یورپی ملک لیٹویا میں رشوت مانگنے پر مرکزی بینک کا گورنر گرفتار

60
لیٹویا میں رشوت مانگنے پر حراست میں لیے گئے مرکزی بینک کے صدر المارس رمسیوکس کی فائل فوٹو
لیٹویا میں رشوت مانگنے پر حراست میں لیے گئے مرکزی بینک کے صدر المارس رمسیوکس کی فائل فوٹو

ریگا (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی یونین کے رکن ملک اور بالٹک کی جمہوریہ لیٹویا میں مرکزی بینک کے گورنر کو رشوت مانگنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ دارالحکومت ریگا سے ملنے والی رپورٹس میں انسداد بدعنوانی کے محکمے کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ مرکزی بینک کے گورنر المارس رِمسیوِکس کو گزشتہ ہفتے کے اختتام پر حراست میں لیا گیا۔ لیٹویا میں بدعنوانی کی روک تھام کے محکمے کے سربراہ جیکبز شٹراؤمے نے صحافیوں کو بتایا کہ گورنر رِمسیوِکس نے ایک معاملے میں اپنے لیے ایک لاکھ یورو رشوت مانگی تھی۔ گرفتاری کے بعد ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ رِیگا میں پریس کانفرنس کے دوران انسداد بدعنوانی کے محکمے کے سربراہ نے صحافیوں کو بتایا کہ اسٹیٹ بینک کے گورنر نے اپنے سرکاری فرائض کی ادائیگی کے دوران ایک معاملے میں اپنے لیے ایک لاکھ یورو رشوت مانگی تھی۔ اس کا نتیجہ ان کی گرفتاری کی صورت میں نکلا اور اب ان کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق المارس رِمسیوِکس فرینکفرٹ میں یورپی مرکزی بینک کے بورڈ آف گورنرز کے رکن بھی تھے۔ حالیہ صورت حال کے بعد یورپی سینٹرل بینک نے لیٹویا کے تیسرے سب سے بڑے بینک اے بی ایل وی کو ہر قسم کی مالی ادائیگیاں بھی روک دی ہیں۔ اس بینک کے خلاف حال ہی میں امریکی محکمہ خزانہ نے الزام لگایا تھا کہ یہ یورپی مالیاتی ادارہ کالے دھن کو سفید بنانے کے عمل میں ملوث ہے۔ریگا میں کرپشن کے خلاف محکمے کے سربراہ کے مطابق مرکزی بینک کے سربراہ کی رشوت مانگنے پر گرفتاری اور یورپی مرکزی بینک کی طرف سے اے بی ایل وی کو مالی ادائیگیاں روک دینے کے واقعات کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔
لیٹویا ؍ گورنر بینک