چو بیس ارب کی مبینہ کرپشن پر نیشنل ہائی وے کے سابق چیئرمین کیخلاف گھیرا تنگ

177
قومی احتساب بیورو(نیب) نے کراچی تا لاہور موٹر وے عبدالحکیم سکشن کے ٹھیکے میں 24 ارب روپے کی مبینہ کرپشن کے انکشاف پر نیشنل ہائی وے (این ایچ اے) کے سابق چیئرمین شاہد اشرف تارڑ کو سمن جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

شاہد اشرف تارڈ پر الزام ہے کہ انہوں نے اگست 2015 میں 230 کلو میڑ طویل کراچی تا لاہور موٹر وے کا 134 ارب کا ٹھیکہ 148 ارب روپے میں تفویض کیا۔

نیب کے ایک ذمہ داران نے میڈیا کو بتایا کہ ‘پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبہ ایم 4 میں غیر معمولی بے ضابطگیوں کے انکشاف پر تحقیقات کا عمل شروع کردیا ہے’۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ‘نیب این ایچ اے کے سابق چیئرمین کی طلبی کا سمن جاری کرے گا جو ورلڈ بینک میں پاکستان کی جانب سے چیف ایگزیکٹو کے فرائض 3 سال سے ادا کررہے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل (ٹی آئی) کی درخواست پر نیب نے شاہد اشرف تارڈ کے خلاف انکوائری کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ کے ٹی آئی نے کراچی تا لاہور موٹر وے کی تعمیراتی پراجیکٹ میں مبینہ کرپشن کے خلاف دوسال قبل شکایت درج کرائی تھی تاہم اس وقت نیب کے چیئرمین قمر زمان کائرہ تھے جنہوں نے مشتبہ ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔

اس ضمن میں خیال رہے کہ قمرزمان کائرہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے قریبی ساتھیوں میں ہیں۔

نیب کے موجودہ چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی شکایت پر کارروائی کرنیکا فیصلہ کرلیا ہے۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ اگر تفتیش کے دوران ٹھوس شواہد ملے تو موجودہ حکومت کے خلاف ایک اور ریفرنس تیار ہو جائے گا’۔

نیب کے ترجمان نے بتایا کہ بیوروکے چیئرمین نے اس معاملے پر انکوائری کا حکم دے دیا ہے تاہم کسی کو اس کی سیاسی وابستگی کے بنیاد پر نشانہ نہیں بنا یا جائے گا بلکہ میڑٹ کو ترجیح حاصل ہو گی۔

انہوں نے تبایا کہ نیب کے چیئرمین نے راولپنڈی بیورو کے ڈائریکٹر جنرل کو الزامات کے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

خیال رہے کہ فرینٹئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کو کراچی یا لاہور موٹر وے پراجیکٹ میں بولی لگانے سے روک دیا تھا، این ایچ اے کی انتظامیہ کا خیال تھا کہ ایف ڈبلیو او پہلے ہی متعدد وسیع پراجیکٹس میں مصروف ہے حالاں کہ ایف ڈبلیو او نے موٹر وے کی تعمیرات کے لیے 134 ارب روپے کی بولی لگا ئی تھی جبکہ این ایچ اے کے چیئرمین کی جانب سے ٹھیکہ 14 ارب روپے زیادہ یعنی 148 ارب روپے میں کسی دوسرے ٹھیکیدار کو تفویض کردیا گیا۔