امریکا، اسرائیل اور بھارت خوف کا شکار

219

جاوید رشید

اسرائیل بھارت اور امریکا گٹھ جوڑ اور ان ملکوں کی پالیسیاں اب واضح160ہوگئیں ہیں کہ تینوں ممالک چین اور ایران و پاکستان کے خطے میں بڑھتے ہوئے تعلقات سے خائف ہیں، سی پیک تینوں ملکوں سے ہضم نہیں ہورہا ہے، آئے دن نت نئے فارمولے سامنے لائے جارہے ہیں کسی طرح سے ان تینوں ممالک کو نقصان پہنچایا جاسکے۔ تینوں ملکوں کے عالمی ایجنڈے کی روشنی میں اسرائیلی وزیراعظم 130رکنی بھاری بھرکم وفد کے ہمراہ بھارت تشریف لے گئے، مبصرین اس دورے کو خصوصی اہمیت دے رہے ہیں کیوں کہ اسرائیلی وفد میں معمول کے مطابق پارلیمانی رہنماؤں کے بجائے 10 عسکری کمپنیوں کے ماہرین اور سربراہان کی اکثریت تھی، یہ امر قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی وفد نے ایسے موقع پر بھارت کا دورہ کیا جب ایک ماہ قبل ہی انڈیا نے 500ملین ڈالر مالیت کے اسرائیلی میزائل کی خریداری کا معاہدہ منسوخ کردیا تھا، اسلحے کی خریداری کے اس معاہدے میں160اسپاٹک اینٹی ٹینک، گائیڈڈ میزائلوں کو خصوصی اہمیت حاصل تھی، بھارت کی جانب سے اس کی بڑی صنعتی فرم کلیانی گروپ، جب کہ اسرائیل کی جانب سے فائل ایڈوانس ڈیفنس سسٹم کے درمیان معاہدے پر دو سال پہلے دستخط ہوئے تھے، بھارت کی جانب سے اسرائیلی اسلحہ کی خریداری کا معاہدہ منسوخ ہونے سے نہ صرف اسرائیلی عسکری صنعت میں غم و غصہ پایا جاتا تھا، بلکہ اسرائیل کی امریکا میں مضبوط ترین لابی نے بھی بھارت کو معاہدہ منسوخ کرنے کے سنگین نتائج سے آگاہ کردیا تھا، یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کو لے کر خصوصی طیارہ نئی دہلی ائرپورٹ پر اترا تو بھارتی وزیراعظم تمام تر پروٹوکول بالائے طاق رکھتے ہوئے مہمان رہنماؤں کے استقبال میں گرم جوشی کے اظہار کے لیے ائرپورٹ لاؤنج پہنچ گئے۔ دونوں رہنماؤں کے دورے میں 50کروڑ ڈالر مالیت کے 3ہزار ٹینک شکن میزائلوں کی خریداری کا معطل معاہدہ بھی بحال ہوگیا ہے، غیرجانبدار عسکری ماہرین نے اسرائیل اور بھارت کے درمیان مختلف شعبوں میں ہونے والے ایک درجن سے زائد فوجی معاہدوں کو جنوبی ایشیاء کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا ہے۔ اسرائیل پہلے ہی انڈیا کو ہتھیار فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، ایک محتاط اندازے کے مطابق اسرائیل ہر سال بھارت کو ایک ارب 20کروڑ ڈالر سے زائد کا جدید ترین اسلحہ فراہم کررہا ہے۔ اسرائیل نے اب تک جدید ترین ہتھیاروں کی تیاری میں جو کامیابی حاصل کی ہے اس کی معاونت میں امریکا، روس، برطانیہ سمیت کئی یورپی ممالک شامل ہیں۔ بعض ممالک کے کھلے عام اسرائیل کی فوجی انڈسٹری کو فروغ دینے کے لیے تعاون کررہے ہیں تو کچھ ممالک خفیہ طور پر اسرائیل کی مدد کررہے ہیں۔ اسرائیل اور بھارت میں کشیدگی آگئی تھی اس کے خاتمے کے لیے بھی نادیدہ مغربی قوتوں نے کام دکھایا ہے۔
امریکی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی صدر کے عہدے پر کامیابی سے امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد خوش نہیں160ہے، حتیٰ کہ ٹرمپ کو ووٹ دے کر کامیاب کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد بھی اپنے منتخب کردہ صدر کی مخالف ہوگئی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور اسرائیلی صدر نتین یاہو میں جو قدر مشترک ہے وہ یہ کہ تینوں انتہا پسند مسلم مخالف سربراہان مملکت ہیں، تینوں کا مشترکہ ایجنڈا اسلام دشمنی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ جسے خود امریکا میں بہت سے لوگ دماغی مریض قرار دیتے ہیں وہ دراصل اسلام دشمنی میں اتنے اندھے ہوچکے ہیں کہ انہوں نے یک طرفہ طور پر ایران سے اوباما دور میں ہونے والا ایٹمی معاہدہ منسوخ کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا تھا، مگر آخری وقت میں اس وقت انہوں نے معاہدے پر نظرثانی کے لیے مدت میں اضافہ کردیا، جب ان کے نائبین نے سمجھایا کہ ایرانی حکومت ناجائز دباؤ میں نہیں آئے گی اور یورپی ممالک بھی یک طرفہ طور پر ایران کے خلاف کارروائیوں کے مخالف ہیں، دوسری جانب انہوں نے پاکستان کو بھی متعدد بار کھلی دھمکیاں دیں کہ اگر بقول ان کے پاکستان کے دہشت گردوں کو پناہ دینی جاری رکھی تو امریکا کارروائی کرے گا، دہشت گردوں کے خلاف مزید کارروائیوں کے دباؤ پر پاکستان نے بھی پہلی بار ایرانی طرز پر امریکا کو دلیرانہ جواب دے دیا، پاکستان کا کہنا تھا کہ اب ڈومور نہیں نومور ہوگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران اور پاکستان کی جانب سے امریکی دباؤ میں نہ آنے اور اصولی موقف اختیار کرنے کے باعث ڈونلڈ ٹرمپ انتہائی غصے میں160ہیں۔ تاہم اپنے مشیروں کی سفارشات کی روشنی میں ایران اور پاکستان سے نمٹنے کے لیے نئی اسٹرٹیجی مرتب کی ہے۔
اسرائیل اور بھارت کے درمیان حالیہ ناچاقی کا خاتمہ اور تعلقات میں گرم جوشی امریکا کی اس اسٹرٹیجی کے تحت پیدا کی گئی ہے امریکا نے ایک تیر سے دو شکار کھیلنے کی پالیسی اختیار کی ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ امریکا اور اسرائیل نے بھارت میں پاکستان کے خلاف اپنے نئے دفاعی اسٹیشن قائم کیے ہیں امریکا چین کو ہدف بنانے کے لیے بھارت علاقے ڈونگ کیلا میں اپنا دفاعی اسٹیشن قائم کرچکا ہے بلکہ اسرائیل نے جموں اور راجستھان میں بھارت کی دفاعی معاونت کے لیے اپنے اسٹیشن قائم کرلیے ہیں۔
باقی صفحہ9پر
جاوید رشید
یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ اسرائیل ہر صورت پاکستان اور ایران کے ایٹمی اثاثوں میں توسیع کا مخالف ہے۔ اس امر کی بھی نشاندہی ہوگئی ہے کہ امریکا اسرائیل اور بھارت پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو نقصان پہنچانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اسرائیل اور بھارت کے انٹیلی جنس اداروں نے جنڈیالہ میں160پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو مانیٹرنگ کرنے کے لیے ایک خفیہ سینٹر قائم کیا ہے جس کی سیکورٹی اسرائیلی موساد کے ذمے ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے بیت المقدس کو دارالحکومت بنانے کے منصوبے کے پیچھے سی آئی اے، موساد تھی وہ ترکی اور ایران کو فلسطینیوں کی مدد سے اور حماس کی سرگرمیوں کا خاتمہ کرسکیں، جس کے بعد امریکی صدر کو دشمن کی صورت میں صرف ایران اور پاکستان نظر آتے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کو دباؤ میں لانے کے لیے بھارتی دفاع کو محفوظ بنانے کا جھانسا دے کر اسے پاکستان کے خلاف اپنے اشارے پر استعمال کرنے کے لیے اس کا اسرائیل سے معاہدہ کرایا گیا۔ امریکا نے پورے جنوبی ایشیاء کے امن کو تباہ کرنے کے لیے جو اسٹرٹیجی مرتب کی ہے اس کے تحت جنوبی ایشیاء کے ممالک سے تعلق رکھنے والے تربیت یافتہ انجینئروں کو خریدنا اور اپنے مفاد میں استعمال کرنا ہے۔ ایرانی انٹیلی جنس قیادت نے امریکی سازشوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا کہ کس طرح امریکی خفیہ ایجنسیاں امریکا مخالف ممالک کے نوجوان سائنس دانوں بشمول روس، ایران، شمالی کوریا، کولمبیا اور پاناما کے علاوہ دوست ممالک سے تعلق رکھنے والے سائنس دانوں، دانشوروں اور بالخصوص ایٹمی سائنس دانوں کو امریکا میں مہمان کی حیثیت سے بلایا جاتا ہے۔ انہیں ترغیبات کے ذریعے اپنا ایجنٹ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے جس کے لیے برین واشنگ کرنے والے ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی یونیورسٹیاں جاسوسی کا گڑھ بن گئی ہیں۔ ایرانی انٹیلی جنس نے انکشاف کیا کہ ایف بی آئی اور سی آئی اے آج کل جنوبی ایشیاء کے نوجوانوں کو اپنا ایجنٹ بنانے کے لیے دنیا کی بھاری ترجیحات کے تحت گھیرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ چینی حکومت بھی ان حالات کو گہری نظر سے دیکھ رہی ہے، بعض عسکری ماہرین نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے بھارتی دورہ پر آنے سے قبل ہی کہہ دیا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ دنوں تک جو کشیدگی پائی جاتی تھی اس کے خاتمے کے لیے ڈوریاں مغرب اور امریکا سے ہلائی جارہی ہیں، امریکا کے لیے تو یہ محض ایک سفارتی کھیل ہے مگر اس نے پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگادیا ہے۔ بالخصوص مواصلاتی شعبے میں160پاکستان کا میگا پروجیکٹ سی پیک تمام طاقتوں کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے، یہ صرف ایٹمی طاقت ہے جس کی وجہ سے تمام سازشی تھیوریوں پروگرام کو رول بیک نہ کرنے کے نکتے پر امریکا اور یورپی ممالک کی آنکھوں میںآنکھیں160ڈال کر بات کررہی ہے، بیش تر ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران پہلے ہی محدود سطح پر ایٹمی ہتھیار تیار کرچکا ہے کچھ بھی کہا جائے امریکا اسرائیل، بھارت کا یہ گٹھ جوڑ پاکستان، ایران اور چین کا بال بھی بانکا نہیں کرسکے گا۔ البتہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت نے ایران سے اپنے تعلقات جس طرح160بہتر بنائے ہیں امریکا ایران، پاکستان کے اس بڑھتے ہوئے عسکری تعلقات سے نہ صرف خوف زدہ ہے بلکہ اس بڑے ملاپ کو شیعہ سنی فساد کے ذریعے سے سبوتاژ کرنے کا بھی منصوبہ رکھتا ہے۔ اس حوالے سے سی آئی اے علماء میں کام کرتی نظر آئی ہے۔ ایرانی عسکری قیادت اور پاکستان کی عسکری قیادت اس حوالے سے آنے والے خطرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ آنے والے دنوں میں چین کو کسی بڑے نقصان سے دوچار کرنے کے لیے سی آئی اے کے چیف متحرک ہیں۔ ان کے آئے دن کے بھارتی دورے اور اسرائیلی موساد سے رابطے کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ بھارت کو افغانستان میں نئی ذمے داریاں دینے کے لیے سی آئی اے جس طرح160سرگرم ہے ایران اور پاکستان کی اس پر گہری نظر ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس وقت دنیا کی چھ بڑی ایٹمی قوتوں امریکا، اسرائیل، بھارت، چین، ایران اور پاکستان خطے میں پنجہ آزما ہیں کوئی بھی بڑی غلطی خطے میں ایٹمی جنگ کی فضا کو راستہ دے سکتے ہیں۔ ایسے حالات کی تمام ذمے داری امریکا، اسرائیل، بھارت پر ہوگی۔