عالمی منظر نامہ ‘ سال 2017ء کیسا رہا؟

355

ڈاکٹر محمد اقبال خلیل
سال 2017ء کا آغاز ہی عالمِ انسانیت کے لیے بالعموم اور عالمِ اسلام کے لیے بالخصوص اچھا نہ تھا جب 20 جنوری کو دنیا کی سب سے طاقتور مملکت امریکا کے 45 ویں صدر کی حیثیت سے 71 سالہ بزنس مین ڈونلڈ ٹرمپ نے حلف اٹھایا۔ وہ خود امریکا میں بھی ایک تنازع پسند شخصیت تھے اور انہوں نے اپنی انتخابی حریف ہیلری کلنٹن سے 20 لاکھ ووٹ کم لیے تھے لیکن الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی بنیاد پر گزشتہ سال کامیاب قرار پائے تھے۔ 21 جنوری کو امریکا کے طول و عرض میں امریکی خواتین نے نئے امریکی صدر کے خلاف بھرپور احتجاجی مظاہرے کرکے ایک انوکھی مثال قائم کی۔ صرف امریکا میں چار سو سے زائد مظاہروں کے علاوہ پوری دنیا میں امریکی صدر کا استقبال مخالفانہ ریلیوں اور مظاہروں سے ہوا جن کی تعداد 168 ہے۔ اس طرح کسی بھی نئے امریکی صدر کے خلاف احتجاج کا ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم ہوا۔ داخلی طور پر امریکی صدر کے خلاف یہ مزاحمت سارا سال جاری رہی لیکن اس کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ خارجی دنیا میں اپنی پالیسیاں نافذ کرتے رہے، جس کا خاص نشانہ مسلمان ملک رہے۔
ٹرمپ نے روس، چین، شمالی کوریا، ایران اور پاکستان کے خلاف اپنی پالیسیاں مرتب کیں اور 7 مسلم ممالک کے خلاف سفری پابندیاں عائد کیں۔ انہوں نے ہندوستان کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے جس کا اعلان وہ انتخابی مہم کے دوران کرچکے تھے۔ انہوں نے افغانستان کے حوالے سے پاکستان کو دبائو میں رکھا اور اس کے فنڈز روکنے کے ساتھ ساتھ مسلسل دھمکیاں دیتے رہے۔ انہوں نے اسلامی دنیا میں مرکزی اہمیت کے حامل ملک سعودی عرب سے قریبی تعلقات استوار کرکے مسلمان ممالک کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی حکمت عملی اختیار کی، لیکن ان کی تمام پالیسیوں کا محور اسرائیل تھا جس کا اظہار 2017ء کے آخری ماہ دسمبر میں ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کرتے ہوئے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا اور امریکی سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
ایسا لگتا ہے کہ موجودہ امریکی صدر کا مقصدِ وجود ہی یہ کام تھا جس کے لیے سال بھر تیاری کی گئی، حالانکہ اسرائیل 1980ء میں مشرقی اور مغربی یروشلم کو ایک کرنے کے اعلان کے ساتھ اس کو اپنا دارالحکومت قرار دے چکا تھا، لیکن عالمی برادری نے اُس کے اس اقدام کو قبول نہیں کیا تھا، اور وہ ممالک جن کے سفارتی تعلقات اسرائیل سے قائم تھے انہوں نے بھی اپنے سفارت خانے تل ابیب ہی میں برقرار رکھے تھے۔ گزشتہ امریکی حکومتوں نے بھی اسرائیل سے وعدوں کے باوجود اس اقدام سے اجتناب کیا تھا، کیونکہ مشرقی یروشلم یا القدس شریف پر اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں قبضہ کیا تھا اور اقوام متحدہ یا کسی بھی اور عالمی فورم نے اس کے قبضے کو قانونی سندِ جواز عطا نہیں کی ہے۔
13 دسمبر کو ترکی کے شہر استنبول میں 57 رکنی اسلامی کانفرنس تنظیم کا چھٹا غیر معمولی سربراہ اجلاس ہوا جس میں تمام مسلمان ممالک کے قائدین نے امریکی فیصلے کی مذمت کی اور اس کو ماننے سے انکار کردیا۔ ان میں امریکا کے حلیف اسلامی ممالک مصر، سعودی عرب، عراق اور افغانستان بھی شامل تھے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کی قیادت میں اسلامی کانفرنس تنظیم (OIC) نے آزاد فلسطین کے دارالحکومت کے طور پر بیت القمدس کا اعلان کیا اور اقوام متحدہ میں امریکی فیصلے کے خلاف جانے کا اعلان کیا۔ چنانچہ مصر کی درخواست پر 22 دسمبر کو سلامتی کونسل کا غیر معمولی اجلاس ہوا جس میں بیت المقدس کی حیثیت کو برقرار رکھنے اور اس کو نہ چھیڑنے کی قرارداد پیش کی گئی جس کی15 رکنی سلامتی کونسل کے تمام ارکان بشمول عالمی طاقتوں اور مستقل ارکان روس، چین، برطانیہ اور فرانس سب نے حمایت کی۔ امریکا نے اس قرارداد کو ویٹو کردیا لیکن عالمی سطح پر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی سپر طاقت تنہا نظر آئی۔ اس کے بعد اسلامی کانفرنس تنظیم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس طلب کیا اور ترکی، پاکستان اور یمن کی درخواست پر 193 رکنی جنرل اسمبلی کا غیر معمولی اجلاس 25 دسمبر کو منعقد ہوا۔ اس دوران امریکی صدر کے ایما پر اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نکی ہیلی نے احمقانہ طرزعمل اختیار کرتے ہوئے کمزور ایشیائی اور افریقی ممالک کو دھمکیاں دیں اور جو ممالک امریکا سے امداد لیتے ہیں اُن کے لیے اقتصادی تعاون بند کرنے کا اعلان کیا، جس پر امریکا کی جگ ہنسائی ہوئی اور سفارتی حلقوں میں اس کا مذاق اڑایا گیا۔ ان تمام تر دھمکیوں کے باوجود 128 ممالک نے امریکی فیصلے کے خلاف قرارداد کے حق میں ووٹ دیا اور امریکا و اسرائیل کے علاوہ صرف 7 چھوٹے چھوٹے ممالک نے اس کے خلاف ووٹ دیا جن میں گوئٹے مالا، ہنڈراس، پانامہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس طرح جنوری 2017ء میں بننے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سال کے آخر میں عالمی سطح پر ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جس کا اثر 2018ء میں ظاہر ہوگا اور عالمی سطح پر ایک نئی صف بندی کا امکان نظر آتا ہے۔
قدرتی آفات و سانحات:
2017ء میں عالمی سطح پر قدرتی آفات کا سلسلہ بھی جاری رہا، جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی و بربادی اور انسانی جانوں کے اتلاف کا سامنا رہا۔
٭ 21 اگست کو دنیا کے ایک بڑے خطے پر مکمل سورج گرہن کا واقعہ پیش آیا جس کا مشاہدہ کروڑوں انسانوں نے کیا۔
٭ 25 اگست کو امریکا میں ایک بڑا سمندری طوفان ہاروے کے نام سے آیا جس میں 90 افراد ہلاک اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔
٭ 6 ستمبر کو امریکا اور ملحقہ علاقوں کیربین ریاستوں، میکسیکو وغیرہ میں ایک بڑا سمندری طوفان آیا جو کئی دن تک جاری رہا جس کے نتیجے میں 134 افراد ہلاک جب کہ لاکھوں بے گھر ہوئے۔
٭ 19 ستمبر کو میکسیکو میں ایک تباہ کن زلزلے میں 350 جانیں ضائع اور ہزاروں افراد زخمی ہوئے۔
٭ 19۔20 ستمبر کو ایک بار پھر امریکی ساحلی علاقوں میں ایک اور بڑا سمندری طوفان آیا جس کو Mari کا نام دیا گیا جس میں 94 افراد ہلاک ہوئے۔
٭ 12 نومبر کو عراق اور ایران کے سرحدی علاقوں میں 7.3 ریکٹر اسکیل کا زلزلہ آیا جس میں 530 انسانی جانوں کا نقصان ہوا اور اندازاً 70 ہزار گھر تباہ ہوگئے۔
دہشت گردی کے واقعات:
گزشتہ سال کی طرح 2017ء میں بھی دہشت گردی، بم دھماکوں اور خودکش حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ واقعات صرف افغانستان، پاکستان اور عراق تک محدود نہ رہے بلکہ امریکا، یورپ اور دیگر ممالک میں بھی وقوع پذیر ہوتے رہے۔ کئی واقعات کی ذمے داری داعش نے قبول کی۔
٭ 22 مئی کو برطانیہ کے بڑے شہر مانچسٹر میں ایک میوزیکل کنسرٹ کے مقام پر دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا جس میں 22 افراد ہلاک اور 500 زخمی ہوئے، اس کے علاوہ لندن میں بھی ایک حملہ آور نے 4 افراد کو ہلاک کیا۔
٭ 7 جون کو ایران کے دارالحکومت تہران میں پارلیمنٹ پر حملہ ہوا جو ایران میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔ اسی دن قم میں آیت اللہ خمینی کے مزار پر بھی حملہ ہوا جس میں 17 افراد ہلاک اور 43 زخمی ہوئے۔
٭ یکم اکتوبر کو امریکی شہر لاس ویگاس میں ایک دہشت گرد امریکی جنونی اسٹیفن پیڈوک نے فائرنگ کرکے 58 افراد کو ہلاک اور 500 سے زائد کو زخمی کردیا۔
٭ 14 اکتوبر کو صومالیہ کے دارالحکومت موغا دیشو میں ٹرک بم دھماکے میں ایک امدادی مرکز میں 512 افراد ہلاک کردیے گئے اور 316 زخمی ہوگئے۔
٭ 24 نومبر کو ایک اندوہناک واقعہ مصر کے علاقے سینائی کی ایک جامع مسجد پر خودکش حملے کی صورت میں پیش آیا جس میں 305 نمازی شہید اور سینکڑوں زخمی ہوگئے۔
شمالی کوریا کے تجربات:
سال 2017ء میں عالمی سطح پر شمالی کوریا کے دور مار میزائل کے تجربات نے دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول رکھی۔ ان دور مار میزائلوں کے تجربات نے خاص طور پر امریکا کے صدر ٹرمپ کو پریشان رکھا اور وہ اپنی تمام تر طاقت اور کوششوں کے باوجود اس پر قابو نہ پا سکا۔
٭ 11 فروری کو شمالی کوریا نے ایک میزائل جاپان کے سمندر میں پھینکا جس کا مقصد امریکی اتحادیوں کو انتباہ کرنا تھا۔
٭ 4 جولائی کو شمالی کوریا نے اپنے پہلے بین البراعظمی میزائل کا تجربہ کیا اور ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ اب وہ امریکا کے کسی بھی شہر کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
٭ 5 اگست کو امریکا کے ایما پر سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں شمالی کوریا پر اقتصادی اور کاروباری پابندیاں لگانے کا فیصلہ ہوا۔
٭ 3 ستمبر کو عالمی دبائو کی پروا نہ کرتے ہوئے شمالی کوریا نے ایک اور بین البراعظمی میزائل کا تجربہ کیا اور ہائیڈروجن بم بنانے کا اعلان بھی کیا۔ امریکی صدر نے اپنے دورۂ چین میں چین سے شمالی کوریا پر دبائو ڈالنے کی استدعا کی، لیکن چین نے اس پر کسی گرم جوشی کا مظاہرہ نہ کیا، بعد میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ چین سے شمالی کوریا کو تیل کی ترسیل جاری ہے۔
عراق اور شام میں داعش کو شکست کا سامنا:
2014ء سے ابھرنے والی ایک بڑی مسلح تنظیم داعش کو 2017ء میں پے درپے شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے ٹھکانوں پر روسی، امریکی، برطانوی اور فرانسیسی جہاز مسلسل بم باری کرتے رہے، جس سے بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کی ہلاکتیں ہوئیں اور داعش کو پسپائی اختیار کرنی پڑی۔
٭ 21 جون کو موصل شہر میں واقع تاریخی جامع مسجد النوری کو خود داعش کے اہلکاروں نے بموں سے تباہ کردیا جو ان کا مرکز رہا تھا، اور جہاں سے داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی نے اپنی خلافت کا اعلان کیا تھا۔
٭ 10 جولائی کو داعش نے موصل شہر کو خالی کردیا اور عراقی افواج نے شہر کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا۔
٭ 17 اکتوبر کو شامی افواج نے شام میں داعش کے مرکز رقہ پر قبضہ کرلیا۔
٭ 3 نومبر کو شام میں دیرالزور شہر اور عراق میں القائم شہر پر حکومتی افواج نے داعش کا قبضہ ختم کردیا۔
٭ 9 دسمبر کو عراقی حکومت نے اعلان کیا کہ اس نے عراق کے تمام علاقوں سے داعش کا قبضہ ختم کردیا ہے اور شام کے ساتھ سرحد اب اس کے کنٹرول میںہے۔
میانمر میں مسلمانوں کی نسل کشی:
جنوب مشرقی ملک برما (میانمر) میں بدھ بھکشوئوں اور برمی حکومت کے ہاتھوں راکھین صوبے میں روہنگیا نسل کے مسلمانوں کا قتل گزشتہ سال کی طرح 2017ء میں بھی جاری رہا، جس کے نتیجے میں لاکھوں مسلمان نقل مکانی کرگئے اور ہزاروں کی تعداد میں قتل کردیے گئے، ان کے مکانوں، املاک اور فصلوں کو بڑے پیمانے پر آگ لگا دی گئی جس کی فضائی تصویریں پوری دنیا کے میڈیا میں رپورٹ کی گئیں، اس کے باوجود برمی حکومت کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہ کی گئی اور صرف احتجاج تک ردعمل ہوتا رہا۔
25 اگست کو اقوام متحدہ کے ادارے UNHCR کی کمشنر کی رپورٹ میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں کو ’’نسل کشی‘‘ قرار دیا گیا بلکہ اس کو نسل کشی کی ایک مثال بتایا گیا۔ “Textbook example”
٭ اس سال کے آخر تک 6 لاکھ 20 ہزار روہنگیا مسلمان جو کُل تعداد کا نصف بنتے ہیں، بنگلہ دیش میں پناہ لے چکے ہیں۔ بنگلہ دیش اور میانمر کی حکومتوں کے درمیان پناہ گزینوں کی واپسی پر مذاکرات بھی ہوئے ہیں۔ چین نے بھی ایک تجویز پیش کی ہے اور ایک معاہدے کی نوید بھی سنائی گئی ہے، لیکن عملاً کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے اور ان بدقسمت افراد کا حال اور مستقبل انتہائی مخدوش اور خوفناک ہے۔
سیاسی، جغرافیائی تبدیلیاں اور واقعات:
٭ 29 مارچ کو برطانیہ میں ایک ریفرنڈم کے بعد حکومت نے یورپی یونین چھوڑنے اور اس سے نکلنے کا اعلان کردیا، جس کے لیے “Brexit” کی اصطلاح استعمال ہوئی۔ اس فیصلے پر دو سال میں عمل ہوگا اور اس کے یورپ کے مستقبل پر دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔
٭ 25 ستمبر کو عراق کے نیم خودمختار علاقے کردستان نے ایک ریفرنڈم کے بعد مکمل خودمختاری اور آزادی کا اعلان کردیا۔ یاد رہے کہ کرد آبادی عراق کے علاوہ ترکی، ایران اور شام میں بھی موجود ہے۔
٭ 25 اکتوبر کو چین کی کمیونسٹ پارٹی نے موجودہ صدر اور جنرل سیکرٹری زی جن پنگ کو دوسری مدت کے لیے پارٹی کا جنرل سیکرٹری مقرر کردیا۔
٭ 27 اکتوبر کو اسپین کے صوبے کیٹالونیا نے ایک ریفرنڈم کے بعد آزادی کا اعلان کردیا۔
(جاری ہے)