عوام کاووٹ کسی کو قانون سے بالا تر نہیں بناتا،عمران خان

40
اسلام آباد، عمران خان عمر ایوب کے کندھے پر پارٹی پرچم ڈال رہے ہیں
ISLAMABAD: Pakistan Tehreek-e-Insaf Chairperson Imran Khan giving party flag to Omar Ayub Khanafter joined PTI on Saturday. Chief Minister Khyber-Pakhtunkhwa Pervez Khattak was also present at the meeting.INP PHOTO

اسلام آباد (خبر ایجنسیاں) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پیغام میں کہا ہے کہ عدالتی فیصلوں پر تنقید کرنے والے قوم و ملک کی خدمت نہیں کررہے بلکہ اداروں کو کمزور کرنے کا باعث بن رہے ہیں،عوام سے ووٹ لے کر آنا کسی کو قانون سے بالاتر نہیں بنا سکتا، عوامی عدالت سے رجوع کرنے کی آڑ میں عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے شریف باپ اور بیٹی کی جانب سے ریلی کے نام پر رچایا جانے والا تماشا اب بند ہونا چاہیے۔عمران خان نے کہا کہ ہر کوئی جانتا ہے کہ دنیا بھر کے جمہوری ممالک میں عوام ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں مگر انصاف کی فراہمی عدلیہ ہی کی ذمے داری ہے اسی طرح ریاستی ادارے کرپشن کا کھوج لگانے اور کرپشن کو بے نقاب کرنے کے پابند ہیں جبکہ شریف خاندان کی منطق ہے کہ جو ایک مرتبہ ووٹ لے کر آجائے وہ قانون سے بالاتر اور ہر قسم کی باز پرس سے مبرا قرار دے دیا جائے۔چیئرمین تحریک انصاف نے مزید کہا کہ عدلیہ اور عدالتی فیصلوں پر تنقید کرنے والوں کو جنوبی افریقا کی طرف دیکھنا چاہیے جہاں افریقن نیشنل کانگرس نے کرپشن کے الزامات پر اپنے لیڈر زوما کو گھر بھیج دیا جبکہ اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کو بھی کرپشن کے الزامات پر پولیس کی تفتیش کا سامنا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی کا ووٹ لے کر منتخب ہونا اسے قانون سے بالاتر نہیں بنا دیتا۔ علاوہ ازیں تحریک انصاف کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں وفاق اور پنجاب حکومت کے کرپشن مقدمات سامنے لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ اینٹی کرپشن کمیٹی بھی قائم کردی ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی منفی باتوں کا مثبت انداز میں جواب دیں گے، شریف فیملی کی بدعنوانی چین کے ادارے نے پکڑ لی۔ انہوں نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت دی کہ رکنیت سازی مہم کے لیے ملک بھر میں کیمپس لگائے جائیں، الیکشن لڑنے کے خواہشمند رکنیت سازی مہم میں حصہ لیں، اگلے مہینے سے پارلیمانی بورڈ کام شروع کر دے گا۔اجلاس کے دوران عمران خان نے پشاور میں رکنیت سازی مہم پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر ہفتے رکنیت سازی مہم کا جائزہ لوں گا، لودھراں الیکشن سے سبق سیکھیں، وہاں ہم بہت زیادہ پراعتماد ہو گئے تھے، کے پی میں بھی ہم ضرورت سے زیادہ پْراعتماد ہو رہے ہیں۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن اگست ستمبر کے بعد عام انتخابات کا سوچ رہا ہے، الیکشن سے 5 ماہ پہلے منشور لانا قبل از وقت ہو گا، پارٹی منشور پر کام ہو رہا ہے، ایک منشور پورے ملک جبکہ دوسرا ہر حلقے کے لیے لائیں گے۔عمران خان نے مزید کہا کہ شریف فیملی والے 300 ارب روپے کا حساب دینے کو تیار نہیں، حساب مانگا جائے تو وہ سڑکوں اور پلوں کی بات کرتے ہیں، شریف فیملی کے رائے ونڈ فارمز کے اخراجات بھی چیلنج کریں گے، رکنیت سازی مہم بھرپور انداز میں چلائیں گے، پنجاب میں ہمارا ون آن ون مقابلہ ن لیگ سے ہے، پیپلز پارٹی کا پنجاب میں وجود ختم ہو چکا۔