سندھ کچی آبادی اتھارٹی میں بدعنوانیوں کا کاتمہ کیا جائے ،کاگف 

157
حیدر آباد: عدالت عظمیٰ کے احکامات کی روشنی میں تجاوزات کیخلاف کارروائی کے دوران تعمیرات مسمار کی جارہی ہیں 
حیدر آباد: عدالت عظمیٰ کے احکامات کی روشنی میں تجاوزات کیخلاف کارروائی کے دوران تعمیرات مسمار کی جارہی ہیں 

حیدر آباد (اسٹاف رپورٹر) چیف جسٹس آف سندھ کچی آبادی اتھارٹی میں کرپشن، لینڈ مافیا، ان کے سہولت کاروں کے راج اور 30 سالہ بے قاعدگیوں کیخلاف سوموٹو ایکشن لے کر جانچ پٹرتال کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کریں اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے قائم ادارے فوری طور پر سندھ کچی آبادی اتھارٹی کے تمام اہلکاروں، افسران سے تعیناتی سے لیکر اب تک کے گوشوارے طلب کریں۔ یہ مطالبہ کچی آبادیز اینڈ گوٹھ فیڈریشن آف پاکستان ’’کاگف‘‘ کی جانب سے لینڈ مافیا، ان کے سہولت کاروں اور سندھ کچی آبادی اتھارٹی میں بد عنوانی کیخلاف رابطہ عوام مہم کے سلسلے میں پریس کلب حیدرآباد پر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مظاہرین نے کیا۔ مظاہرے کی قیادت ایڈیشنل سیکرٹری سہیل افضل جٹ، رابطہ سیکرٹری خورشید عالم، آرگنائزر سندھ ریاض علی اور دیگر کررہے تھے۔ مظاہرے میں کچی آبادیوں اور گوٹھوں کے رہنماؤں راشد علی، ابو بکر، عطا اللہ، محمد خان، نیاز محمد، پیر علی، خرم شہزاد، عبدالغفور، گل محمد اور دیگر نے بھی شرکت کی۔ سہیل افضل جٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے کٹ آف ڈیٹ کے قانون 2016ء کے بعد سندھ کچی آبادی اتھارٹی کے کچھ بدعنوان اور لینڈ مافیا کے آلہ کار اہل کار نئی کچی آبادیوں اور گوٹھوں کے سروے اور مالکانہ حقوق کے کام میں روڑے اٹکا رہے ہیں، تو دوسری جانب جعلی سندوں کی آڑ میں لینڈ مافیا کے ساتھ مل کر کچی آبادی قانون پر پورا نہ اترنے والی آبادیوں اور گوٹھوں کو لیزیں دینے کا کام کررہے ہیں جو کہ سندھ حکومت کے لیے لمحہ فکر ہے۔ کاگف ایسے اہلکاروں کو متنبہ کرتی ہے کہ وہ کاگف کو کمزور نہ سمجھیں اور نہ ہی بے بس، جب ’’کاگف‘‘ نے ان اہلکاروں کا محاسبہ کیا تو ان اہلکاورں کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔ مقررین نے کہا کہ لینڈ اور بلڈرز مافیا کے چنگل سے کچی آبادیوں اور گوٹھوں کے مکینوں کی آزادی کے لیے کچی آبادیز اینڈ گوٹھ فیڈریشن آف پاکستان نے پورے سندھ میں بھرپور تحریک کا آغاز کردیا ہے۔