ایران: احتجاج میں شدت‘ امریکا مظاہرین کے حق میں

1066
تہران: ایران میں مہنگائی اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے جواب میں دارالحکومت میں نکالی گئی ریلی میں ہزاروں افراد شریک ہیں
تہران: ایران میں مہنگائی اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے جواب میں دارالحکومت میں نکالی گئی ریلی میں ہزاروں افراد شریک ہیں

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران میں مہنگائی کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں شدت آگئی ہے جب کہ احتجاج پر قابو پانے کے لیے درجنوں افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایران میں ایک ہی ہفتے میں انڈوں کی قیمتیں دو گنا ہونے اور ایرانی صدر کی جانب سے آئندہ بجٹ میں دیگر ممالک جانے والے اپنے مسافروں پر ٹیکس میں اضافے کی تجویز کے بعد ملک بھر میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے پھوٹ پڑے ۔ مظاہرے اس وقت پرتشدد ہوگئے جب پولیس کی جانب سے مظاہرین کو روکنے کے لیے آنسو گیس اور واٹرگنز کا استعمال کیا گیا۔ اس دوران 52 افراد کو حراست میں بھی لے لیا گیا۔ شہریوں کی گرفتاریوں کے بعد مظاہروں کا دائرہ کار بڑھ کر حکومت مخالف احتجاج تک پھیل چکا ہے، مظاہرین سیاسی قیدیوں کی رہائی اور پولیس کی جانب سے تشدد ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے غیرقانونی اجتماع کے خلاف تنبیہ جاری ہونے کے باوجود ملک بھر سے سوشل میڈیا پر احتجاج کی کالز دی جا رہی ہیں۔ ایرانی حکومت نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ غیرقانونی اجتماعات میں شریک نہ ہوں کیونکہ یہ دوسرے افراد کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں۔ ایران کے وزیر داخلہ عبدالرحمن رحمانی فضلی نے واضح کیا ہے کہ جو مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں، وہ پہلے اِس کی مقامی حکام سے اجازت طلب کریں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق مظاہروں کا سلسلہ 8شہروں تک پھیل گیا ہے جب کہ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی احتجاج کی وڈیوز میں سیکورٹی فورسز اور عوام کے مابین ہونے والی جھڑپیں دیکھی جا سکتی ہیں ۔ دوسری جانب بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی دارالحکومت تہران میں حکومت کے حق میں 4 ہزار کے قریب افراد ایک ریلی میں شریک ہوئے ۔ یہ ریلی اُن احتجاجی مظاہروں کے جواب میں نکالی گئی ہے ، جو اقتصادی عدم اطمینان کا نتیجہ تھے ۔ ایرانی انتظامیہ نے ان مظاہروں کا الزام انقلاب کے مخالفین اور غیر ملکی ایجنٹوں پر لگایا ہے ۔ اُدھر امریکا کا کہنا ہے کہ ایران میں جاری مظاہروں کے بارے میں حکومتی ردِعمل پر دنیا بھر کی نظر ہے۔ صدر ٹرمپ کی پریس سیکرٹری سارہ ہکابی سینڈرز نے دعویٰ کیا کہ ایرانی عوام حکومت کی بدعنوانی سے تنگ آ چکے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے عوام حکومت کی بدعنوانی اور دہشت گردی کی فنڈنگ کے لیے ملکی دولت کی فضول خرچی سے تنگ آ گئے ہیں۔ قبل ازیں ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی حکام نے اپنے حامیوں سے ہفتے کے روز پورے ملک میں حکومت کی حمایت میں جلوس نکالنے کے لیے کہا تھا۔ واضح رہے کہ ان مظاہروں کا آغاز اس وقت ہوا جب صدر حسن روحانی کی حکومت بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی اور صرف ایک ہی ہفتے میں انڈوں کی قیمتیں دوگنا بڑھ گئیں۔ تاہم بعض مظاہروں کا دائرہ کار بڑھ کر حکومت مخالف احتجاج تک پھیل گیا اور سیاسی قیدیوں کی رہائی اور پولیس کی جانب سے مار پیٹ کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جانے لگا۔ سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق پہلے نائب صدر اسحاق جہانگیری نے کہا ہے کہ ان مظاہروں کے پس پشت حکومت مخالف ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بھی موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹوئٹ داغ دیا جبکہ امریکی وزارت خارجہ نے تمام ممالک کو ایرانی عوام کے بنیادی حقوق اور بدعنوانی کے خاتمے کے مطالبے کی کھلے عام حمایت کی اپیل کی ہے ۔ صدر ٹرمپ نے ایران میں پرامن مظاہرین کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج درحقیقت تہران کی بدعنوان سیاسی پالیسیوں سے عوام کے نفرت کی دلیل ہے ۔ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا ہے کہ ایرانی عوام ملکی وسائل دوسرے ملکوں میں دہشت گردی کی فنڈنگ کے لیے استعمال ہونے اور حکومتی بدعنوانی کے خلاف پرامن احتجاج کے لیے نکل آئے ہیں، پرامن احتجاج کرنے والوں کو کچلنے کے لیے ریاستی تشدد کا استعمال ناقابل قبول ہے ۔ اپنے پیغام میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی حکومت سے ایرانی عوام کے اظہار رائے کے حق اور دیگرحقوق کا احترام کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دنیا ایران میں ہونے والے پرامن مظاہروں کو دیکھ رہی ہے ۔ دریں اثنا دیگر ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی حکومت نے ایران میں مہنگائی، بے روزگاری غربت کو ختم کرنے میں حکومت کی ناکام پالیسیوں کے خلاف شروع ہونے والی عوامی احتجاجی تحریک کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی پرامن مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان کے خلاف طاقت کے استعمال کی شدید مذمت کی ہے ۔ امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران میں پرامن احتجاج کو کچلنے کے لیے ریاستی تشدد کا استعمال ناقابل قبول ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن ایران میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔ پرامن احتجاج ایرانی عوام کا حق ہے اور امریکا ان کے احتجاج کی حمایت کرتا ہے ۔