پاکستان میں شاہی جمہوریت کے مزے

635

یوں تو پوری دنیا میں جمہوری ملکوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے جن ملکوں میں جمہوریت نہیں ہے وہاں کی آبادی بھی جمہوریت کا کلمہ پڑھتی اور جمہوری ملکوں کو رشک کی نگاہ سے دیکھتی ہے لیکن جو حسن، جاذبیت، البیلا پن اور انفرادیت پاکستان کی شاہی جمہوریت میں ہے وہ شاید کہیں بھی نہیں ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کے مزے ہی مزے ہیں اسے کسی چیلنج یا خطرے کا سامنا نہیں۔ عوام کالانعام جمہوریت کے نام پر ووٹ ڈالتے اور اپنے نمائندے منتخب کرکے پارلیمنٹ میں بھیجتے ہیں۔ پھر اس کے بعد جمہوریت شاہی لبادہ اوڑھے عوام سے بے نیاز ہو کر پارلیمنٹ میں اقتدار کا کھیل کھیلتی رہتی ہے۔ وہ جس کے سر پہ وزارت عظمیٰ کا تاج رکھتی ہے وہ جمہوریت کی شہ پا کر ہر قسم کی جوابدہی سے بے نیاز ہوجاتا ہے، وہ پارلیمنٹ میں آنے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کرتا لیکن شاہی جمہوریت اس کی بلائیں لیتی رہتی ہے۔ وہ پارلیمنٹ کی اجازت کے بغیر بھارتی وزراعظم کی تقریب حلف برداری میں جا پہنچتا ہے اور پاکستانی ہائی کمیشن میں ملاقات کے منتظر کشمیری رہنماؤں کو نظر انداز کرکے اپنے بھارتی بزنس پارٹنرز سے ملاقاتوں میں مصروف ہوجاتا ہے لیکن وطن واپسی پر پارلیمنٹ نہ اسے طلب کرتی ہے نہ اس کا مواخذہ کرنے کی اپنے اندر ہمت پاتی ہے۔
کہنے کو پارلیمنٹ ملک کا سب سے بااختیار ادارہ ہے اور تمام ریاستی مناصب اور ادارے اس کے ماتحت ہیں۔ وزیراعظم تو پارلیمنٹ کا حصہ اور اس کے سامنے جوابدہ ہے لیکن پاکستان میں شاہی جمہوریت کا کرشمہ ملاحظہ ہو کہ اس نے پارلیمنٹ کو وزیراعظم کے تابع بنادیا ہے اور وہ وزیراعظم سے کچھ پوچھنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ سابق وزیراعظم نے اپنے چار سالہ دور اقتدار کے دوران ایک سو کے قریب غیر ملکی دورے کیے جو قوم کو کروڑوں ڈالر میں پڑے لیکن مجال ہے کہ وزیراعظم نے ایک دورے کی رپورٹ بھی پارلیمنٹ میں پیش کی ہو اور عوامی نمائندوں کو بتایا ہو کہ اس کے دورے سے ملک کو یہ فائدہ ہوا ہے۔ اس مطلق العنانیت کے باوجود شاہی جمہوریت کے ماتھے پر کبھی شکن نہیں آتی اور وہ اس کے ساتھ پنگ پانگ کھیلتی رہی، پھر اچانک یوں ہوا کہ آسمان سے پاناما لیکس نازل ہوگئی جن میں حکمران خاندان کا نام بھی آتا تھا، ملک میں شور مچ گیا کہ حکمران خاندان کا احتساب کیا جائے، اس سے پوچھا جائے کہ اس نے بیرون ملک دولت اور جائداد کیسے جمع کی ہے، سورس کیا تھا، اگر پاکستان سے دولت باہر منتقل ہوئی تو اس کا ذریعہ کیا تھا وغیرہ وغیرہ۔ لوگوں نے مشورہ دیا کہ اس تنازع کو پارلیمنٹ میں طے کرلیا جائے تو بہتر ہے اس طرح حکمران خاندان جگ ہنسائی سے بچ جائے گا اور وزیراعظم بھی مواخذے سے محفوظ رہے گا لیکن شاہی جمہوریت اس پر راضی نہ ہوئی اور جمہوری وزیراعظم نے اس مشورے کو ٹھکراتے ہوئے عدالت عظمیٰ کو خط لکھ دیا کہ پاناما لیکس کے معاملے پر تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے۔ یار لوگ کہتے ہیں کہ یہ چال اس لیے چلی گئی تھی کہ پارلیمنٹ میں یہ معاملہ زیر بحث نہ آنے پائے اور حکمران خاندان اپوزیشن کی بے رحمانہ تنقید سے محفوظ رہے لیکن قسمت کا لکھا کون ٹال سکتا ہے ’’آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا‘‘ کے مصداق حکمران خاندان پارلیمنٹ سے بچتے بچتے عدلیہ کے دام میں پھنس گیا۔ اسے آپ ’’دام ہمرنگ زمین‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔ حکمران خاندان کو اندازہ ہی نہ تھا کہ عدلیہ اس طرح دھلائی کرے گی کہ سارا کچا چٹھا سامنے آجائے گا اور وزیراعظم کو اپنی لاڈلی شاہی جمہوریت کے ساتھ ایوان اقتدار سے نکلنا پڑے گا۔
اب نااہل سابق وزیراعظم عدالت عظمیٰ سے فارغ ہونے کے بعد احتساب عدالت کے چکر لگا رہے ہیں اور شاہی جمہوریت ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے سڑکوں پر گشت کررہی ہے وہ سابق وزیراعظم کے ساتھ اسلام آباد سے لاہور تک روڈ مارچ کرچکی ہے، لوگ یہ جمہوری تماشا دیکھنے کے لیے جگہ جگہ جمع تو ہوئے لیکن عوام کا وہ ’’ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر‘‘ کہیں نظر نہیں آیا جس کی توقع لے کر سابق وزیراعظم اسلام آباد سے چلے تھے، اس صورت حال سے انہیں خاصی مایوسی ہوئی اور وہ کئی دن تک لاہور کے جاتی امرا محل میں منہ پھلائے بیٹھے رہے۔ البتہ شاہی جہوریت ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کا راگ الاپ کر ان کا دل لبھاتی رہی، پھر اچانک ایک اور انہونی ہوئی، عدالت عظمیٰ نے نااہلی کے ایک اور کیس میں سابق وزیراعظم کے سب سے بڑے سیاسی حریف کو اہل اور اس کے ایک ساتھی کو نااہل قرار دے دیا۔ اس عدالتی فیصلے سے شاہی جمہوریت کے ماتھے پر بل آگئے اور سابق وزیراعظم نے کہا کہ نااہلی صرف ان کے لیے ہی کیوں، ان کے حریف کے لیے کیوں نہیں۔ آخر یہ انصاف کا کیسا ترازو ہے جس کے دونوں پلڑے الگ الگ سودا بیچ رہے ہیں لیکن یہ سودا نہیں بکے گا۔ وہ جمہوریت کو ساتھ لے کر عوام کی عدالت میں جائیں گے اور اس سے انصاف طلب کریں گے، وہ پاگل نہیں اور نہ ہی بھیڑ بکریاں ہیں کہ عدلیہ کے ایسے غیر معقول فیصلے قبول کرلیں۔ یہ عدلیہ اور اس کے عدالتی نظام کو کھلا چیلنج ہے اور نااہل سابق وزیراعظم اس نظام کے خلاف تحریک چلانا چاہتے ہیں جس کا نام انہوں نے تحریک عدل رکھا ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ اس تحریک میں جمہوریت یعنی شاہی جمہوریت ان کے ساتھ ہے۔ ادھر علامہ طاہر القادری نے اعلان کیا ہے کہ میاں نواز شریف تحریک عدل کی تاریخ کا اعلان کریں وہ اس کے مقابلے میں تحریک قصاص شروع کریں گے جس میں چودہ بے گناہوں کا لہو جھلک رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ شاہی جمہوریت کے ساتھ عوامی جمہوریت کا براہِ راست ٹاکرا ہوگا۔ اب دیکھیے میدان کس کے ہاتھ رہتا ہے، یار لوگوں کا خیال ہے کہ میدان خالی رہے گا وہ کسی کے ہاتھ نہیں آئے گا۔
ہاں یاد آیا کہ ایک میدان راولپنڈی کے فیض آباد میں بھی سج چکا ہے جہاں عاشقانِ رسولؐ کی چھوٹی سی جمہوریت نے ارباب اقتدار کی شاہی جمہوریت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا تھا اور وزیر داخلہ ایک ایسے معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور ہوگئے تھے جس میں وفاقی حکومت کی ایک بات بھی نہیں مانی گئی تھی۔ اب ایسا ہی بُرا وقت پنجاب کی حکومت اور وہاں کی شاہی جمہوریت پر بھی آنے والا ہے، پیر حمید الدین سیالوی نے اس کے لیے 31 دسمبر کی ڈیڈ لائن دے دی ہے لیکن اس کے باوجود کہا جارہا ہے کہ اگلے وزیراعظم شہباز شریف ہوں گے، گویا شاہی جمہوریت کو یقین ہے کہ وہ اس ڈیڈ لائن کو عبور کرجائے گی اور اسے کچھ نہیں ہوگا اور شہباز شریف وزیراعلیٰ سے ترقی کرکے وزیراعظم بن جائیں گے۔ لیکن یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ کیا ہوگا۔ فی الحال یہ کہنے میں کیا مضائقہ ہے کہ پاکستان میں شاہی جمہوریت مزے میں ہے۔