ذرا نم ہو تو یہ مٹی…۔

284

فرحت طاہر
’’ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی‘‘
یہ علامہ اقبال کے ایک شعر کا مصرع ہے جو ربع صدی سے امت کا درد رکھنے والوںکے لیے امید کا استعارہ ہے، مگر دراصل یہ محترمہ بنت الاسلام کے ناول کا عنوان ہے جو سقوطِ ڈھاکا کے تناظر میں لکھا گیا ہے۔ یہ ناول1978 ء میں پہلی دفعہ شائع ہوا جب مشرقی بازو کو جدا ہوئے سات برس گزر چکے تھے۔ آنکھوں سے بہتے آنسوئوں کو منجمد ہونے میں اتنا عرصہ تو لگتا ہے! جی ہاں! کچھ غم ایسے ہوتے ہیں جو رونے سے ہلکے نہیں ہوتے بلکہ دل اور آنکھوں میں ٹھیر جاتے ہیں۔ سقوطِ ڈھاکا بھی ایسا ہی ایک موضوع ہے۔
اس ناول کا انتساب مصنفہ نے نئی اور نوجوان خواتین اور اپنے اُس عزیز ادارے کے نام کیا ہے جہاں وہ درس و تدریس کا فریضہ انجام دے رہی تھیں، اور اس کی معنویت اُس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب قاری کو معلوم ہوتا ہے کہ ناول کا ماحول اسی کالج کا احاطہ کرتا ہے اور اس کے تمام کردار معاشرے کی عکاسی کرتے نظر آتے ہیں۔ مثبت اور منفی، شیخی خور، جذباتی، دلچسپ اور خشک مزاج، جاہ پرست، اسلام پسند اور لادین عناصر، محب وطن اور غدارِ وطن…گویا معاشرے میں جتنی اقسام کے کردار پائے جاتے ہیں ان کی جھلک کالج کے اس ماحول میں نظر آتی ہے۔ یوں تو یہ ایک معاشرتی ناول کی صف میں شامل ہوگا مگر اس میں معاشرے کی تعلیمی، اخلاقی، روحانی، نفسیاتی، معاشی، حتیٰ کہ سیاسی صورتِ حال بھی واضح دکھائی دیتی ہے۔ گویا اس ناول میں ایک معاشرے کے ہر قسم کے کردار کی نمائندگی نظر آتی ہے…کالج اور خصوصاً ہاسٹل کی زندگی کی بھرپور جھلک نظر آتی ہے۔ اور ان سے وابستہ کرداروں کے مسائل بڑی خوبصورتی سے اجاگر کیے گئے ہیں۔ ساتھ ہی ان کو کسی نہ کسی منطقی انجام کی طرف جاتا بھی دکھایا گیا ہے۔
چار سو سے زیادہ صفحات پر مشتمل اس ناول میں بائیس ابواب ہیں، جس کا آغاز ایک تعلیمی، تفریحی دورے سے ہوتا ہے جس میں کالج کی لڑکیاں اساتذہ کے ہمراہ روانہ ہورہی ہیں۔ قاری کی دلچسپی اس سفر کے ذریعے ملک کے بالائی علاقوں کے جغرافیہ اور اپنی تاریخ سے ہوتی ہے۔ اگلے باب میں ہاسٹل کی سالِ اوّل کی طالبات گڑیا کی شادی کرتی نظر آتی ہیں۔ اس منظرکشی میں طالبات کی ہلکی پھلکی جھڑپوں کے دوران معاشرتی رسومات کو زیربحث لایا جاتا ہے۔ اس کے بعد مختلف ابواب میں یکے بعد دیگرے کالج کی سرگرمیاں اسپورٹس ڈے، تقریری مقابلہ، امتحانات کا موسم، سیلاب زدگان کے لیے ہونے والی کارروائیوں کے علاوہ ٹیچرز میٹنگ، ٹیچرز اسٹاف روم میں ہونے والی شاعرانہ اور عالمانہ بحثیں ماڈرن عورت خصوصاً ورکنگ ویمن کے مسائل کا احاطہ کرتی نظر آتی ہیں اور قاری ان تمام مناظر، کرداروں اور مکالموں میں اپنے آپ کو کھوجتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آج شاید مسائل کی نوعیت بدل گئی ہو مگر ان کے عنوانات وہی ہیں جو اس چالیس سال پرانے ناول میں نظر آتے ہیں، مثلاً ٹیچرز میٹنگ کے ایجنڈے کے تین نکات یوں ہیں:
1۔ طالبات کا گستاخ اور شوریدہ سر ہوجانا
2۔ طالبات کے لباس کی بڑھتی ہوئی عریانی
3۔ بعض لیکچرر خواتین کا باقاعدگی سے کلاسیں نہ لینا اور کالج کے ٹائم ٹیبل کی پروا نہ کرنا
طالبات اور اساتذہ کی اخلاقی صورتِ حال اور اس کی روک تھام کے اقدامات کا ذکر بھی بڑے فطری انداز میں موجود ہے۔ کالج میں موجود اسٹاف اور طالبات کے مختلف اقسام کے گروہوں کے درمیان پائے جانے والے فرق کا ذکر ان الفاظ میں ہے:
’’…جن لوگوں کے دل میں دین اور وطن کی سچی محبت تھی، وہ تو تن من دھن سے مصیبت زدگان کی مدد میں مصروف ہوجاتے… جن لوگوں کے دل میں دین اور وطن کی اتنی گہری محبت نہیں تھی تاہم کچھ جذباتی لگائو ضرور تھا، وہ اپنے اپنے میلانِ طبع کے مطابق رویہ اختیار کرلیتے تھے۔ ان میں سے بعض تو امدادی کاموں میں مدد دیتے اور بعض جان بچا کر بھاگ جاتے اور… بہرحال یہ لوگ دین اور وطن کے خلاف ہرزہ سرائیوں میں مشغول نہیں ہوتے تھے۔ اب رہا تیسرا گروہ جن کے دل دین کی محبت سے بالکل خالی تھے اور جن کی نگاہوں میں اغیار کے طور طریقے بسے ہوئے تھے انہیں اس عمارت سے بھی کوئی لگائو نہ تھا جو دین کی بنیادوں پر قائم ہوئی تھی۔ ان کا رتبہ اونچا تھا اور پاکستان ان سے بہت نیچا تھا۔ پاکستان بھی جب اپنی کوتاہیوں کے باعث پریشانیوں کا شکار ہوتا تو ان نقادوں کا رویہ سخت غیر ہمدردانہ، ظالمانہ بلکہ دشمنانہ ہوجایا کرتا تھا… اُن دنوں جب پاکستان ایک لمبے عرصے سے سخت قسم کی پریشانیوں اور الجھنوں کا شکار تھا، یہ تینوں گروہ اپنے اپنے مخصوص رویُے کا بھرپور مظاہرہ کررہے تھے۔‘‘
ناول میں 1970ء کا زمانہ دکھایا گیا ہے۔ اس کے حوالے سے ملکی صورتِ حال پر بھی تبصرے، تجزیے، خدشات اور تفکرات مختلف کرداروں کی زبانی پڑھنے کو ملتے ہیں۔ اس میں انتخابات سے پہلے اور بعد کے واقعات اور حالات مکالمے کی صورت میں ہیں۔ خاص طور پر عین انتخابات کے دن جعلی ووٹ ڈالنے اور ڈلوانے والے حماقت بھرے مناظر دلچسپی کے ساتھ ہمارے انتخابی نظام پر ہلکی سی ضرب لگاتے ہیں۔ انتخابات کے بعد ناول میں موجود تمام کردار اپنے اپنے نظریے کے مطابق ردعمل دیتے نظر آتے ہیں۔
مصنفہ نے مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں ایک تمثیل کے ذریعے اپنے قارئین کو اس مسئلے سے آگاہی دینے کی کوشش کی ہے:
’’مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کی حالت اس وقت ٹھیک ٹھیک مشابہت رکھتی تھی اُن دو بھائیوں سے، جنہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ بھرپور تعاون کرکے، بڑی محنت اور کوشش صرف کرکے باپ دادا کے گروی رکھے ہوئے آبائی مکان کو آزاد کرایا اور پھر باہمی محبت کی ترنگ میں آکر اکٹھے رہنے کا فیصلہ کرلیا۔ اُس وقت تو ایک دوسرے کی ایسی چاہت اٹھ رہی تھی کہ آمدنیاں اور اخراجات بھی اکٹھے کرلیے، حد یہ کہ باورچی خانہ تک مشترک رکھا… مگر تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ کچھ اخلاقی کمزوریوں کے باعث اور کچھ دونوں کنبوں کے ایسے عناصر کے باعث جو شروع ہی سے مشترکہ رہائش کے مخالف تھے، اختلافات سر اٹھانے لگے۔ اب اگر معاملہ گھر کے اندر تک رہتا تو بھی خیر تھی۔ وہ آپس میں کچھ سمجھوتا کر ہی لیتے، مگر ستم یہ ہوا کہ ہمسایہ اور اہلِ محلہ بڑے کینہ توز تھے، انہیں دونوں بھائیوں کا اتفاق ایک آنکھ نہیں بھایا۔ انہوں نے بڑے کو چھوٹے کے خلاف بھڑکانا شروع کردیا کہ دیکھو کماتے تم زیادہ ہو اور کھاتا زیادہ چھوٹے کا کنبہ ہے، اور عمر میں تم بڑے ہو اور گھر کا بندوبست کرنے کے زیادہ اختیارات چھوٹے کے پاس ہیں۔ بڑا بھی کچھ جذباتی سا واقع ہوا تھا، اور معاملات کو دور تک دیکھنے کی صلاحیت سے بہت کچھ عاری تھا، وہ ان لگائی بجھائی کرنے والوں کی باتوں میں آکر آئے دن چھوٹے سے بگڑنے لگا… ’’جو کچھ ہوگا دیکھا جائے گا‘‘ بڑے نے کمالِ بے نیازی سے کہا ’’بس اب مجھے اپنی کمائی کا ایک پیسہ بھی تمہارے ہاتھ پر نہیں رکھنا، اور اپنے کنبے کا بندوبست بھی میں خود کروں گا… تم اپنے کنبے کو سنبھالو۔‘‘
یہ تمثیل ملکی حالات کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ ایک ایسا ناول جس کے قارئین کی غالب اکثریت خواتین کی ہوسکتی ہے، اس مثال کے ذریعے سقوطِ مشرقی پاکستان کو کسی تاریخی کتب کے مقابلے میں بہتر انداز میں سمجھ سکتی ہے۔
اس ناول کا مرکزی کردار منزہ اصغر، اسلامیات کی لیکچرر ہے جو ایک قدامت پسند جاگیردارانہ پس منظر رکھنے کے باوجود تعلیم اور اس کے نتیجے میں در آنے والے شعور سے مالامال ہے۔ خاندان اور خاص طور پر منگیتر اس کی ملازمت کے شدید مخالف ہیں، مگر اپنے والد کی ر ضامندی اور حوصلہ افزائی کے باعث وہ اس پیغمبری پیشے سے منسلک اپنا کام عبادت سمجھ کر کررہی ہے۔ طالبات میں مرکزی کردار ثمر کا ہے۔ ایک ذہین، باشعور اور اپنی عمر سے کہیں سنجیدہ اور بہادر طالبہ ہاسٹل میں رہائش پذیر ہے، اس کے والد مشرقی پاکستان میں ملازمت کرتے ہیں جنہیں بنگالی شدت پسندوں نے مشرقی پاکستان میں شہید کرکے لاش دریا میں ڈال دی۔ اطلاع پہنچنے پر گھر میں سوگ کی منظرکشی پر قاری بڑی مشکل سے اپنے آنسوئوں کو ضبط کرتا ہے۔ کالج اور ہاسٹل اسٹاف تعزیت کو آتا ہے۔ اس کی بیوہ ماں اس صدمے سے نڈھال ہے ۔ اس ذہنی کیفیت میں کہے گئے جملے نظریہ پاکستان کے مقصد کو سامنے لاتے ہیں:
’’…اس رات پاکستان بنا تھا… میں نے اس رات بہت عبادت کی تھی … وہ تو ستائیسویں کی رات تھی… خیر و برکت کی رات… میں نے اس رات بہت دعا کی تھی…!!!‘‘
ناول کے اختتامی ابواب کی طرف جاتے جاتے مشرقی پاکستان کے بعد مغربی پاکستان میں بھی جنگ چھڑ جاتی ہے۔ اور آخری پانچ ابواب میں اسی حوالے سے سرگرمیوں، انسانی نفسیات، جذبات اور رویوں کی منظرکشی کی گئی ہے۔ جنگ کی ہولناکی میں کس طرح سب اپنے اپنے اختلافات، رنجشیں اور شیخیاں بھول کر ملک کی سلامتی کی تگ و دو میں لگ جاتے ہیں۔ اس میں اجتماعی استغفار اور دعائوں کی محافل بھی ہیں اور رضا کارانہ امدادی سرگرمیاں جن میں فنڈ جمع کرنے سے لے کر فوجیوں کے لیے گرم کپڑوں کی تیاری، تحائف کی تقسیم، اور زخمیوں کی عیادت تک شامل ہے۔ ان کے ساتھ فوجیوں کی بیگمات بھی شامل ہیں جو چند سال پہلے بھی ان حالات سے گزر چکی ہیں، لیکن اس دفعہ کے حالات کیوں مختلف ہیں، یہ اس مکالمے سے معلوم ہوتا ہے:
’’…1965ء کی جنگ اور اِس جنگ میں بہت فرق ہے‘‘۔ بیگم امتیاز نے کہا۔ ’’وہ جنگ تھی، یہ گویا خانہ جنگی ہے۔ تب ہم سب مل کر دشمن کا مقابلہ کررہے تھے، اب یہ خیال ہی کافی جان لیوا ہے کہ مقابلے میں غیر ہی نہیں اپنے بھی ہیں…‘‘
جنگ کے غیر معمولی حالات میں انھی سرگرمیوں کے دوران زنانہ گفتگو میں بہت سے جوہر کھلتے ہیں۔ ایک خواب جو سب کو دہلا دیتا ہے:
’’…میں نے دیکھا کہ ایک خوبصورت سی کرسی ہے اور اس کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی ہے تو میں بہت روتی ہوں اور تڑپتی ہوں کہ کسی طرح یہ جڑ جائے، مگر وہ نہیں جڑتی… وہ کرسی سے علیحدہ ہوکر نیچے گر جاتی ہے۔‘‘ اس پریشان کن خواب کو سن کر کسی کی ہمت نہیں ہوتی کہ تبصرہ کرسکے۔
’’آپ کی کیا مراد ہے مس؟‘‘ زرفشاں نے کہا۔
’’وہ کرسی پاکستان تھی اور اس کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ…‘‘ اس نے اپنے اندر اتنا حوصلہ نہ پایا کہ بات کو پورا کرسکے۔کچھ خواب جن سے حاضرینِ محفل تو ضرور مسرور نظر آتے ہیں مگر قاری جو تاریخ کے اس سانحہ سے آگاہ ہے اس خواب کو زیادہ اہمیت دیتا ہے جو منزہ اصغر نے دیکھا تھا:
’’رسولؐ خدا حسین، مقدس، پاکیزہ اور باوقار چہرہ لیے تشریف لائے ہیں… نہ مقدس لب ہلے تھے اور نہ کچھ فرمایا گیا تھا مگر لمبی لمبی پلکوں والی سرمگیں آنکھوں سے موتیوں کی طرح آنسوئوں کے قطرے ٹپک رہے تھے اور وہ خاموشی غمگینی ہزار ہا داستانیں بیان فرما رہی تھی!‘‘ کیسی اندوہناک پیشن گوئی تھی اس بدنصیب قوم کے لیے جسے ’’امتی‘‘ کے معزز لقب سے سرفراز فرمایا جاچکا تھا… اسے اس امر میں ذرا سا بھی شک نہ رہا تھا کہ اس مقدس چہرے پر حزن کے آثار کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ مغربی پاکستان بازی ہار چکا تھا۔ چھوٹا بھائی بری طرح مات کھا چکا تھا۔ اور وہ بڑا نادان ’’فاتح‘‘ اپنی غلامی کی دستاویز پر دستخط کررہا تھا۔ یہ خواب تھا یا تخیل، مگر رات سولہ دسمبر کی تھی۔
سقوطِ ڈھاکا!
آخری باب میں منزہ اصغرکی شادی کا منظر اپنے اسی منگیتر کے ساتھ ہے، مگر اس عظیم سانحے کے سامنے مزاجوں کے اختلاف کی حیثیت ختم ہوچکی ہے اور امید کے سائے لیے ناول اختتام کو پہنچتا ہے۔ اس ناول کو پڑھنے والی تیسری نسل جوان ہوچکی ہے۔ اور نئی نسل کو اپنے مستقبل کی صورت گری میں ضرور اس ناول سے استفادہ کرنا چاہیے۔