بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

212

نازش گلزار
قائداعظم محمد علی جناح 25 دسمبر1876ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام جناح پونجا تھا جو کاٹھیا واڑ سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ کراچی میں کاروبار کرتے تھے اور چمڑے کے بڑے تاجروں میں شمار ہوتے تھے۔ محمد علی جناح کی پرورش بڑے نازو نعم میں کی گئی۔ ابتدائی تعلیم بمبئی کے پرائمری اسکول سے حاصل کرنے کے بعد ان کا داخلہ 1891ء میں مشن ہائی اسکول کراچی میں کروایا گیا۔ سولہ سال کی عمر میں میٹرک کیا۔ آپ کے والد آپ کو کاروبار میں لگانے کے خواہش مند تھے مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ آپ کے والد نے اپنے ایک انگریز دوست کا مشورہ قبول کیا اور محمد علی جناح کو کاروبار میں شریک کرنے کے بجائے قانون کی اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان بھجوا دیا۔ آپ نے وہاں کے ایک ادارے لنکن اِن میں داخلہ لے لیا کیوں کہ اس کے صدر دروازے پر دنیا کے مشہور قانون دانوں کے نام تحریر تھے اور ان میں نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک بھی شامل تھا۔ آپ نے وہاں سے بیس سال کی عمر میں بیرسٹری کا امتحان پاس کر لیا۔ اس عرصے میں برصغیر کے حالات بہتر نہ تھے، اسی لیے علامہ اقبال نے آپ کو واپسی کا مشورہ دیا۔ اُس وقت مسلمان بڑے نازک دور سے گزر رہے تھے، اسی لیے قائداعظم نے علامہ اقبال کا مشورہ مانتے ہوئے واپسی کا ارادہ کیا۔ واپس آکر انہوں نے مسلمانانِ ہند کی بھرپور قیادت کی۔ ان دنوں پنڈت جواہر لعل نہرو نے اعلان کیا کہ برصغیر میں صرف دو قوتیں ہیں ایک ہندو دوسرے انگریز، لیکن اُس وقت قائداعظم نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ یہاں ایک تیسری طاقت بھی موجود ہے اور وہ ہے مسلمان۔ اُس زمانے میںآپ وکالت کی پریکٹس بھی کررہے تھے، لیکن جب کراچی میں آپ کو خاطر خواہ کامیابیاں نہ ملیں تو آپ بمبئی چلے گئے۔ اس دوران تین سال تک آپ کو کوئی مقدمہ نہیں ملا لیکن آپ نے ہمت نہ ہاری۔ انہی دنوں آپ کو پریسیڈنسی مجسٹریٹ کے عہدے کی پیش کش ہوئی اور آپ کی صلاحیتوں سے متاثر ہوکر سر کار نے 1500 روپے مشاہرہ بھی مقرر کیا، لیکن آپ نے شکریے کے ساتھ یہ پیش کش مسترد کردی کہ میں تو اتنی رقم روز کمانا چاہتا ہوں۔ جلد ہی آپ کی وکالت چمک اٹھی اور آپ نامور وکلاء میں شمار ہونے لگے۔ ایک دفعہ ایک مقدمے کی پیروی کے دوران مجسٹریٹ نے آپ سے کہا کہ ’’آپ کسی تھرڈ کلاس مجسٹریٹ سے مخاطب نہیں ہیں‘‘۔ قائداعظم نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’مائی لارڈ آپ بھی کسی تھرڈکلاس وکیل سے مخاطب نہیں ہیں‘‘۔ آپ ایک بے باک اور نڈر سیاسی لیڈر تھے۔آپ کی جرأت اور حق گوئی کے اعتراف کے طور پر اہلِ بمبئی نے جناح ہال تعمیر کیا۔
قائداعظم کی دوررس نگاہوں نے ہندوئوں کی سازشوں کو محسوس کرلیا تھا اس لیے 1913ء میں کانگریس چھوڑ کر مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔آپ نے جان توڑ محنت سے مملکتِ خداداد کے حصول کے لیے کام کیا۔ آپ کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح اس تمامتر جدوجہد میں آپ کے شانہ بشانہ تھیں۔ قائداعظم کے نزدیک پاکستان کے حصول کا مقصد بہت واضح تھا۔ آپ کہا کرتے تھے کہ ’’ہم نے پاکستان اس لیے حاصل کیا ہے کہ اسے اسلام کی تجربہ گاہ بنا سکیں۔ ہمارا آئین بنا بنایا تھا جو کہ چودہ سو سال سے موجود ہے یعنی قرآن مجید۔ ہم نے پاکستان اس لیے حاصل کیا تھا کہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں اسلام کو نافذ کریں۔‘‘ سالہا سال کی محنت و مشقت سے قائداعظم محمد علی جناح کی صحت خراب ہوچکی تھی اور وہ بیماری کی حالت میں بھی لگاتار محنت کرتے رہے۔ آخرکار 11 ستمبر 1948ء کو خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ آپ کو کراچی میں دفن کیا گیا جہاں ایک پُرشکوہ مقبرہ تعمیر کیا گیا۔آپ کا پیغام ایمان، اتحاد اور تنظیم تھا۔ یہی وہ پیغام ہے جس میں قوم کی ترقی اور بقا کا راز مضمر ہے۔