امریکا پہاڑوں سے نہ ٹکرائے ، افغان مسئلہ مذاکرات ہی سے حل ہوگا سراج الحق

299
لاہور:امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق منصورہ میں مرکزی تربیت گاہ کے شرکاسے خطاب کررہے ہیں
لاہور:امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق منصورہ میں مرکزی تربیت گاہ کے شرکاسے خطاب کررہے ہیں

لاہور( نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے طالبان کی طرف سے امریکی عوام اور کانگریس کے ارکان کے نام ایک کھلے خط میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بات کو دوہرایاہے کہ افغانستان کا مسئلہ مذاکرات سے ہی حل کیا جاسکتاہے ۔ ان کا یہ مطالبہ مبنی بر حق ہے۔ انسانی تاریخ میں جنگوں کے فیصلے بالآخر مذاکرات کی میز پر ہوئے ہیں ۔ امریکا سترہ سال سے افغانستان کے پہاڑوں سے سر ٹکرا رہاہے لیکن اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ۔ امریکا کی
سب سے بڑی غلطی افغانستان پر اتحادی افواج کے ذریعے حملہ تھا ۔ افغانستان کی خود مختاری اور سا لمیت پر براہ راست حملہ کیا گیا جس کا مقابلہ افغانوں نے اپنے ملک کے تحفظ کی خاطر کیا ۔ امریکی حملے سے لاکھوں افراد شہید اور زخمی ہوئے لیکن انہوں نے ہار نہیں مانی ۔ افغانوں کی سابقہ تاریخ کو امریکا سامنے رکھے اور وہاں مزید خون خرابہ نہ کرے ۔ امریکا اگر سو سال بھی قوت استعمال کرتا رہے تو وہ افغانستان میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتا ، لہٰذا امریکا ہوش کے ناخن لے اور طالبان کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش کو غنیمت سمجھے اور مذاکرات کے ذریعے ہی مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے منصورہ میں جاری پانچ روزہ مرکزی تربیت گاہ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سید لطیف الرحمن شاہ بھی موجود تھے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ بھارت کے دباؤ پر امریکا کی طرف سے پاکستان کو دہشتگردی میں معاونت کرنے والے ممالک کی واچ لسٹ میں شامل کرنا شرمناک ہے جب کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 28 سال سے ریاستی دہشتگردی کر رہاہے ۔ حکومت پاکستان حقائق دنیا کے سامنے لائے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی سفارتکاری اس معاملے میں ناکام ہے ۔ ایک دہشتگرد ملک ہمیں دہشتگرد قرار دلوانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہاہے ، حالانکہ پاکستان کی فوج نے دہشتگردی کے خلاف موثر کاروائیاں کر کے کافی حد تک اس پر قابو پالیا ہے اور اکثر ممالک اس کے معترف بھی ہیں ۔ حکومت کو اس سلسلہ میں مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ اداروں کے ٹکراؤ سے ملک میں جمہوریت کا وجو د خطرے میں پڑ سکتاہے اور اداروں کے کام میں رکاوٹ اور مداخلت سے جمہوری نظام تلپٹ ہوسکتاہے ۔ سینیٹ کے الیکشن میں خرید و فروخت کا راستہ نہ روکا گیا تو ایوان تجارتی منڈیاں بن جائیں گے ۔ سرمایہ لگا کر ایوانوں میں پہنچے والے قومی سرمایہ لوٹیں گے ، ان سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ انتخابی عمل پر عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے اس خرید و فروخت کو روکنا ہوگا ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ اداروں کو آزادانہ کام کرنے کا موقع نہ ملے اور ادارے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی بجائے ٹکراؤ کا راستہ ا ختیار کر لیں تو پورے نظام کو لے ڈوبتے ہیں ۔ ملک میں اداروں کو ایک دوسرے کا دست و بازو بن کر آگے بڑھنا چاہیے ۔ اداروں کے درمیان ٹکراؤ کی جو کیفیت نظر آرہی ہے اس سے جمہوریت کے وجود کو خطرا ت لاحق ہو گئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں جمہور ی نظام کے تسلسل کے لیے ضروری ہے کہ ادارے اپنی اپنی حدود میں رہتے ہوئے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کریں۔ انہوں نے کہاکہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے یا ایک دوسرے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کرنے سے نظام آگے نہیں بڑھ سکے گا بلکہ اس کے تباہ کن اثرات سامنے آئیں گے ۔ سینیٹر سراج الحق نے سینیٹ میں ممبران اسمبلی کی خرید و فروخت کی خبروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔انہوں کہاکہ الیکشن کمیشن کو اس صورتحال کا فوری نوٹس لیناچاہیے ۔اگر ممبران اسمبلی کی خرید و فروخت کو نہ رو کا گیا تو ایوان اتوار بازاروں کا منظر پیش کریں گے اور ایوانوں میں پہنچنے والے قانون سازی یا قومی معاملات پر غور و فکر کرنے کی بجائے قومی سرمائے کو لوٹ کر اپنی تجوریاں بھریں گے ۔