عراق :فوج اور ملیشیا پر حملہ 64 ہلاک 

40
بغداد: ضلع تاجی میں پیر کے روز طاقت ور بم دھماکے کے بعد گاڑیوں سے شعلے اور دھواں اٹھ رہا ہے
بغداد: ضلع تاجی میں پیر کے روز طاقت ور بم دھماکے کے بعد گاڑیوں سے شعلے اور دھواں اٹھ رہا ہے

بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک)عراق میں تین مختلف کارروائیوں میں 64افراد مارے گئے، جن میں اکثریت فوجیوں اور سرکاری جنگجوؤں کی ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق پیر کے روز داعش کے جنگجوؤں نے مغربی صوبے انبار کے ضلع رطبہ میں عراقی فوج پر دھاوا بولا۔ اس حملے کے نتیجے میں 20کے قریب فوجی مارے گئے، جب کہ 11زخمی ہوئے۔ پیر کے روز دوسرا حملہ بغداد کے شمال میں ضلع تاجی کی ایک مصروف مارکیٹ میں کیا گیا۔ اس بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 4شہری مارے گئے۔ دھماکے کے نتیجے میں کئی گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی، جب کہ دیگر املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ اس سے قبل اتوار اور پیر کی درمیانی شب داعش کے جنگجوؤں نے حکومت نواز ملیشیا کے ایک قافلے پر خونریز حملہ کیا۔ اس حملے کے نتیجے میں 40حکومتی جنگجو مارے گئے۔ یہ حملہ رات گئے عراق کے شمالی صوبے کرکوک میں حویجہ ضلع میں حشد شعبی ملیشیا کے ایک قافلے پر کیا گیا۔ پولیس اور پی ایم ایف کے کمانڈروں کے مطابق اس حملے کے بعد سے بغداد حکومت کی حامی ملیشیا کے کم از کم 10 ارکان لاپتا بھی ہیں۔ عراقی سیکورٹی فورسز کے اعلیٰ ذرائع نے پیر کے روز بتایا کہ یہ حملہ شدت پسند تنظیم داعش کے ایسے جنگجوؤں نے کیا، جو عراقی پولیس کی وردیاں پہنے ہوئے تھے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق لاپتا فوجیوں کو داعش نے اغوا کرلیا ہے۔ واضح رہے کہ عراقی فوج گزشتہ برس انبار اور کرکوک سے داعش کا خاتمہ کرنے کے دعوے کر چکی ہے۔