کراچی میں اچانک دھند، کئی پروازیں معطل، بیماریاں پھیلنے کا خدشہ

501
پیر کی صبح کراچی میں اچانک دھند کی وجہ سے بیک وقت پی آئی اے کی کئی پروازیں منسوخ ہونے کی باعث لاؤنج میں بیٹھنے کی جگہ نہ رہی لوگ مسجد کیلیے مختص جگہ پر بھی بیٹھے ہوئے ہیں، چھوٹی تصویر دھند کی ہے (فوٹو جسارت)
پیر کی صبح کراچی میں اچانک دھند کی وجہ سے بیک وقت پی آئی اے کی کئی پروازیں منسوخ ہونے کی باعث لاؤنج میں بیٹھنے کی جگہ نہ رہی لوگ مسجد کیلیے مختص جگہ پر بھی بیٹھے ہوئے ہیں، چھوٹی تصویر دھند کی ہے (فوٹو جسارت)

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی میں پیر کی صبح اچانک گہری دھند چھا جانے کی بنا پر کاروبار زندگی معطل ہوگیا ۔ پیر کی صبح اچانک کراچی میں خصوصاً ضلع شرقی میں دھند چھانا شروع ہوگئی جو صبح ساڑھے7 بجے تک انتہائی گہری ہوگئی جس کی وجہ سے دیکھنے کی صلاحیت چند میٹر تک رہ گئی ۔ دھند چھانے کی بنا پر کراچی ائرپورٹ پر صبح 5 بج کر 10 منٹ پر فضائی آپریشن معطل کرنا پڑا جو تقریباً 5 گھنٹے تک معطل رہا۔ دھند چھٹنے کے بعد صبح 10 بج کر 5 منٹ پر کراچی میں
فضائی آپریشن بحال ہوسکا۔ اس عرصے میں کراچی ائرپورٹ پر ڈیڑھ درجن سے زائد پروازیں متاثر ہوئیں۔ کراچی آنے والی بین الاقوامی پروازوں کا رخ نواب شاہ ، قطر، ملتان اور لاہور کی طرف موڑ دیا گیا۔ کراچی ائرپورٹ پر پروازوں کی منسوخی کی بنا پر ان کو لینے کے لیے آنے والوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اور کراچی ائرپورٹ میں آمد لاؤنج پر انہیں خوش آمدید کہنے والوں کا ہجوم جمع ہوگیا۔ اسی طرح وہ پروازیں جنہیں کراچی سے روانہ ہونا تھا، کے مسافر بھی بروقت ائرپورٹ پر پہنچ گئے مگر پرواز روانہ نہ ہوسکنے کی بنا پر لاؤنج میں انتظار کرنا پڑا۔ اچانک پروازوں کی منسوخی سے ائرپورٹ کے اندر مسافر لاؤنج میں بھی ہجوم بڑھ گیا اور نشستیں کم پڑ گئیں جس کی بنا پر مسافر زمین پر بیٹھنے پر مجبور ہو گئے۔ دھند کی بنا پر سپر ہائی وے اور نیشنل ہائی وے پر بھی ٹریفک کی رفتار سست رہی تاہم کوئی حادثہ نہیں ہوا۔ اسی طرح کراچی آنے والی ٹرینیں بھی کراچی تاخیر سے پہنچیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق منگل کو موسم معمول کے مطابق رہے گا اور دھند ہونے کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔ محکمہ موسمیات نے دھند کی بڑی وجہ شہر کی فضا میں چھائے گرد و غبار کو قرار دیا ہے ۔ ماہرین کے مطابق پورے شہر میں سڑکوں پر ریت جمع ہے جو گاڑیوں کے چلنے کے ساتھ فضا میں بلند ہوجاتی ہے‘ موسم میں تبدیلی کے ساتھ شبنم اس ریت کے ساتھ مل کر خوفناک صورتحال اختیا رکرلیتی ہے‘ عام حالات میں سورج کے نکلتے ہی شبنم کے اثرات ختم ہونے لگتے ہیں مگر فضا میں ریت کے باریک ذرات ہونے کی بنا پر یہ دھند کئی گھنٹے تک فضا میں رہتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ایسی دھند کے موقع پر منہ پر ماسک لگا کر نکلا جائے‘ دوسری صورت میں یہ دھند دمہ اور سینے کے امراض کا باعث بن سکتی ہے ۔ طبی ماہرین نے اسکول جانے والے بچوں کے لیے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔