کریم بخش کا کراچی

305

زاہد عباس
سڑک کے کنارے گندے کپڑے پہنے کریم بخش بدحالی کی منہ بولتی تصویر تھا۔ اس کی نظریں کسی کی تلاش میں تھیں۔ اس کی پلکوں پر جمی گرد کسی صحرا کے سفر کی کہانی سنا رہی تھی۔ وہ تلاش میں تھا کہ کہیں سے تھوڑا سا پانی مل جائے تاکہ وہ اپنا حلیہ درست کرسکے۔ وہ خستہ حال سڑک پر اِدھر سے اُدھر چکر کاٹتا رہا۔ راستے بھر خاک پھانکتے اور سڑک سے گزرتی گاڑیوں سے اُڑتی گرد کی چادر اوڑھے کریم بخش کی حالت قابلِِ رحم تھی۔ خاصی دیر پانی کی تلاش میں ناکامی کے بعد وہ ایک طرف جا بیٹھا۔ اپنی حالت دیکھ کر وہ سوچ رہا تھا کہ چند گھنٹوں کے سفر نے اسے کیا سے کیا بنا دیا۔ اسے وہ زمانہ یاد آنے لگا جب اسی شہر میں وہ باعزت سفر کیا کرتا تھا۔ بچپن کی وہ یادیں جو اس شہر سے وابستہ تھیں اُس کے ذہن میں آنے لگیں… وہ وقت بھی جب کراچی کی سڑکوں پر ڈبل ڈیکر بسیں دوڑا کرتیں۔ پرانی خستہ حال بس کی چھت پر بیٹھ کر کیے گئے چند گھنٹوں کے سفر نے اس کی جو حالت کردی تھی اس کے بعد اُس کا ماضی کی یادوں میں گم ہونا فطری تھا۔ کبھی اسے ملازمت کے وہ دن یاد آنے لگتے جب وہ بہترین بسوں میں سفر کیا کرتا۔ وہ کیسے بھلا سکتا تھا وہ دن جب انھی راستوں سے گزر کر وہ اسکول جایا کرتا! لال رنگ کی لمبی بس میں کیا جانے والا سفر اس کی زندگی کے یادگار ترین سفروں میں سے ایک تھا۔ کنڈیکڑ کا چلتی گاڑی سے اترتے چڑھتے کرتب دکھانا اب بھی اس کی نگاہوں کے سامنے تھا۔ غرض شہر سے جڑی ہر بات اُس کے ذہن میں پیوست تھی۔
کریم بخش سڑک کے کنارے بیٹھا آتے جاتے لوگوں کو دیکھتا رہا، جب کہ لوگ اُسے ضرورت مند سمجھ کر نظریں چراتے اُس کے قریب سے گزرتے رہے۔ وہ حیران تھا کہ جس شہر میں اس نے اپنی زندگی کے حسین دن گزارے اسی شہر میں وہ آج اجنبی بنا بیٹھا ہے۔ وہ اپنے ساتھ لوگوں کی جانب سے ہونے والے برتاؤ پر خفا ہونے کے بجائے اپنے حلیے کی جانب دیکھتا۔ وہ لوگوں کے رویّے پر قصوروار اُس سفر کو ٹھیراتا جس نے اس کی یہ حالت کردی تھی کہ وہ حمام ڈھونڈنے پر مجبور تھا۔ وہ جتنی دیر سڑک کے کنارے بیٹھا رہا،` بسوں میں انسانوں کو جانوروں کی طرح بھر کر لے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ وہ ہر گزرتی ہوئی بس کو بڑے غور سے دیکھتا۔ اس کی آنکھیں اُن بسوں کی تلاش میں تھیں جو وہ کبھی اس شہر کی سڑکوں پر ہی چھوڑ کر گیا تھا۔
کریم بخش اپنی نوکری سے ریٹائرمنٹ کے خاصے عرصے بعد کراچی آیا تھا۔ اب وہ کراچی سے باہر مضافاتی علاقے کی ایک چھوٹی سی بستی میں رہائش پذیر تھا۔ بچوں کے جوان ہونے کے بعد وہ بستی کا ہی ہوکر رہ گیا تھا۔ وہ جس کام سے کراچی آیا تھا ماضی کی یادوں نے اُسے اس قابل نہ چھوڑا کہ وہ خوشی خوشی اپنا مطلوبہ کام انجام دیتا۔ کریم بخش ٹوٹ چکا تھا۔ اسے اپنے شہر کراچی سے بہت محبت تھی، اسی لیے وہ بستی والوں کو یہاں پر گزارے ماہ وسال کی داستانیں سناتا تھا۔ اب اس کے سامنے وہ منظر آرہا تھا جس میں کراچی سے باہر کے مضافاتی علاقے کی وہ پسماندہ بستی جہاں کریم بخش اپنی زندگی کے ایام گزار رہا تھا، اس کی ہنسی اڑا رہی تھی۔ وہ ندامت اور شرمندگی سے زمین میں دھنستا جا رہا تھا۔ بستی کے ان نوجوانوں کی نظریں اس کے سینے میں تیر بن کر پیوست ہورہی تھیں جو اس کی طرف کراچی سے متعلق تعریفیں سن کر غور سے دیکھا کرتے تھے۔ وہ سمجھ چکا تھا کہ لوگ محض اس کی عزت کی خاطر اس کی باتیں سنا کرتے تھے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ بستی والوں نے تو یہ تباہ حال شہر ہی دیکھا ہوگا اس لیے اس کی بتائی ہوئی باتیں لوگوں کے نزدیک جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ہوں گی۔ کریم بخش جس طرح کراچی آیا، چند گھنٹے سڑک کے کنارے بیٹھ کر تلخ یادوں کے ساتھ واپس اپنی بستی کی طرف لوٹ گیا۔
اس داستان میں سب سے اہم نکتہ سندھ خاص طور پر کراچی میں باعزت پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی ہے۔ کراچی میں رہنے والا ہر شخص یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ جب یہ شہر دارالحکومت تھا تو یہاں عوام کے لیے بہترین ٹرانسپورٹ ہوا کرتی تھی۔ کراچی میں چلنے والی ٹرام سروس کی مثال ہی لے لیجیے، انگریز دور میں اپریل 1885ء میں چلائی جانے والی اس سروس کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ شروع شروع میں ٹرام بھاپ سے چلائی گئی، پھر آلودگی بڑھنے کی وجہ سے اسے گھوڑوں کی مدد سے کھینچا جانے لگا، بیسویں صدی میں ٹرام سروس ڈیزل سے چلنے لگی۔ یہاں ٹرام سروس کے متعلق تحریر کرنے کا مقصد عوام کو یہ بتانا ہے کہ انگریز دور میں عوام کے لیے جو ٹرانسپورٹ نظام بنایا گیا اُس میں آلودگی سمیت ہر اُس چیز کا خیال رکھا گیا جو شہریوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی تھی۔ پاکستان بننے کے بعد یہ ٹرام سروس محمد علی کمپنی کے نام سے چلائی جاتی رہی۔ گوروں کے زمانے میں جو سروس 63 ٹراموں پر مشتمل تھی، محمد علی کمپنی بنتے ہی فقط 5 ٹراموں تک محدود ہوگئی۔ 63 ٹراموں سے کمپنی کا 5 ٹراموں تک آجانا انتظامیہ کی ’’کارکردگی‘‘ کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ اس طرح 1975ء میں کراچی میں عوام کی آمد و رفت کا یہ 90 سالہ کامیاب نظام ہمیشہ کے لیے ختم کردیا گیا۔
ویسے تو کراچی میں ڈبل ڈیکر بسیں بھی چلا کرتی تھیں، لیکن 1975ء کے بعد کوئی بھی ایسی ٹرانسپورٹ سروس مستقل طور پر نہ چلائی گئی جس سے کراچی کے عوام کو ریلیف ملتا۔ مثلاً ایس آر ٹی سی کے نام سے چلائی جانے والی بس سروس جلد ہی کے آر ٹی سی کے نام سے چلائی جانے لگی۔ پھر ایک وقت ایسا آیا جب کراچی والوں نے یہاں کی سڑکوں پر لال رنگ کی لمبی بسوں کے دیدار کیے۔ یہ بسیں کراچی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے تحت لانڈھی، کورنگی، ملیر، نیو کراچی، شیرشاہ، گلشنِ حدید سمیت شہر کے مختلف علاقوں کے روٹس پر چلائی گئیں۔ یہ باقاعدہ طور پر منصوبہ بندی کے تحت چلائی جانے والی واحد سروس تھی جس سے نہ صرف کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں بہتری آئی بلکہ غریبوں کو آرام دہ سفری سہولت بھی میسر ہوئی۔ ان بسوں کے لیے روٹ کے مطابق ہر علاقے میں بیسیوں ایکڑ رقبے پر مشتمل ڈپو بنائے گئے، یعنی لانڈھی کورنگی سے صدر تک جانے والی بسوں کے لیے کورنگی کراسنگ کے قریب کئی ایکڑ پر محیط کشادہ بس ڈپو بنایا گیا، جس میں ورکشاپ، ڈینٹنگ پینٹنگ ڈپارٹمنٹ، گاڑیوں کے لیے ڈیزل سے لے کر مینٹی نینس تک کی تمام سہولیات موجود تھیں۔ اس بس سروس کا تمام عملہ سرکاری ملازم تھا۔ ان ملازمین کے ساتھ کیا ہوا یہ الگ موضوع ہے۔ قابلِ غور بات تو یہ ہے کہ ان سرکاری ملازمین اور کارپوریشن انتظامیہ نے حکومت کی ملی بھگت سے کراچی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی، جس کے ہاتھ جو لگا وہ لے کر چلتا بنا۔ ایک سازش کے تحت گاڑیوں کو خراب کیا جانے لگا، اعلیٰ کوالٹی کے ٹائر اور دیگر پرزہ جات چوری کرکے سستے داموں بازاروں میں فروخت کیے جاتے رہے۔ اس طرح اس ٹرانسپورٹ سروس کا حشر بھی سابقہ ادوار میں چلائی جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ جیسا کردیا گیا۔ اس کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومتِ سندھ اس تباہی کے ذمے داروں کے خلاف کوئی کارروائی کرتی اور لوگوں کے لیے سفری سہولیات میں بہتری لاتی، الٹا عوام کو دی جانے والی یہ سہولت مستقل طور پر منصوبہ بندی کے تحت ختم کردی گئی اور شہر کے مختلف علاقوں میں بنائے جانے والے بس ڈپوئوں کو قبضہ مافیا کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا۔ یہ عمارتیں ہر آنے والے دن کے ساتھ کھنڈرات میں تبدیل ہوتی گئیں اور حکومت کی نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے اب کسی بھوت بنگلے کا منظر پیش کرتی ہیں۔ بے حس حکمرانوں کے اقدامات کی وجہ سے ان عمارتوں کی جگہ چائنا کٹنگ ہونے کے خطرات بڑھتے جارہے ہیں۔ حکمرانوں نے ایک طرف سازش کے تحت کراچی کی سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب کردی، تو دوسری طرف شہریوں کو پرائیویٹ منی بس سروس اور رکشوں کے حوالے کردیا گیا۔ پرائیویٹ منی بس مالکان کی ہی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ نظام میں گالی کلچر متعارف ہوا، اور من مانیاں کرتے ہوئے کرایوں میں اضافے کیے گئے۔ زندہ قومیں وہی ہوا کرتی ہیں جو اپنے ماضی سے سبق حاصل کریں۔ حکمرانوں کو سندھ، خاص کر کراچی کے مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کرنے ہوں گے۔ کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ جیسے انتہائی توجہ طلب مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ سی پیک منصوبے کے تحت کراچی میں ریپڈ سروس کے تحت تیز رفتار ائیرکنڈیشنڈ بسوں کی سہولت دستیاب ہوگی جس پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ ٹرانسپورٹ مافیا سے شہر کو آزاد کروانے کے لیے مزید سفری منصوبوں کا آغاز کرنا ہوگا، خاص طور پر کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کے لیے کوششیں تیز کرنی ہوں گی، تب ہی قوم کو باعزت اور آرام دہ سفری سہولیات فراہم کی جاسکیں گی۔ بصورتِ دیگر آنے والے دنوں میں کراچی کی سڑکوں پر پرانا تانگہ سسٹم بحال کرنے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔