دلدل میں پھنسے سیاستدان

439

ویسے تو پاکستان کی سیاست پل پل کروٹیں بدلتی ہے لیکن اس وقت تو پلٹے کھارہی ہے۔ ماضی میں ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے والے طاہر القادری اور آصف زرداری مل بیٹھے ہیں۔ گزشتہ دنوں عمران خان نے بھی زرداری کے ساتھ بیٹھنے کا عندیہ دیا تھا۔ ان سیاسی جماعتوں کا مشترکہ ہدف نواز وشہبازشریف سمیت پوری مسلم لیگ ن ہے۔ اورہر ایک کی نظر یں اقتدارپر لگی ہوئی ہیں۔ آصف زرداری ہوں یا عمران خان، دونوں کا دعویٰ ہے کہ اقتدار انہی کو ملے گا اور ن لیگ کی طرف سے کہاجارہاہے کہ شیروانیاں سلوانے والوں کو مایوسی ہوگی یعنی 2018ء کے انتخابات میں بھی ن لیگ ہی جیتے گی۔ گھوڑا دور نہ میدان کے مصداق ، کل سے نیا سال شروع ہورہاہے جس میں قوی امکان ہے کہ عام انتخابات ہوجائیں گے گو کہ کچھ لوگوں کو خواب نظر آرہاہے کہ انتخابات نہیں ہوں گے۔ لیکن انتخابات کے ذریعے حکومت سازی نہیں ہوگی تو پھر کیاہوگا؟ کیا ایسے لوگ ایک بار پھر غیر جمہوری حکومت کی آس لگائے ہوئے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایوان بالا میں پاک فوج کے سالار جنرل باجوہ نے تو یقین دلایا ہے کہ فوج جمہوریت کے ساتھ ہے اور کوئی بھی غیر آئینی اقدام نہیں ہوگا۔ تاہم فوج کے ترجمان کی طرف سے ن لیگ کے ایک وفاقی وزیر کے بیان کو غیر ضروری طورپر ارتعاش پیدا کرنے کا سبب گردانا گیا ہے۔ ساکن اور پر سکون جھیل میں کوئی پتھر پھینکے تو لہروں میں ارتعاش پیدا ہوتاہے اور لہریں ایک دوسرے کا تعاقب کرتے ہوئے کناروں سے سرٹکراتی ہیں۔ لیکن سیاست کی جھیل نہ تو ساکن ہے نہ پر سکون۔ اس میں تو مسلسل ارتعاش رہتاہے۔ اور اب تو یہ لگتا ہے کہ جھیل دلدل میں بدل رہی ہے جس میں کوئی دھنس جائے گا اور کوئی کسی کے سہارے باہر نکلنے میں کامیاب ہوجائے گا۔ ممکن ہے کہ شریف برادران کسی تنکے کا سہارا لینے سعودی عرب گئے ہوں۔ خورشید شاہ ن لیگ کی حریف پیپلز پارٹی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہیں تاہم انہوں نے بھی سعد رفیق کے بیان پر فوجی ترجمان کے رد عمل کو غیر ضروری قراردیاہے۔ یہ ایک قابل تعریف بات ہے۔ اسی کے ساتھ پیپلز پارٹی کے شریک صدر نشین آصف علی زرداری نے طاہر القادری کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مطالبہ کیاہے کہ نواز شریف پر قتل کے مقدمات چلائے جائیں، سانحہ ماڈل ٹاؤن کی وجہ سے شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ کو بھی مستعفی ہونا پڑے گا۔ شہباز شریف اور خواجہ سعد رفیق سعودی ملک کے خصوصی طیارے میں پہلے ہی سعودی عرب جاچکے ہیں اور ہفتہ ،30دسمبر کو بڑے بھائی میاں نواز شریف بھی جدہ پہنچ گئے ہیں۔ اس پر خورشید شاہ کا رد عمل آیاہے کہ غیر ملکیوں کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی دعوت دی جارہی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سعودی عرب پاکستان کا ایساعزیز دوست ہے جس نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی دستگیری کی ہے۔ اس سے پہلے بھی سعودی عرب میاں نواز شریف کو جنرل پرویز مشرف کے چنگل سے نکال کر لے گیا تھا اور برسوں جدہ کے ایک محل میں رکھا۔ جب بے نظیر جنرل پرویز مشرف سے سمجھوتا کرکے 2007ء میں واپس پاکستان آئیں تو سعودی عرب ہی کے دباؤ پر نواز شریف بھی وقت سے پہلے پاکستان آسکے جو 10سال تک جلا وطن رہنے کا معاہدہ کرکے گئے تھے۔ اب نواز شریف اور شہباز شریف کے گرد جو گھیرا تنگ ہورہاہے تو مخالف جماعتوں کا خیال ہے کہ این آر او کی طرح کا ایک اورمعاہدہ ہونے جارہاہے۔ عمران خان تو عوام کو سڑکوں پر لانے کے لیے موقع کی تلاش میں ہیں اور ان کا بس نہیں چلتا کہ عوام سڑکوں کو مستقل ٹھکانابنالیں۔ ان کا کہنا ہے کہ این آر او (نیشنل ری کنسیلیشن آرڈیننس) کی طرز کا سمجھوتا ہونے جارہاہے۔ انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ قومی مفاہمت کا یہ سمجھوتا کس کے درمیان ہونے جارہاہے اور کون کروارہاہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ ایسے سمجھوتے کے ذریعے نا اہل قراردیے گئے میاں نواز شریف کو تحفظ فراہم کیاجائے گا۔ ایسا ہوا تو پورے ملک کے عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے اور ایسی کوشش کو ناکام بنادیں گے۔ نواز شریف کی طرح عمران خان کو بھی غلط فہمی ہے کہ ملک بھر کے عوام ان کے ساتھ ہیں۔ نواز شریف بھی 20کروڑ عوام کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ بہر حال ، شریف برادران کا سعودی عرب جانا شکوک و شبہات تو پیدا کرتاہے۔ میاں نواز شریف کاپروگرام اچانک بنا ہے کیونکہ آج (بروز اتوار) سرگودھا میں ن لیگ کا جلسہ طے ہوگیا تھا جس سے نواز شریف کو خطاب کرنا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اب یہ جلسہ 6جنوری کوہوگابشرطیکہ اس وقت تک نواز شریف کی واپسی ہو گئی۔ ن لیگ بھی نواز شریف کی سعودی عرب روانگی کے بارے میں مہر بلب ہے اور کچھ نہیں تبایاگیا کہ وہ کیوں گئے ۔ شہباز شریف کی سعودی عرب روانگی کے بارے میں تو وضاحت کی جارہی ہے کہ ان کے جانے پر کسی اعتراض کی گنجائش نہیں۔ وہ اگر صرف عمرہ کرنے گئے ہوتے تو یقیناً اعتراض کوکوئی وجہ نہیں تھی۔ شریف برادران کا حق ہے کہ وہ حرمین شریفین میں قوم کے لیے نہ سہی اپنے لیے دعا کریں کہ سیاسی دلدل سے باہر نکل آئیں۔ بہرحال، اس وقت سعودی عرب پاکستانی سیاست کا مرکز بن گیا ہے اور دیکھنا ہے کہ وہاں سے کیا برآمدہوتاہے۔ دریں اثنا ہفتہ کو کُل جماعتی کانفرنس نے اونٹ کی کمر پرآخری تنکا کے مصداق نواز شریف کو قانون تحفظ ناموس رسالت میں ترمیم کا ذمے دار بھی قراردے دیاہے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن ہو یا قومی اسمبلی میں امیدواروں کے حلف نامے میں تبدیلی کا معاملہ وفاقی اور پنجاب حکومت کی نا اہلی واضح ہے کہ بروقت کوئی قدم نہ اٹھایاگیا۔ عدل کا مطالبہ کرنے والے خود عدل کرنے سے کترارہے ہیں۔ اس پر ضرور غور کریں کہ کہیں یہ اللہ کی پکڑ تو نہیں جس کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔