عدالتی اور احتسابی اداروں کی ترجیحات، ٹھوس نتائج

159

وقاص احمد

اگر ملک کی گزشتہ چھ ماہ کی سیاسی صورت حال پر غور کیا جائے اور خبروں کی سطح پر تیرنے کے بجائے ان میں غوطہ زن ہوا جائے تو نتیجہ یہ سامنے آتا ہے کہ حقیقی احتسابی معاملات میں، چوری و غبن اور اقربا پروری کے مقدمات میں ہر طرف غلغلہ زیادہ مچ رہا ہے ٹھوس کام، مثبت سمت میں بہت ہی سست روی کا شکار ہے۔ البتہ اس شور شرابے میں پرنٹ میڈیا کو اپنے صفحات کالے کرنے اور الیکٹرونک میڈیا کو اپنا ائر ٹائم اچھے داموں مْکانے کا نادر موقع مل رہا ہے۔ اور اب تو عوام کی حالت یہ ہے کہ وہ اپنے بے وقوف بننے کا بھی بے حسی سے مزا لیتے ہیں۔
28 جولائی 2017ء کو نواز شریف کی نااہلی کے بعد یہ توقع کی جارہی تھی کہ جب ملک کے سب سے بڑے صوبے سے تعلق رکھنے والی سب سے بھاری سیاسی شخصیت پر اعلیٰ عدلیہ اْس سے بھی زیادہ بھاری ہاتھ رکھ سکتی ہے اور بے باکی اور آزاد ی کے ساتھ کرپشن کے خلاف جنگ کا آغاز کر سکتی ہے تو پھر اگلے چھ مہینوں میں معاملات تو کافی آگے جائیں گے۔ دیگر صوبوں، خاص طور پر سندھ میں لوٹ مار اور لوگوں کی حالت زار پر عدلیہ خاص نظرِ کرم کرے گی۔ امید تھی کہ احتساب کا معرکہ کثیر الجہت ہوگا۔ گو کہ اس دوران سندھ میں عدلیہ کی طرف سے صرف بْری نہیں بلکہ مجرمانہ گورننس کے معاملے میں از خود نوٹسوں کے بعد کارروائی کا آغاز ہوا، سماعتیں شروع ہوئیں جس سے میڈیا میں سنسنی پھیلی لیکن مجھے بتائیں کیا ابتر حکمرانی کا کسی کو ذمے دار ٹھیرایا گیا؟ کوئی ایک شخص بھی بتایا جائے جو بدعنوانی اور کرپشن میں مجرم قرار پایا ہو؟ عزیر بلوچ، ڈاکٹر عاصم، شرجیل میمن، بلدیہ ٹاؤن جے آئی ٹیز کا کیا بنا؟ حالاں کہ ان مقدمات کو مکمل کرنا اور انجام تک پہنچانا عدالتوں اور نیب کا پہلا قدم ہونا چاہیے تھا۔ یہ ضرور ہے کہ فوری نوٹس اور عبوری اقدامات کے ذریعے کچھ فوائد حاصل ہو جاتے ہیں جیسے عوام کی ایک بڑی تعداد کو نظام سے امیدیں لگیں رہتی ہیں اور وہ خطرناک حد تک مایوس ہونے سے رک جاتے ہیں اس کے علاوہ اداروں کی ساکھ کو وقتی سہارا بھی مل جاتا ہے۔
حالاں کہ غور کریں تو سندھ میں عدلیہ کے بہت سارے سوموٹو اقدامات کے باوجود وزیر اعلیٰ سندھ یا وزراء زیادہ احتجاج نہیں کر رہے بلکہ بالکل بھی نہیں کر رہے۔ جب کہ اگر خلوص سے ٹھوس کام کیے گئے ہوں تو حکومت فوراً اس کا حوالہ دیتی ہے، اپنے کام کا دفاع کرتی ہے اور بے جا تنقید اور انتظامی معاملات میں عدلیہ کی مداخلت کی مزاحمت کرتی ہے لیکن ہم سندھ میں دیکھتے ہیں کہ سب معصوم بن کر روبوٹ کی طرح عدلیہ سے تعاون کر رہے ہیں اور ڈھٹائی سے اسی پر خوش ہیں کہ کم از کم کسی کے خلاف شخصی کارروائی نہیں ہورہی۔ سب صادق اور امین ہیں اور اگلا الیکشن زندہ باد۔ عدالتوں کی اپنی قانونی مجبوریاں ہوسکتی ہیں لیکن جو تاثر عوام میں جا رہا ہے اس کا انہیں احساس ہونا چاہیے۔
بقول ایک مشہور صحافی کے ’’اسٹیبلشمنٹ ان سب رپورٹوں اور مقدمات سکو خاص وقتوں کے لیے سنبھال کر رکھتی ہے تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے‘‘۔ یہ طریقہ کار ریاستِ پاکستان کے لیے قطعاً سود مند نہیں ہے۔ نظریہ ضرورت اور ’’مفاہمت‘‘ کے ڈاکٹرائن سے پہلے ہی بہت نقصان اٹھایا جا چکا ہے۔ ان چیزوں سے پھر اْس بیانیے کو تقویت ملتی ہے جو کہتا ہے کہ شیخ مجیب غدار نہیں تھا اسے غدار بنایا گیا۔
آخر کیا ضرورت پڑتی ہے اداروں کو مفاہمت کی؟۔ پاکستان سے محبت کرنے والوں، اس کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں کے لیے یہ بات بہت پریشان کن ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ کیسے ہوسکتا ہے کہ پانچ سو ارب کی کرپشن کے کیس میں دس لاکھ کی کرپشن بھی برآمد نہ ہو۔ جس پر الزام ہو اسے HEC سندھ کا چیئرمین لگا دیا گیا ہو۔ عوام کے ساتھ مذاق کب تک چلے گا؟ حدیبیہ پیپرز، آشیانہ اسکیم، ملتان میٹرو کے مقدمات کی صورت حال سے بھی یہی لگتا ہے یہ برسات میں نکلنے والے پتنگوں کی طرح اپنی طبعی عمر پوری کرنے کے بعد فنا ہوگئے ہیں۔
ملک میں رونما ہونے والے دیگر واقعات بھی کسی طویل دورانیے کے ڈرامے کا منظر ہی پیش کر رہے ہیں۔ طاہر القادری کی تحریک کا بلبلہ ہو یا پیر حمید الدین سیالوی کی تحریک کا ماچسی شعلہ، قدم قدم پر آپ کو ہنسی اور رونا آئے گا۔ جو ’’مفاہمت‘‘ کی خبریں سیالوی خاندان کے متعلق آرہی ہیں وہ بھی چشم کشا ہیں۔ زینب کیس بھی اچانک منظر سے غائب ہے اور اس کی جامع تحقیقات کی کوئی خبر نہیں آرہی۔ عابد باکسر نے شاید سب کو ناک آؤٹ کردیا ہے۔ حتّٰی کہ نواز شریف صاحب اور ان کے خاندان کی نیب پیشیوں کی کوئی سلسلہ وار رپورٹنگ نہیں ہورہی کہ نیب کے وکیل کیا شواہد اور وکیلِ صفائی کیا صفائی پیش کر رہے ہیں۔
چیف جسٹس اور نیب چیئرمین سے میری گزارش ہے کہ بڑے، کھلے، عریاں مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانے کی پوری کوشش کریں۔ جن میں صرف جرم نہیں بلکہ مجرم کا بھی تعین ہو۔
باقی صفحہ9پر
عوام نے آئین و قانون کے ذریعے آپ کو جو اختیارات دیے ہیں اسے بھرپور طریقے سے استعمال کرنے کا اس سے اچھا موقع شاید پھر نہ ملے۔ واضح رہے کہ اس نازک موقع پر ریاستی، آئینی اداروں کی طرف سے سست روی، غیر ذمے داری، مفاہمت پسندی یا بھائی بندی کا تاثر اگلے الیکشن کے لیے بہت نقصاندہ ثابت ہوگا۔ استحکامِ پاکستان کے لیے منفی ہوگا۔ کیا پاکستانی عوام یہ سمجھیں کہ ضیاء دور کے بعد پاکستان میں ایک دو ہی شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے پاکستان کو اس معاشی بدحالی اور عوام کو انتہائی ابتر صورت حال تک پہنچایا؟ پچھلے بیس پچیس سال میں ہونے والی کرپشن اور لوٹ مار کی ذمے دار ایک دو شخصیات ہی ہیں جو نااہلی کی حق دار ہیں اور باقی سب پارسا اور پارلیمنٹ میں جا کر عوام پر حکمرانی کے لیے اہل ہیں؟