہے‘ اگر صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش نہ کی گئی تو انتخابی نظام پر عوام کا رہا سہا اعتماد بھی اُٹھ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام گلہ کرتے ہیں کہ اسمبلیوں میں قانون سازی نہیں ہوتی‘ جب بڑے بڑے سوداگر اور لٹیرے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچیں گے تو وہ قانون سازی کرنے کے بجائے قومی دولت لوٹ کر اپنی تجوریاں بھریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں قانون کی حکمرانی کے لیے سیاست کو پیسے کے کھیل سے آزاد کرنا ہوگا۔ سراج الحق نے کہا کہ 70 سال سے ملکی اقتدار پر قابض کرپٹ ٹولے نے تحریک پاکستان کے لاکھوں شہدا کے خون اور نظریہ پاکستان سے غداری کی۔ جرنیلوں کی حکومت ہو یا ظالم جاگیرداروں کی، لوگ بنیادی ضروریات زندگی کے لیے روتے اور بلکتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی حکمرانوں کے ساتھ لڑائی اقتدار کے لیے نہیں بلکہ ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے ہے۔ حکمرانوں نے ایک دن کے لیے ملک میں اسلامی نظام نافذ نہیں ہونے دیا۔ ہماری عدالتیں عوام کو انصاف دینے میں ناکام رہی ہیں۔ سودی نظام معیشت کی وجہ سے عام آدمی کا استحصال ہو رہا ہے اور ملک پر80 ارب ڈالر کے قرضے ہیں‘ عوام صاف پانی، تعلیم، علاج اور روزگار کی سہولتوں کے لیے پریشان ہیں مگر حکمرانوں کو عوام کے مسائل کی کوئی پروا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کو ایک دن کے لیے اقتدار ملا تو ہم ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ یقینی بنائیں گے کیونکہ ہمارے نزدیک ملک کے تمام مسائل کا حل اسلامی نظام میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر 1947ء میں ملک میں اسلامی نظام نافذ کر دیا جاتا تو مشرقی پاکستان بنگلا دیش نہ بنتا۔ آج بھی سیکولر اور مغرب کے ذہنی غلام حکمرانوں سے پاکستان کے نظریے اور جغرافیے کو خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان4 صوبوں‘ پہاڑوں‘ دریاؤں اور میدانوں کا نام نہیں، یہ اسلامی نظریے اور عقیدے کی بنیاد پر بنا تھا اور اسی نظریے اور عقیدے پر قائم رہے گا۔ مقررین نے صفدر علی چودھری مرحوم کی ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔