عوام کو شناختی کارڈ سے محروم کرنا سراسر ظلم ہے‘حافظ نعیم 

295
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن‘ یونس بارائی اور دیگر نادرا کے خلاف ضیاء الحق کالونی میں احتجاجی جلسے سے خطاب کررہے ہیں
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن‘ یونس بارائی اور دیگر نادرا کے خلاف ضیاء الحق کالونی میں احتجاجی جلسے سے خطاب کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے 2 مرتبہ ہجرت کرنے والے ، بہاری اور پشتوبولنے والے پختون اور بنگلا زبان بولنے والے محب وطن پاکستانی ہیں، ان کو شناختی کارڈز سے محروم کرنا سراسر ظلم اور زیادتی ہے ، قومی شناختی کارڈ ان کا حق ہے ، جماعت اسلامی نادرا سے مسائل کے حل تک جد و جہد جاری رکھے گی ، عوام 20 فروری کو ایک بجے
دن ڈی جی نادرا آفس کے باہر احتجاجی دھرنے میں بھر پور شرکت کریں ، نواز حکومت نے مردم شماری میں کراچی کی آبادی کم ظاہر کرکے کے 4 منصوبے کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضیا الحق کالونی میں نادرا کے خلاف احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، جلسے سے امیر ضلع شرقی یونس بارائی ، طاہرامیر الحسن ، سابق ایم پی اے سید محمد قطب ، کونسلر قاری شریف اور دیگر بنگلا کمیونٹی کے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا ، جماعت اسلامی کراچی کے سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری اور دیگر بھی موجود تھے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ شہر قائد میں رہنے والے بنگالی مشرقی پاکستان سے ہجرت کر کے آنے والے محب وطن پاکستانی ہیں ، قائد اعظم نے بھی ان کے اباؤ اجداد کو شیر بنگال کہا تھا ، جماعت اسلامی ہر زبان بولنے والوں کو شناختی کارڈ دلانے میں ان کی ہر ممکن مدد اور ان کے لیے جدو جہد کرتی رہے گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکمران بنگالیوں کو بنیادی ضروریات سے محروم کر رہے ہیں جبکہ جماعت اسلامی نے پولیس کے ظلم سے بنگالیوں کو بچانے کے لیے پولیس اور رینجرز سے رابطہ کیا ، ہم نے ان کے مسائل کو حل کر نے کی کوشش کی ، دوسری کسی سیاسی جماعت نے کچھ نہیں کیا ۔انہوں نے کہا کہ وفاق میں موجود ن لیگ نے کراچی کے لیے کچھ نہیں کیا بلکہ ن لیگ نے تو کراچی کی عوام کا حق مارنے کی کوشش کی ہے ، انہوں نے مردم شماری میں کراچی کی آبادی کم ظاہر کرکے کے 4 منصوبے کو ختم کرنے کی کوشش کی ، جس کے خلاف پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے کوئی آواز نہیں اٹھائی ، جماعت اسلامی نے عوامی مسائل کو حل کر نے کی بھر پور کوشش کی ، جماعت اسلامی نے نعمت اللہ خان اور عبد الستار افغانی کے دور حکومت میں عوام کی بہت خدمت کی ہے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ نادرا نے ظلم و ناانصافی کی انتہا کر دی ہے ، متحدہ اپنی سیاست کے لیے بنگالیوں اور بہاریوں کا استعمال کر کے انہیں سڑکوں پر لاتی رہی ، اس نے ان کے مسائل حل کرنے کے بجائے ان پر ظلم کی انتہا کر دی ۔ سب سے زیادہ مظلوم بنگالی ہیں ، ایم کیو ایم نے 32 سال میں شہر کو کھنڈر بنا دیا ، شہر قائد میں چند برس قبل تک الطاف حسین کے کہنے پر پورا شہر بند ہو جاتا تھا ، آج وہ صورتحال نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ بلدیہ کے ذمے داروں کو قرار واقعی سزا ضرور ملنی چاہیے ، خواہ ان کا تعلق کسی بھی سیاسی پارٹی سے ہو ۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں اب نفرتوں کے ذریعے عوام کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا ، تمام زبانوں کے لوگ ایک ہی امت ہیں ، جماعت اسلامی نے ہر رنگ و نسل کے لوگوں کو ایک کیا ، پاکستان کے لیے قر بانیاں دینے والوں کے ساتھ اب ظلم برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ حافظ نعیم نے کہا کہ گزشتہ دھرنے کے بعد ڈی جی نادرا تک بھی ہمارا پیغام پہنچا ہے ، نادرا کے خلاف مسائل کے حل تک جدو جہد جاری رکھیں گے۔ جنہوں نے ملک کی خاطر 2 ہجرتیں کیں ، انہیں ملک سے محبت کی سزادی جا رہی ہے ، جن لوگوں نے ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کیا ہے ، انہیں شہری کا درجہ بھی نہیں دیا جا رہا ، بنگلا بولنے والوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے، انہوں نے اردو زبان اور آل پاکستان مسلم لیگ کی تحریک چلائی تھی ، قیام پاکستان کے لیے بھارت میں بنگالیوں نے سب سے زیادہ قربانیاں دی تھی ۔یونس بارائی نے کہا کہ نادرا نے اگر بنگلا زبان بولنے والے مظلوم بنگالیوں کے مسائل حل نہ کیے ، تو ان کے خلاف جماعت اسلامی آواز اٹھائے گی ، کسی بھی قوم کو زبان رنگ و نسل کی بنیاد پر تعصب کا نشانہ نہیں بنانے دیں گے ۔ بنگالیوں کوبھی حقوق حاصل کرنے کے لیے گھروں سے نکلنا ہوگا ۔ طاہر امیر الحسن نے کہا کہ بہاری ، بنگالی اور پختون متاثرین نادرا کی جانب سے مسائل کے باعث نفسیاتی مریض بنتے جا رہے ہیں ، جماعت اسلامی ان مظلوموں کی آواز بنی ، پہلے نادرا والے ان سے قومی سناختی کارڈ کے اجرا پر رشوت مانگتے تھے ، نادرا نے رشوت کے لیے ہر قوم و نسل کے لوگوں کو پریشان کیا ہے ، جماعت اسلامی عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے نہیں دے گی ، آپ کی مدد سے شہر کے حالات بدلیں گے ۔ سیدمحمد قطب نے کہا کہ محلات میں رہنے والے مسائل سے واقف نہیں ہے ، وفاق اور سندھ کے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں کو غریب عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے ، وہ عوام کے پاس صرف ووٹ مانگنے آتے ہیں ، اس کے بعد 5 برس تک انہیں عوام کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ، تمام مظلوموں کو نادرا والوں کے ظلم کا مقابلہ کرنے کے لیے گھروں سے نکلنا ہوگا ۔