کار چوری کے انسداد کے لیے نئی موبائل ایپ متعارف

171

شہریوں کا کہنا ہے پولیس اگر وقت کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اپنے فرائض میں شامل کرتی چلی جائے تو عوام کو کئی جرائم سے چھٹکارا ملتا چلا جائے گا۔

وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے کار چوری کی روک تھام کے لئے موبائل ایپلیکشن متعارف کروا دی ہے۔ موبائل ایپ کو ‘پارک سیکیور’ کا نام دیا گیا ہے اور اسے پولیس ملازمین کے موبائلز میں فعال کر دیا گیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق محکمے کے اہلکاروں نے نجی بینک کے اشتراک سے شروع کی گئی ایپ کے ذریعے ابتدائی طور پر شہر کے اتوار بازاروں میں کام شروع کردیا ہے اور امید ہے اس اقدام سے کار چوری کے انسداد اور شہریوں کا پولیس پر اعتماد بحال کرنے میں مدد ملے گی۔

پولیس حکام کے مطابق پارکنگ میں گاڑیوں کا داخلہ اور خروج اب کارڈ اسکیننگ سے مشروط ہوگا۔

پولیس انسپکٹر نے میڈیا کو بتایا کہ وفاقی پولیس کی جانب سے ڈیجیٹیلائزیشن کا آغاز ہوچکا ہے۔ اس سسٹم سے ہر داخل اور خارج ہونے والی گاڑی کا ریکارڈ ہونے کے ساتھ ساتھ گاڑی چوری کی وارداتوں میں کمی آئے گی۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ نئے سسٹم سے بازاروں میں کار چوری سو فیصد رک جائے گی۔

وفاقی پولیس کے اس اقدام پر شہری اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ نیا سسٹم بہت اچھا ہے اور “اس سے گاڑیوں کی سیکورٹی ہو گی یہ ہماری سیفٹی کی ایپ ہے۔ پولیس اہلکار کارڈ دیتے ہیں اس سے چوری کی وارداتوں میں کمی آئے گی پولیس کی جانب سے اچھا اقدام ہے۔”

شہریوں کا مزید کہناتھا کہ پولیس اگر وقت کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اپنے فرائض میں شامل کرتی چلی جائے تو عوام کو کئی جرائم سے چھٹکارا ملتا چلا جائے گا۔

گاڑیوں کی چوری کی روک تھام کے لیے اسلام آباد پولیس کا اینٹی کارلفٹنگ سیل بھی کام کررہا ہے۔ گزشتہ سال جڑواں شہر راولپنڈی میں موٹرسائیکل اور گاڑیاں چھننے و چوری کی کل 1263 جبکہ 2016 میں 1060 وارداتیں ہوئیں۔ وفاقی دارالحکومت میں 2017 میں گاڑی چوری کی 430 اور 2016 میں 704 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔