ختم نبوت ترمیم میں نواز شریف ملوث ہیں‘ شہباز ‘ رانا ثنا مستعفی ہوں‘ آل پارٹیز کانفرنس

586
لاہور: پاکستان عوامی تحریک کے تحت آل پارٹیز کانفرنس سے طاہر القادری خطاب کررہے ہیں
لاہور: پاکستان عوامی تحریک کے تحت آل پارٹیز کانفرنس سے طاہر القادری خطاب کررہے ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت+خبرایجنسیاں) پاکستان عوامی تحریک کی زیر قیادت ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کو ریاستی دہشت گردی کا بدترین واقعہ قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ کو مستعفی ہونے کے لیے 7 جنوری تک کی مہلت دیدی ہے۔طاہر القادری کے ساتھ تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور قمر زمان کائرہ نے آل پارٹیز کانفرنس کا 10 نکاتی اعلامیہ پڑھ کر سنایا جس کے اہم مطالبات یہ ہیں۔اعلامیے میں کہا گیا کہ تمام صوبائی اسمبلیاں اور سینیٹ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث ہونے پر شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ کے استعفوں کی قرارداد منظور کرائیں۔ختم بنوت کے حلف نامے میں تبدیلی اور قوانین کو ختم کرنا کروڑوں مسلمانوں کی اساس پر حملہ ہے، اس قانونی دہشت گردی میں نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) براہ راست ملوث ہیں، ایمان کی بنیادی اساس پر حملے کے بعد (ن) لیگ اقتدار پر مسلط رہنے کا جواز کھو چکی ہے۔شہدائے ماڈل ٹاؤن کے مظلوم ورثا ساڑھے 3 سال کی جدوجہد کے بعد صرف جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ حاصل کر پائے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کی موجودگی میں 17 جون 2014 ء کو شہید اور زخمی ہونے والوں کو انصاف کی فراہمی ناممکن ہے۔اے پی سی مطالبہ کرتی ہے کہ جسٹس باقر نجفی کمیشن رپورٹ میں شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کا ذمے دار قرار دیا گیا ہے لہٰذا یہ لوگ 7 جنوری سے پہلے مستعفی ہو جائیں۔ اگر یہ لوگ 7 جنوری تک مستعفی نہ ہوئے تو 8 جنوری کو اے پی سی کی اسٹیئرنگ کمیٹی آئندہ کے احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن اور قومی دولت لوٹنے والے شریف خاندان کو کسی قسم کا این آر او نہ دیا جائے اور اگر کوئی ماورائے قانون ریلیف دیا گیا تو قوم اسے ہرگز قبول نہیں کرے گی۔قمر زمان کائرہ نے اس موقع پر اے پی سی کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے ارکان کے ناموں کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اس کمیٹی میں پیپلز پارٹی سے قمر زمان کائرہ اور جسٹس آصف کھوسہ، تحریک انصاف سے شاہ محمود قریشی اور علیم خان، جماعت اسلامی سے لیاقت بلوچ اور پاک سرزمین پارٹی سے رضا ہارون شامل ہوں گے۔ میاں منظور وٹو، جہانگیر خان ترین اور خرم گنڈاپور اسٹیئرنگ کمیٹی کے کوآرڈینیٹر ہوں گے۔اس موقع پر ڈاکٹر طاہر القادری نے اے پی سی میں شامل تمام جماعتوں کے اراکین سے قرارداد متفقہ طور پر منظور بھی کرائی۔بعد ازاں صحافیوں کی جانب سے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے ارکان میں شمولیت نہ ہونے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر طاہر القادری نے کہا کہ ہم ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کے مشکور ہیں کہ انہوں نے اے پی سی میں شرکت کی اور ان کا ہم سے کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن انہیں اپنی جماعت کے ہنگامی اجلاس میں شرکت کرنا تھی جس کی وجہ سے وہ اجازت لے کر جلدی روانہ ہو گئے۔ شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ کے استعفوں کی ڈیڈ لائن میں اضافے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر طاہر القادری نے کہا کہ 31 دسمبر کی ڈیڈ لائن صرف ہماری جانب سے تھی اور اس حوالے سے تمام تیاریاں بھی ہم نے کرنی تھیں لیکن اے پی سی میں تمام جماعتوں نے یہ طے کیا کہ انہیں اس حوالے سے تیاریوں کے لیے7روز چاہئیں۔ عوامی تحریک کی ماڈل ٹاؤن سیکرٹریٹ میں ہونے والی اے پی سی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی)، مسلم لیگ (ق)، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان، پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) اور مجلس وحدت مسلمین سمیت اپوزیشن کی دیگر جماعتوں نے شرکت کی ۔عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جوڈیشل انکوائری پبلک کرنے کے عدالتی فیصلے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے آل پارٹیز کانفرس بلانے کا اعلان کیا تھا۔اے پی سی میں سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق، شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین، میاں محمود الرشید، لیاقت بلوچ، فاروق ستار، رحمان ملک، منظور وٹو، مصطفی کمال، کاملی علی آغا، علامہ راجہ ناصر عباس، صاحبزادہ حامد رضا، صاحبزادہ ابو الخیر محمد زبیر، قاری زوار بہادر سمیت دیگر سیاسی و مذہبی شخصیات شریک تھیں۔پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری نے کل جماعتی کانفرنس کے آغاز میں کانفرنس میں شرکت کرنے والی جماعتوں کے رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا۔طاہرالقادری نے بتایا کہ کل جماعتی کانفرنس میں 40 سے زاید سیاسی جماعتیں شرکت کررہی ہیں، اے پی سی کا ایجنڈا سانحہ ماڈل ٹاؤن اور مجھے کیوں نکالا ہے۔پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے اپنے اپنے اختلافات ہوتے ہیں لیکن آج ان جماعتوں کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کے خون نے جمع کیا، یہ درست نہیں کہ عوامی تحریک نے ان جماعتوں کو جمع کیا۔انہوں نے کہا کہ آج ساری جماعتیں ظلم کے خاتمے اور ملک سے خاندانی بادشاہت کے خاتمے کے لیے جمع ہوئی ہیں، اب ملک کے اداروں کو مزید مسمار نہیں کرنے دیا جائے گا، تمام جماعتیں عدلیہ، افواج پاکستان، ملک کی سلامتی اور جمہوریت کے خلاف جنگ کرنے والوں کے خلاف اکٹھی ہوئی ہیں، یہ سب جمہوریت پسند اور انسان دوست جماعتیں ہیں۔طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ آل شریف 80ء کی دہائی میں سیاست میں داخل ہوئے، نوازشریف نے آتے ہی سیاسی نظام میں سرمایہ کاری، مالی کرپشن اور لوگوں کی خریدو فروخت سمیت شخصی بادشاہت کا آغاز کیا۔ انہوں نے کیش کے ذریعے ملک میں دھڑے خریدے، ٹریڈنگ کابازار گرم کیا، سیاسی نظام کو کھلی کرپشن سے آلودہ کردیا۔عوامی تحریک کے سربراہ نے کہا کہ سیاسی نظام میں کرپشن اور جیلوں کے بانی شریف برادران ہیں، شریف برادران چھانگا مانگا کلچر کے بانی ہیں اور یہی ان کے جمہوری نظریات ہیں، کیا ۔انہوں نے جمہوریت کی جڑیں نہیں کاٹیں؟ پھر پوچھتے پھرتے ہیں مجھے کیوں نکالا، نوازشریف کو ان کے کرتوتوں نے نکالا۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے مشرف کا مقابلہ نہیں کیا اور خاندان کو لے کر باہر بھاگ گئے، ان کی اس طرز سیاست اور خاندانی بادشاہت کے خلاف میں نے تحریک شروع کی، 2014ء میں دھرنے کا اعلان بھی نہیں کیا۔ انہوں نے رات کے اندھیرے میں شب خون مارا، ریاستی طاقت کا استعمال کیا، ہم نے 2013 ء میں بھی اسلام آباد میں دھرنا دیا لیکن ایک گولی نہیں چلی۔طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ ہم نے ساڑھے تی3 سال کی جنگ لڑکر کمیشن کی رپورٹ حاصل کی، دنیا میں اس کی کوئی مثال نہیں، پاکستان کی تاریخ میں ایسا کوئی واقعہ نہیں جس میں تجاوزات ہٹانے کے لیے فورس بھیجی گئی ہو، اس روز جو قتل و غارت گری میں ملوث تھے ان میں سے ایک بھی جیل میں نہیں، کسی کے وارنٹ تک جاری نہیں ہوئے، شہبازشریف، رانا ثنا اللہ اور ان کے بیوروکریٹس، جنہوں نے یہ حکم دیا کسی ایک کو طلب بھی نہیں کیا گیا۔عوامی تحریک کے سربراہ نے مزید کہا کہ ہم ساڑھے 3 سال سے عدالتوں میں ہیں لیکن جب تک یہ لوگ بیٹھے ہیں اس وقت تک قاتلوں کی حفاظت ہوگی، شفاف ٹرال کا راستہ کبھی ہموار نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یہ ان شہدا کے خون کی تاثیر ہے جنہوں نے نوازشریف کو کرپشن پر سزا دلائی، عدالت نے انہیں بددیانت قرار دیا، دنیا میں ان کی ذلت اور رسوائی ہوئی۔طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ نوازشریف نے تحریک عدل کا نام لیا، وہ کبھی یہ تحریک نہیں چلا سکتے، اپنی کرپشن کا سرمایہ بچانے کے لیے سعودی عرب گئے ہیں، یہ مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں ان کا خاتمہ ہونے والا ہے، دنیا کی کوئی طاقت انہیں منطقی انجام سے نہیں بچاسکتی، انہیں جیلوں میں جانا اور نشان عبرت بننا ہوگا۔عوامی تحریک کے سربراہ نے کہا کہ اب ماڈل ٹاؤن ہمارا مقدمہ نہیں رہا، آج سے اے پی سے اون کرلے گی، یہ تمام جماعتوں کا مشترکہ مقدمہ ہے، اب اس پر فیصلے، لائحہ عمل اور اقدام بھی مشترکہ ہوگا، یہ لوگ گرفتار ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ شریف برادران کہتے ہیں اے پی سی میں شامل پارٹیاں کسی کا کندھا استعمال کررہی ہیں، وہ بتائیں کہ سعودیہ میں کس کا کندھا استعمال کررہے ہیں۔طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ اب معاملات قومی قیادت نے اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں، اب عوامی عدالت بھی لگ سکتی ہے، احتجاج بھی ہوسکتا ہے، دھرنا بھی ہوسکتا ہے، آئین و قانون کے دائرے میں کچھ بھی ہوسکتا ہے، اب اگر دھرنا ہوگا تو آپ کے اقتدار کو مرنا ہوگا، آپ بچ نہیں سکتے، ہمارے ساتھ آئین و قانون اور جمہوریت کی طاقت ہے، پاکستان کے کروڑوں شہریوں کی طاقت ہے اور سب سے بڑھ کر للہ کی طاقت ہے۔یاد رہے کہ 17 جون 2014 ء کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے سامنے قائم تجاوزات کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا تھا۔اس موقع پر پی اے ٹی کے کارکنوں کی مزاحمت اور پولیس آپریشن کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک اور 90 کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔پنجاب حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لیے 5 رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی جس کی رپورٹ میں وزیراعلیٰ شہباز شریف اور وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ خان کو بے گناہ قرار دیا گیا تھا۔جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا کہ چھان بین کے دوران یہ ثابت نہیں ہوا کہ وزیر اعلیٰ اور صوبائی وزیر قانون فائرنگ کا حکم دینے والوں میں شامل ہیں۔ دوسری جانب اس واقعے کی جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں عدالتی تحقیقات بھی کرائی گئیں، جسے منظرعام پر نہیں لایا گیا تھا۔جس کے بعد عوامی تحریک کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا، جس نے پنجاب حکومت کو مذکورہ انکوائری رپورٹ جاری کرنے کا حکم دیا۔ماڈل ٹاؤن انکوائری رپورٹ سامنے آنے کے بعد ڈاکٹر طاہرالقادری نے دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے شروع کردیے اور حکومت کے خلاف ایک گرینڈ اپوزیشن الائنس بنانے پر غور کیا جارہا ہے۔