اماں جی کی جدائی

1186

راجا فاضل حسین تبسم
’’ماں‘‘ کتنا نرم و گداز اور شیریں لفظ ہے، کتنا حسین اور دلکش۔ اس لفظ کی خوب صورتی اور کشش کا اندازہ اُسے ہی ہوسکتا ہے جس نے ماں کی محبت اور چاہت کے ہلکورے لیے ہوں۔ ماں جیسی بلند ہستی اللہ کی قدرت کے کرشموں میں ایک انوکھا اور منفرد شاہکار ہے۔ ماں کی صحیح قدر و قیمت کا اندازہ تبھی ہوتا ہے جب وہ دنیا کی آلائشوں سے پاک ہوکر ہم سے بہت دور خاموش اور سنسان بستی میں چلی جاتی ہے۔ اس عظیم نعمت کی قدر چھن جانے پر ہوتی ہے، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سب کچھ چھن گیا۔ 30 نومبر 2015ء کو میری امی جی پی اے ای سی اسپتال اسلام آباد میں جلدی جلدی وضو کرکے ایسی بستر پر لیٹیں کہ پھر نہ اٹھیں۔ ڈاکٹروں کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود وہ جاں بر نہ ہوئیں اور ہارٹ اٹیک کے باعث اپنے رب سے جا ملیں۔ ’’اے نفسِ مطمئنہ چل تُو اپنے رب کی طرف، تُو اس سے راضی ہو وہ تجھ سے راضی ہو۔‘‘
امی جی کو ہم سے جدا ہوئے دو سال بیت چکے ہیں، ان کی جدائی کے غم سے ہر لمحہ آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ امی نے خود مشکلات میں زندگی گزاری لیکن ہمیں اچھے تعلیمی اداروں میں تعلیم دلوائی۔ الحمدللہ والدہ صاحبہ نے اپنی زندگی میں ہماری تعلیم و تربیت کا بہت خیال رکھا۔ آج ہم جو کچھ یا جس مقام پر ہیں، والدہ کی دعائوں اور تربیت کے نتیجے میں ہی ہیں۔ امی جی نے اپنی زندگی میں ہمارے ایک چھوٹے بھائی امتیاز علی تاج اور ایک پوتے عبدالباسط کو قرآن حفظ کروایا۔ اس طرح گھر میں مستقل مدرسہ قائم کردیا جس میں ان کے پوتوں میں انوارالحق، سراج الحق، ابراہیم احمد دھیہ، یحییٰ، اور نواسہ طلحہ بن عبدالقدیر قرآن حفظ کررہے ہیں۔ گھر سے سات حفاظ تیار کرکے اِس دنیا سے رخصت ہوئیں جو اُن کے لیے بہترین صدقۂ جاریہ ہیں۔ روزانہ ہمارے گھر میں قرآن پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے۔
والد صاحب کے انتقال کے بعد انہوں نے والد اور والدہ دونوں کا کردار ادا کیا۔ ہمیشہ اپنی ٹھنڈی چھائوں میں رکھا۔ میری والدہ انتہائی جفاکش، محنتی اور مہمان نواز تھیں۔ میں نے جب ہوش سنبھالا تو ان کی صبح کا آغاز رات تین بجے ہوتے دیکھا۔ آخری وقت اپنے رب کو یاد کرتیں۔ فجر سے پہلے گھر کے تمام کام مکمل کرتیں۔ والد صاحب کو گھر کی فکروں سے ہمیشہ آزاد کردیا تھا۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ مردوں کو بڑے کام کرنے ہوتے ہیں، اس لیے انہیں گھر کی فکروں سے آزاد ہونا چاہیے۔ امی جان اپنی زندگی میں ہمیشہ تین مہمانوں کے لیے رات کو کھانا تیار کرکے سوتی تھیں۔ والد صاحب کہتے تھے کہ مہمان اور موت کا کوئی وقت نہیں ہوتا۔
امی جی ہمارے لیے دعائوں کی مشین تھیں۔ ایک ایک بچے کا نام لے کر دعائیں کرتی تھیں۔ ہم جب بھی کسی خاص کام کے لیے خصوصی دعائوں کی درخواست کرتے تو اُن کے ہاتھ بلند ہو جاتے، سجدے لمبے ہوجاتے اور ہمارا کام ہوجاتا۔ میں اکثر اُن کو کہتا کہ ’’امی جی! آپ نے جتنی دعائیں مانگیں، منظور ہوں گی، مقبول ہوں گی‘‘۔ دعائوں کی ضرورت ہم جیسے گناہ گاروں کو ہی نہیں بلکہ پیغمبروں کو بھی رہی۔ اللہ کے برگزیدہ پیغمبر حضرت موسیٰؑ جب اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کے لیے کوہِ طور پر چڑھنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے آواز دی ’’اے موسیٰؑ اب تم ذرا سنبھل کر میرے پاس آنا کیونکہ تمہارے لیے دعائیں کرنے والی ہستی اب دنیا میں رہی۔‘‘ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کے چکر بھی ماں کی اپنی اولاد کے لیے مثالی محبت کا اظہار ہیں جو سیدنا حضرت ہاجرہؑ نے اپنے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیاس بجھانے کے لیے پانی کی تلاش میں لگائے تھے، تب ان دو پہاڑوں کے درمیان نہ سنگِ مرمر تھا اور نہ روشنیاں تھیں۔ اللہ تعالیٰ کو ایک ماں کی اپنی اولاد کے لیے بے تابی اور تڑپ اتنی پسند آئی کہ اسے حج اور عمرے کا اہم رکن قرار دے دیا تاکہ دنیا کو ہمیشہ کے لیے ماں کی عظمت اور محبت کا احساس ہوجائے۔ میری والدہ کی زندگی ترتیب، توازن اور تسلسل سے عبارت تھی۔ انہوں نے بنجر زمینوں کو ایسے آباد کروایا جس پر لوگ منظم ہونے کی مثال دیتے تھے۔ ان کی زندگی میں گھر اور خاندان کا نقشہ اور انداز ہی کچھ اور تھا۔ سارے خاندان کی خبر گیری ان کا روزانہ کا معمول تھا۔
میں اکثر لوگوں سے سنا کرتا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ انسان کا صدمہ کم ہوجاتا ہے، وقت بڑا مرہم ہوتا ہے۔ لیکن والدہ کی جدائی کا صدمہ دو سال گزرنے کے بعد بھی میرے دل میں اسی طرح تازہ ہے۔ میرے والد صاحب کے انتقال پر محترم قاضی حسین احمدؒ نے اپنے تعزیتی خط میں لکھا تھا کہ ’’والدین اولاد کے لیے ساری زندگی دعا کرتے ہیں، تمہارے لیے یہ سلسلہ اب ختم ہوگیا ہے، ان کی وفات کے بعد اب ان کو تمہاری دعائوں کی ضرورت ہے۔‘‘ وہ دن ہے اور آج کا دن، جب فجر کی نماز ہوتی ہے تو امی جی اور ابا جی کے لیے اپنی صبح کا آغاز دعا سے کرتا ہوں۔ امی کی وفات کے بعد کوئی لمحہ ایسا نہیں گزرا جب ان کا خیال ذہن میں نہ آیا ہو اور ان کے لیے دل سے دعا نہ نکلی ہو۔ اکثر اوقات بے اختیار علامہ اقبال کی یہ نظم زبان پر آجاتی ہے جو انہوں نے اپنی والدہ کی وفات پر لکھی تھی:
خاکِ مرقد پر تیری لے کر میں فریاد آئوں گا
اب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آئوں گا
تربیت سے میں تری انجم کا ہم قسمت ہوا
گھر مرے اجداد کا سرمایۂ عزت ہوا
دفتر ہستی میں تھی زریں ورق تیری حیات
تھی سراپا دین و دنیا کا سبق تیری حیات
اسلام آباد میں ہمارے گھر اور امی جان کی قبر کے درمیان صرف دیوار حائل ہے۔ میرے بڑے بھائی حاجی میر محمد صاحب اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ وہ ہر روز فجر کے بعد امی جی کی قبر پر حاضری دیتے ہیں، لیکن دور بیٹھے ہوئے میری زبان پر علامہ اقبال کی نظم کا یہ شعر میری دلی دعائوں کی ترجمانی کرتا ہے:
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
میں اپنی والدہ کی وفات کے بعد آج خود کو بہت ہی تنہا محسوس کرتا ہوں۔ ان کی زندگی میں ان کو آتے جاتے دن میں کئی بار دیکھتا، ان کے ہاتھ چومتا اور کہتا کہ ’’ایک مقبول حج اور عمرے کا ثواب مل گیا۔‘‘ لیکن اب یہ باب بند ہوچکا ہے۔ والدہ کا دنیا سے چلے جانا