انتخابات سے قبل ایمنسٹی اسکیم کے علاوہ ٹیکسوں میں کمی پر بھی غور

331

اسلام آباد ( نمائندہ جسارت) آئندہ سال کی پہلی سہ ماہی میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت میں مزید کمی یقینی ہے اور وزارت خزانہ نے اس حوالے سے متوقع صورت حال کے لیے خود کو تیار کر لیا ہے ،ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے علاوہ ٹیکسوں میں کمی بھی کی جارہی ہے یہ تمام سفارشات حتمی تیاری کے آخری مرحلے میں ہیں ،تنخواہ دار اور غیر تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس کی شرح میں بھی کمی لائے جانے کی تجویزہے ۔ذرائع نے بتایا کہ یہ تمام اقدامات اور ان سے متعلق سفارشات کو حتمی شکل دی جارہی ہے جس سے یہ بات یقینی ہوتی جارہی کہ حکومت عام انتخابات سے قبل ٹیکس ایمنسٹی اسکیم لائے گی اس اسکیم کے لیے حکومت کے پاس متعدد تجاویز ہیں لیکن ملک میں معاشی پالیسی بنانے میں مددگار ادارے ایف بی آر کے پاس پاکستانی شہریوں کی آمدنی اور اخراجات کے گوشواروں اور ان کے اثاثوں کا کوئی قابل قبول ریکارڈ موجود نہیں ہے اور ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے اور عارضی طور پر 6 ارب ڈالر روپے وصول کرنے کی خاطر حکومت ایک بار پھر ایمنسٹی اسکیم لارہی ہے اور اس کا فیصلہ جنوری میں ہوجائے گا ،وہ آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینا چاہتی ہے تاکہ تاجر برادری مطمئن رہے ۔ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے تحت حکومت 6 ارب ڈالر تک محاصل اکٹھا کرناچاہتی ہے اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اپنے اثاثے ظاہر کرنے پر زیادہ سے زیادہ رعایت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس حوالے سے ٹیکس امپلی مینٹیشن کمیشن نے بھی سفارشات مرتب کرلی ہیں اور ان سفارشات میں متعدد تجاویز دی گئی ہیں جبکہ وزیر اعظم سمری پر حتمی فیصلہ کرنے سے قبل چاروں صوبائی حکومتوں اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے ۔قانون سازی پارلیمنٹ کے ذریعے اس سے قبل حکومت ایف بی آر کے نئے چیئر مین کا بھی تقرر کرے گی جس کے لیے متعدد نام زیر غور ہیں ۔موجودہ ایف بی آر کے چیئرمین کی مدت ملازمت جنوری میں مکمل ہوجائے گی ۔ایف بی آر کے نئے چیئرمین کے لیے سینئربیورو کریٹس یوسف نسیم کھوکھر، طارق پاشا، عارف خان اور وزارت پانی و بجلی میں کام کرنے والے سینئربیورو کریٹ یونس ڈھاگا کے نام زیر غور ہیں۔ یونس ڈھاگا کا نام پہلے بھی زیر غور رہا تاہم سینیٹر اسحاق ڈار کی وجہ سے انہیں یہ ذمے داری نہیں دی گئی لیکن اب صورت حال بدل گئی ہے ۔