مغربی کنارے کی 5یہودی کالونیاں فلسطینیوں کیلیے مصیبت

228
الخلیل: مسجد ابراہیمی میں اسرائیلیوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل عام کی 24ویں برسی کے موقع پر نمازِ جمعہ کے بعد نکالی گئی ریلی کو قابض فوج تشدد کرکے منتشر کر رہی ہے
الخلیل: مسجد ابراہیمی میں اسرائیلیوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل عام کی 24ویں برسی کے موقع پر نمازِ جمعہ کے بعد نکالی گئی ریلی کو قابض فوج تشدد کرکے منتشر کر رہی ہے

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) فلسطین کے دیگر شہروں کی طرح وادی اُردن کا علاقہ بھی یہودی توسیع پسندی اور آباد کاری کی زد میں ہے۔ جہاں پہلے ہی استیصال کے شکار فلسطینیوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے ایسے میں علاقے میں قائم کی گئی 5 یہودی کالونیوں نے مکینوں پر ایک نئی مصیبت مسلط کردی ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مقامی فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ صہیونی ریاست نے ایک سازش کے تحت وادی اُردن کو یہودی آباد کاری کا نیا مرکز بنا دیا ہے۔ 60 سالہ فلطسینی فتحی دراغمہ نے بتایا کہ شمالی غرب اُردن اور وادی اُردن کے شمالی علاقوں میں فلسطینیوں کی مشکلات 60 سال پر محیط ہیں۔ اہل علاقہ گزشتہ 6 عشروں سے صہیونی ریاست کے مظالم کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوج فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کرتی ہے اور وہ پھر بنا لیتے ہیں۔ یوں مسماری اور تعمیر کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ وادی اردن بالخصوص عین الحلوہ کے علاقے میں رہنے والے فلسطینی دیہاتی بنیادی انسانی سہولیات سے محروم ہیں۔ کچی جھونپڑپوں میں گزر اوقات کرنے والے فلسطینیوں کو نہ توسڑکوں کی سہولت ہے، نہ اسپتالوں اور تعلیمی سہولیات میسر ہیں۔اس کے مقابلے میں غرب اردن میں قائم کی گئی یہودی کالونیوں کے آباد کاروں کو ہرطرح کی سہولت حاصل ہے، مگر فلسطینیوں کے ساتھ مسلسل امتیازی سلوک جاری ہے۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ شمالی وادی اردن کے ان قصبوں کی آبادی طابو میں رجسٹرڈ ہے جب کہ عین الحلوہ کی آبادی 500 نفوس پر مشتمل ہے۔ ان میں سے زیادہ تر الفقہا خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ غرب اردن کے سیکٹر بی میں مشرق کی سمت میں عین البیضا بھی ان علاقوں میں شامل ہے جس کی فلسطینی آبادی صہیونی ریاست کی انتقامی پالیسی کا شکار ہے۔
یہودی کالونیاں