آبرو دین محمد ﷺ کی بڑھانے والے

434

میمونہ امین
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا شمار عالم ِ اسلام کی اُن شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق اسلام کی تعبیر و تشریح کی۔کہا جاتا ہے کہ اللہ رب العزت جس شخص سے اپنے دین کی خدمت کا کام لینا چاہتا ہے اُسے آغاز ِ عمر ہی سے لطفِ طبع، ذہنی بلندی اور بلند نظر عطا فرماتا ہے۔ یہی معاملہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کا بھی ہے کہ ان کی فکر نے نہ صرف برصغیر بلکہ پوری دنیا میں اسلام کو نئی جہت عطا کی، اور انہوں نے اسلام کے فکری نظام پر اٹھنے والے عقلی اعتراضات کا مدلل جواب دیا۔ اس چیز نے انہیں دنیا بھر میں اسلام کے فکری رہنما کے طور پر پیش کیا۔ مولانا مودودی ؒایک مذہبی اسکالر ہونے کے ساتھ ساتھ صفِ اوّل کے سیاسی رہنما بھی تھے۔
کہو وہ کون حسین ہے تمھاری بستی میں
کہ جس کے نام کے ساغر اٹھائے جاتے ہیں
سید مودودی ؒ ایک کثیرالجہت شخصیت تھے، انہوں نے دور ِ حاضر کی زبان میں اسلام کے ہمہ گیر پیغام کو سمجھانے کی کوشش کی۔ وہ صرف مغربی تہذیب اور مغربی افکار کے ناقد ہی نہیں، اسلام کی حرکی فکر کے داعی بھی ہیں۔
عظیم مبلغ، مفسرِ قرآن اور جماعت ِ اسلامی کے بانی سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ 25 ستمبر 1903ء کو حیدرآباد دکن کے شہر اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان میں ایک بزرگ ’’مودود‘‘ نام کے گزرے ہیں جن کی نسبت سے ان کا نام مودودی رکھا گیا۔
ان کا آبائی تعلق سادات کے ایک ایسے خاندان سے ہے جو ابتدا میں ہرات کے قریب چشت کے معروف مقام پر آکر آباد ہوا تھا۔ بچپن ایک ایسے خوشگوار دور کا نام ہے جس کی خوبی اور یاد کا تعلق سہولت، آرام اور عیش سے نہیں، بلکہ یہ تمام دنیوی ذمہ داریوں سے پناہ اور بے نیازی کا دور ہے۔ یہ دور سب سے سہانا ہے… شاہ کے شہزادے کے لیے بھی اور فقیر کے بچے کے لیے بھی… لیکن سید مودودی ؒ کا بچپن ایک غیر معمولی خصوصیت کا حامل ہے۔
ان کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ بچپن ہی سے ذہین تھے۔گلی کے بچوں کے ساتھ بہت کم کھیلتے تھے اور اپنے والدین کے ساتھ یا ان کے بزرگ دوستوں کے ساتھ زیادہ بیٹھتے تھے۔ اسی وجہ سے وہ شرارتوں کے بجائے ابتدا سے سنجیدہ اور پُرمغز گفتگوکرنے کے عادی تھے۔
دوسری خصوصیت ان کی وہ اذان ہے جو انہوں نے پانچ سال کی نہایت ہی چھوٹی عمر میں اپنے والدِ محترم کے ساتھ جاکر بہت بلند آواز میں دی تھی… اتنی واضح، درست اور بلند آواز کی اذان کہ ان کے والد کے دل میں اپنے بیٹے کے بارے میں امیدیں اور آرزوئیں پیدا ہوگئی تھیں۔
ان کے بچپن کی ایک اور خصوصیت ان کا وسیع مطالعہ ہے جو انہیں بہت ابتداء ہی سے حاصل ہو گیا۔
ان وجوہات کی بناء پر مولانا صاحب ؒ کے بچپن کو ایک غیر معمولی بچپن کہہ سکتے ہیں، لیکن پھر بھی عام حالات میںکوئی شخص بھی یہ بات نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ بچہ اپنی عمر میں کوئی بڑی شخصیت بننے والا ہے کہ جس کو صدیاں گزر جانے کے بعد بھی یاد رکھا جائے گا۔
مولانا نے ابتدائی دینی ودنیاوی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ زندگی کے ابتدائی گیارہ برس تک وہ اپنے باپ سید احمد حسن کی زیر تربیت رہے۔کچھ ہی برس گزرے ہوں گے کہ سید مودودیؒ کو شہر اورنگ آباد کے مدرسے میں براہِ راست آٹھویں جماعت میں داخل کرا دیا گیا۔ ان کی تعلیم و تربیت میں ایک جید معلم نے اہم کردار ادا کیا۔ 1914ء میں انہوں نے ثانوی پرچے کے تحت مولوی یعنی میٹرک کا امتحان پاس کرکے دارالعلوم حیدرآباد میں داخلہ لیا۔ تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ والد پر فالج کا حملہ ہوگیا اور اپنے والد کی تیمارداری کی خاطر انہیں دارالعلوم چھوڑنا پڑا، لیکن اس مختصر دور میں اردو کے علاوہ عربی، فارسی اور انگریزی زبانوں پر دسترس حاصل کرچکے تھے۔ یوں لڑکپن ہی سے انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز کردیا اور1920ء میں والد کے انتقال کے بعد دِلّی آگئے۔
والد کا انتقال بچے کے لیے دنیا کا سب سے بڑا دھچکا ہوتا ہے اور پھر اسے اپنے پائوں پر کھڑا ہونا اور کمانا پڑتا ہے۔ چنانچہ والد کے انتقال کے بعد اس چھوٹی سی عمر میں پہلی بار سید مودودیؒ کو بھی احساس ہوا کہ دنیا میں عزت کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے لیے اپنے پائوں پر کھڑا ہونا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں لکھنے کی زبردست قابلیت عنایت فرمائی تھی۔ چنانچہ انہوں نے ارادہ کرلیا کہ قلم کے ذریعے اپنے خیالات لوگوں تک پہنچائیں گے اور اسی کو ذریعۂ معاش بھی بنائیں گے۔ اس طرح ایک تو مسلمانوں کی بھلائی اور اسلام کی خدمت کا کام ہوگا، دوسرا معاش کا وسیلہ بھی ہوجائے گا۔ چنانچہ ایک صحافی کی حیثیت سے انہوں نے عملی زندگی کا آغاز کیا، اور پھر متعدد اخبارات میں ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کیا، جن میں اخبار الجمیعت وغیرہ شامل ہیں۔
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے کئی شاہکار تصانیف چھوڑیں، جنہیں صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں پڑھا اور سراہا گیا ہے۔ ان کی پہلی باقاعدہ تصنیف ’’الجہاد فی الاسلام‘‘ ہے۔ اس تصنیف کا زمانہ1924ء سے 1927ء تک کا ہے، جبکہ مولانا مودودیؒ 19 سال کے نوجوان صحافی تھے اور جمیعت علماء ہند کے رسالہ ’’الجمیعت‘‘ کے ایڈیٹر تھے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی کئی شاہکار تحریریں لکھیں، جو کہ اگلے چند برسوں میں برصغیر کے مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ بن گئیں۔
مولانا صاحب نے دین کی ترویج کے لیے ایک اور قابلِِ فخر کارنامہ جو انجام دیا وہ ماہنامہ’’ترجمان القرآن‘‘ کا اجراء ہے۔ یہ وہ جوئے رواں ہے جو آج تک ذہنوں کو علم کے چشمہ سے سیراب کررہا ہے۔
چلی تھی بات جو منبر سے دار تک پہنچی
قلم کی نوک سے خنجر کی دھار تک پہنچی
مگر صدا تیری دل کے پار تک پہنچی
ڈاکٹر علامہ اقبال ؒ سید مودودیؒ کی تحریروں سے بے حد متاثر تھے اور ترجمان القرآن کی وجہ سے سید مودودیؒ کے خیالات سے خوب واقف تھے اور جانتے تھے کہ مسلمانوں کی بھلائی اور علمی ترقی کے لیے قائم کیے جانے والے ادارے کے لیے سید مودودیؒ بہترین آدمی ہیں، چنانچہ انہوں نے چودھری نیاز علی صاحب کو کہا کہ سید مودودیؒ کو بلا لیں۔
سید مودودیؒ ستمبر 1937ء میں علامہ اقبال ؒ سے ملنے کے لیے لاہور آئے تو علامہ اقبال ؒ نے انہیں اس بات پر تیار کرلیا کہ وہ پنجاب آجائیں، کیوں کہ حیدرآباد دکن کی نسبت پنجاب میں رہ کر زیادہ کامیابی کے ساتھ مسلمانوں کی اصلاح کا کام ہوسکتا ہے۔ چنانچہ 1938ء کے آخر میں سید مودودیؒ حیدآباد دکن چھوڑ کر پٹھان کوٹ کے نزدیک دارالسلام کی بستی میں آگئے۔
تفہیم القرآن بھی سید مودودیؒ کا ایک ایسا کارنامہ ہے جس نے بے شمار دلوں کو مسخر کیا۔ آپ کا انداز ِ تفہیم ایسی ندرت، جدت، جاذبیت اور داعیانہ خلوص اور جوش لیے ہوئے تھا کہ لوگوں نے انھیں قلم بند کرنے کی درخواست کی، چنانچہ ترجمان کے فروری 1942ء کے شمارے میں اس سنہری سلسلے کا آغاز ہوا جو تیس سال چار ماہ کی سید صاحبؒ کی محنت، تحقیقی جستجو اور شب بیداری کے نتیجے میں 7 جون 1972ء کو ایک ساعتِ سعید میں مکمل ہوا۔ جب ہم سید مودودیؒ کے اس عظیم شاہکار اور لازوال علمی و دینی کارنامے پر نظر ڈالتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ یہ کام تو وہی انسان انجام دے سکتا ہے جس کا دل نصب العین کے عشق کی آگ میں دہک رہا ہو۔ جب نصب العین کا یہ حال ہو اور محبت کی معراج یہ ہو کہ عشاء کی نماز پڑھ کر فجر تک کئی دفعہ شب بیداری کرکے لکھنے کا کام کیا ہو، تو پھر ایسا ہی واقعہ رونما ہوتا ہے۔ سید مودودیؒ نے جب تفسیر پر کام شروع کیا تو اُن کے سامنے سارا تاریخی پس منظر بھی تھا اور معاصر تفسیری کاوشیں بھی۔
انہوں نے تفہیم القرآن کے دیباچے میںلکھا:
’’قرآن مجید کے ترجمہ و تفسیر پر ہماری زبان میں اب تک اتنا کام ہوچکا ہے کہ اب کسی شخص کا محض برکت اور سعادت کی خاطر نیا ترجمہ یا نئی تفسیر شائع کردینا وقت اور محنت کا کوئی صحیح مصرف نہیں۔‘‘
مولانا مودودیؒ جس زمانے میں مسلم امہ میں بیداری کی لہر پیدا کرنے کی کوششیں کررہے تھے اُس وقت انکار اور انتہا پسندی کے نرغہ نے دین اور مسلم امہ کے تصور کو دھندلا دیا تھا۔ آپ اس فکر کے داعی تھے کہ اسلام غلبے کا دین ہے، مغلوبیت کا نہیں۔ مولانا صاحب فرماتے ہیں: ’’جب میں نے دیکھا کہ میری آواز صدا بہ صحرا ثابت ہورہی ہے تو دوسرا قدم جو میری سمجھ میں آیا وہ یہ تھا کہ اپنی طرف سے ایک ایسی جماعت منظم کرنی چاہیے جو صاحب ِ کردار لوگوں پر مشتمل ہو، جو فتنوں کا مقابلہ کرسکے جو آگے آتے نظر آرہے تھے۔ یہ موقع تھا جب میں نے قطعی طور پر یہ فیصلہ کرلیا کہ جماعت ِ اسلامی کے نام سے ایک جماعت قائم کی جائے‘‘۔ ایک صالح جماعت کی ضرورت کے عنوان کے تحت سید مودودیؒ نے ایک فکر انگیز مقالے میں دلائل کے ساتھ بتایا کہ دنیا ہر قسم کے نظام ہا ئے حیات کو اپناکر دیکھ چکی ہے کہ اس کے تمام دکھوں کا مداوا کسی ایک نظام میں نہیں ہے، اب صرف ایک اسلام ہی نظریہ و مسلک ہے جس سے انسان فلاح کی توقع وابستہ کرسکتا ہے، لیکن ہر موجود تہذیب کی شکست اور ریخت کے لیے ایک قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔
سید صاحب ؒ نے اس مقالے میں لکھا کہ اس جماعت کے افراد کو ایمان کے لحاظ سے محکم اور غیر متزلزل اور عمل کے اعتبار سے قابل ِ رشک اور انتہائی بلند ہونا چاہیے۔
جماعت بنانے کے بعد مولانا مودودیؒ نے فرمایا:
میرے لیے تو یہ تحریک عین مقصدِ زندگی ہے، میرا جینا اور میرا مرنا اس کے لیے ہے، کوئی اس پر چلنے کے لیے تیار ہو یا نہ ہو، بہرحال مجھے تو اس راہ پر چلنا اور اسی راہ پر جان دینا ہے، کوئی آگے نہیں بڑھے گا تو میں آگے بڑھوں گا،کوئی ساتھ نہ دے گا تو میں اکیلا چلوں گا، ساری دنیا متحد ہوکر مخالفت کرے گی تو مجھے تن تنہا اس سے لڑنے میں کو ئی عار نہیں ہے ؎
میرا مزاجِ جنوں سلامت
کہیں بھی تنہا نہیں رہوں گا
ہزار طوفان ساتھ دیں گے
اگر کناروں نے ساتھ چھوڑا
مختصر یہ کہ مولانا مودودیؒ ایک کثیر الجہت اور نابغہ روزگار شخصیت تھے، انہوں نے اسلام کو سیاسی طرز ِ فکر کے طور پر پیش کیا اور لوگوںکو بتایا کہ اسلام صرف ذات تک محدود نہیں بلکہ پورے نظام ِ زندگی تک اس کا دائرہ پھیلا ہوا ہے۔ اسلام نہ صرف ذاتی اصلاح کرتا ہے بلکہ اجتماعی زندگی کے بارے میں بھی مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے، اور تاریخ شاہد ہے کہ جنہوں نے بھی اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کرکے دنیا کا نظام چلایا انہیں کامیابی وکامرانی نصیب ہوئی۔