تکافل امداد باہمی و بھائی چارگی کی بہترین مثال ہے‘ زاہد حسین اعوان

1064

تکافل کا تصور نیا ایجاد کردہ نہیں، قرآنِ کریم اور احادیث مبارکہ میں واضح طور پر یہ تصور موجود ہے، جہاں باہمی امداد اور تعاون کی ترغیب دی گئی ہے اور یہی اصول تکافل کی بنیاد ہے………ہمارے نظام میں جمع ہونے والا سرپلس ممبرز میں تقسیم ہوتا ہے، کمپنی کا اس پر حق نہیں جبکہ روایتی انشورنس میں سرپلس خالصتاً کمپنی کی ملکیت ہوتا ہے اور اس پر ملنے والے نفع کی مالک بھی کمپنی ہی ہوتی ہے………تکافل میں باقاعدہ شرعی بورڈ ہوتا ہے، جس کی نگرانی میں فنڈ کو شریعت کے مطابق جائز کاروبار میں لگایا جاتا ہے، جبکہ انشورنس میں حلال حرام کا کا فرق کیے بغیر جہاں فائدہ نظر آئے وہیں کاروبار کیا جاتا ہے………بہترین اور حلال منافع کے لیے مضبوط معاشی سرپرستی کا حامل پاک قطر فیملی تکافل ہی بہتر انتخاب ہے‘ کمپنی کا ادا شدہ سرمایہ ایک ارب سے تجاوز کر چکا ہے
ڈائریکٹر و چیف ایگزیکٹو آفیسر سے خصوصی بات چیت

انٹرویو: سلمان علی
ترتیب و تدوین: سید طاہر اکبر
سوال : کچھ اپنی ابتدائی زندگی، تعلیمی سفر اور پیشہ ورانہ زندگی کے بارے میں بتائیے ؟
زاہد حسین: میرا تعلق پاکستان کے دور افتادہ علاقے مانسہرہ سے ہے۔ بنیادی تعلیم مقامی اسکول سے حاصل کی، پھر لاہور سے کامرس میں گریجویشن مکمل کی۔گھر میں بڑا میں ہی تھا اس لیے ذمے داریاں بھی بہت تھیں۔کچھ عرصے بعد ہی قطر کے ایک بینک میں نوکری کی پیشکش ہوئی تو میںنے اللہ کا نام لے کر قبول کرلی۔ انٹرویوہوا اور مجھے منتخب کر لیا گیا۔ پھر میں 1980ء میں قطر منتقل ہوگیا۔ یہ قطر کاایک مشہور بینک تھا جسے بینک آف عمان کے نام سے جانا جاتا ہے ،جو کہ بنیادی طور پر دبئی کے ایک گروپ کا بینک تھا ۔وہاں میں نے اس شعبے میں کام کاآغاز کیا اور 10 سال اُن کے ساتھ کام کیا۔ اُس وقت تو مجبوری میں آغاز کرلای تھا مگر ساتھ ہی دل میں ایک خواہش آ چکی تھی کہ یہ سودی بینک ہے، اس سے جان چھڑانی ہے۔وہیں قطر میں ایک مرتبہ میں نے کسی کو اپنے گھر پر درس قرآن میں بلایا تو اُس بھلے آدمی نے کہاکہ پہلے آپ سودی بینک چھوڑیں پھر ہم آئیں گے۔ یہ بات میرے دل پر اثر کر گئی۔ اس دورا ن عمرے کی سعادت نصیب ہوئی،وہاں میں نے اللہ سے دعا کی کہ مجھے اس سودی چکر سے نکال دے ۔اُنہی دنوں قطر میں ایک نیا بینک قطرانٹرنیشنل اسلامک بینک بن رہا تھا۔ میرے ایک سابقہ کلائنٹ کی مجھ سے ملاقات ہوئی اور اُس نے مجھے اُس نئے بینک میں نوکری کی آفر کردی۔ میں اس پورے معاملے میں بہت حیران حیران تھا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ ، یقیناً میں نے اسے اللہ کی مدد تسلیم کرتے ہوئے فوراً بسم اللہ کہی اور اُس بینک کے شروع ہونے سے پہلے ہی اُن کے ساتھ شامل ہو چکا تھا۔ میرا اُن کے ساتھ یہ سفر تقریباً 26سال پر محیط رہا۔ اب چند ماہ قبل ہی میں نے ریٹائر منٹ لی ہے۔ وہاں میرا زیادہ تر کام بین الاقوامی اُمور (ٹریژری ) سے متعلق تھا۔ جس کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ منصوبہ بناتا ہے کہ بینک کے پاس جو پیسہ ہے وہ اُسے کہاں اور کس کاروبار میں کتنا لگانا چاہیے۔

5-2
سوال : تکافل کی جانب کیسے آئے ؟
زاہد حسین : یہ 2002ء کی بات ہے ،میں پاکستان آیا ہوا تھا، یہاں کراچی سے تعلق رکھنے والے میرے ایک اچھے دوست سے گپ شپ ہو رہی تھی۔ ان دنوں پرویز مشرف نے انتخابات کے بعد نئی حکومت بنائی تھی۔ میرے دوست نے مشورہ دیا کہ ہمیں حکومت سے کوئی قانون سازی کروا کر عوام کے فائدے کے لیے ایک ادارہ بنانا چاہیے۔ اس حوالے سے میری رائے تھی کہ اسلامی بینک قائم کیا جائے، مگر انہوں نے اسلامک انشورنس کا مشورہ دیا۔ بات چیت آگے بڑھی۔ اُنہوں نے کہاکہ اس کا کوئی بزنس پروپوزل اور تعارف بناؤ۔میں نے ایک جامع تعارف ،پریزینٹیشن اور پروپوزل بنایا۔ حکومت سے تعاون کی کوشش کی تو معاملہ طویل محسوس ہوا۔ بات ٹھنڈی ہو گئی اور میں واپس آگیا۔ میرا دوست امریکا چلا گیا۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کو کام کروانا مقصود تھا اس لیے اُس نے ہی مرکز (حکومتِ پاکستان) سے روابط کی سبیل نکالی۔ ہمارے آئیڈیے کو پسند کیا گیا۔ اُس وقت سے میں بینک کے ساتھ ، تکافل کمپنی کے لیے بھی کام کرتا رہا۔ اپنی بنیادی نوکری کے ساتھ اس ادارے کے قیام کے لیے محنت کی۔ کراچی آکرکنسلٹنٹ فرم کا چننا، اُس کے ساتھ اے ٹو زیڈ ، پروپوزل سے لے کر اداروں کے ساتھ کام کرنا، پھر پارٹنرز سے مل کراُن کو مطمئن کرنا کہ مقامی پارٹنرز کولیبریشن میں ساتھ آجائیں۔ اس دوران رائل فیملی نے 2006ء میں 12 ملین ڈالر کابڑا سرمایہ لگواکر ہمیں اچھا آغاز کرنے کا موقع دیا۔ اس کے بعد 2006 میں ایس ای سی پی کی ایک کمیٹی بنی۔ جس نے تکافل کے قوانین مرتب کر کے فائنل کیے۔ قوانین فائنل ہوئے تو ہم تیار تھے۔ اس لیے ہم نے سب سے پہلے لائسنس کے لیے درخواست دی اور الحمدللہ ہم پاکستان کے سب سے پہلے لائسنس ہولڈر اسلامک انشورنس کمپنی بنے۔ اس وقت پاک قطر فیملی تکافل لمیٹڈ، پاکستان کی پہلی فیملی تکافل کمپنی ہے،جس نے اگست2007ء میں سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP)سے تکافل لائسنس کے اجرا کے بعد اپنے کام کا باقاعدہ آغاز کیا۔
سوال: اسلامک انشورنس کی تاریخ اور اسکی تھیم کیا ہے؟ یہ کس طرح عمومی انشورنس سے مختلف ہوتی ہے ؟
زاہد حسین:ـ تکافل عربی زبان کا لفظ ہے جو کفالت سے نکلا ہے اور کفالت ضمانت اور دیکھ بھال کو کہتے ہیں۔ یہاں دوسرے لفظوں میں باہم ایک دوسرے کا ضامن بننایا باہم ایک دوسرے کی دیکھ بھال کرنا مراد ہے۔ ’تکافل‘ کی بنیاد بھائی چارے، امدادِ باہمی اور ’تبرع‘ کے نظریے پر ہے، جو شریعت کی نظر میں پسندیدہ ہے۔ دورِ جدید میں تکافل کو روایتی انشورنس کے متبادل کے طور پر بطور اسلامی انشورنس کے استعمال کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے یہ باقاعدہ سوڈان میں شروع ہوئی، پھر دنیا کا پہلا اسلامک بینک، دبئی اسلامک بینک وجود میں آیا اور ہم نے دیکھا کہ اسلامی بینکوں کا جال دنیا بھر میں پھیلتا چلا گیا۔ ساتھ ہی اسلامک انشورنس یعنی تکافل بھی فروغ پاتی گئی۔ قطر اسلامک انشورنس، عمان انشورنس، سری لنکامیں بھی اس کی برانچ شروع ہوئی یہاں تک کہ کئی غیر اسلامی ممالک تک یہ سلسلہ پھیلتا چلا گیا۔

5-3
اس کی بنیاد یہ ہے کہ ہر انسان کو زندگی میں کوئی Risk (خطرہ) درپیش ہوتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ ہر آدمی کو مستقبل میں کچھ نہ کچھ ہونے، کسی نہ کسی مسئلے کا سامنا کرنے کا امکان ہوتا ہے ،جیسے موت کا معاملہ ہے جوکہ یقینی ہے اور اس کے وقت مقرر کا آپ کو علم نہیں۔ آپ کا تجارتی سامان ہے جسے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا ہے مگر راستے میں حادثہ ہونے یا لٹ جانے کا آپ کو یقینی علم نہیں وغیرہ وغیرہ۔ اب کنونشنل انشورنس میں یہ ہوتا ہے کہ جو بھی اس طرح کے یا غیر متوقع خدشات ہوتے ہیں ، وہ انشورکرا لیے جاتے ہیں۔ جس چیز کارسک cover کرنا ہے اُس کے ساتھ اُنکا معاہدہ ہوتا ہے ، گویا ایک مخصوص رقم کے عوض وہ آپ کا رسک خرید لیتے ہیں کہ اگر خدا نخواستہ کوئی نقصان ہوا تو اُس کو وہ بھریں گے۔ اس طرح کنونشنل انشورنس کام کرتی ہیں ۔ اب اسلامی انشورنس کا خیال دیکھیں تو تکنیکی بنیادوں پر تو ہم بھی فرد کا رسک ہی cover کرتے ہیں ، لیکن بنیادی فرق یہ آتا ہے کہ ہم اس بات کا معاہدہ نہیں کرتے کہ ہم آپ کا رسک خرید رہے ہیںیا اگر آپ کو کچھ ہوا تو ہم آپ کی رقم کے بدلے آپ کا نقصان بھریں گے بلکہ اس میں ہوتا یہ ہے کہ جوتکافل کمپنی ہوتی ہے وہ مالی معاملات کو اس طرح ترتیب دیتی ہے کہ رسک منتقل کرانے والوں کی جمع شدہ رقم کے بدلے نہیں بلکہ ایک ’پول‘ بنا کر ہم مشترکہ طور پر آپ کا رسک کور کریں گے۔
اس نظام میں تمام شرکا باہم رسک شیئر کرتے ہیں اور شرکا باہمی امداد و بھائی چارے کے اس طریقے سے مقررہ اصول و ضوابط کے تحت ممکنہ مالی اثرات سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔ یہ ایک کو آپریٹیو ماڈل بنتا ہے ، سب مل کر پیسے ڈالتے ہیں ، ضروری نہیں کہ سب کا نقصان ہو ، لیکن اگر کسی کا ہو بھی جاتا ہے تو سب مل کر اُس کا تحفظ کرتے ہیں ۔روایتی انشورنس کے مقابلے میں تکافل کا نظام ایک عقدِ تبرْع ہے کہ جس میں شرکا آپس میں ان خطرات کو تقسیم کرتے ہیں ، تکافل نظام کے عقد تبرع کے نتیجے میں بالواسطہ یا بلاواسطہ کسی قسم کا سود کا عنصر موجود نہیں۔
اس میں اہم بات یہ ہے کہ کمپنی سب سے پہلے خود اپنی جانب سے تبرع فنڈ بناتی ہے ، ہم نے بھی اپنی کمپنی کے قیام کے وقت ایک بڑا حصہ تبرع فنڈ میں ڈالا ، پھر لوگ شامل ہوئے تو اُس رقم کا ایک حصہ اُس تبرع میں چلا جاتا ہے اور ایک حصہ کمپنی اپنے معاملات کو چلانے میں استعمال کرتی ہے ۔اس فنڈ میں کمپنی کا کوئی حق نہیں ہوتا۔ یہ وقف ہوتا ہے، صرف لوگوں کے نقصان کوپورا کرنے میں استعمال کرتے ہیں ۔کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اس فنڈ میں پیسے کم پڑ جائیں (اگر لوگوں کے نقصانات زیادہ ہو جائیں) تب کمپنی اس فنڈکو قرض حسنہ دے گی، تاکہ لوگوں کے معاملات چلائے جاسکیں ۔بعدمیں جب بزنس آئے گا تو فنڈمیںجمع ہونے والی رقم سے قرض حسنہ وقت کے ساتھ اُتار دیا جائے گا۔ زیادہ نقصان پر جہاں قرض حسنہ دیا جاتا ہے وہاں کم نقصان پر پول کے شرکا کو رقم واپس بھی دی جاتی ہے۔ سال کے آخر میں کلیمز کی ادائیگی اور اخراجات منہا کرنے کے بعد شریعہ بورڈ سے منظوری لے کر سرپلس (بچ جانے والی رقم) کو شرکا کے درمیان تقسیم کیا جاتاہے۔ اس طرح ہر سال کے اختتام پر تمام ادائیگیوں کے بعد بچ جانے والی رقم کو ’سر پلس‘ کہتے ہیں۔ اس کی مثال یوں سمجھیں کہ جیسے میں نے قطر میں اپنی گاڑی بیمہ ( تکافل) کرائی، یہاں کی طرح نہیں 200 روپے والی،بلکہ طریقے سے فل انشورنس ہوتی ہے۔ کسی اسلامی کمپنی سے ، اگر سال بھر میں نے کوئی ایکسیڈنٹ نہیں کیا تو پھر اُسی پول میں سے سال کے بعد جو کلوز نگ ہوگی تو جو پیسے بچے ہیں کمپنی اپنے اخراجات نکال کر مجھے پیسے واپس بھی کرے گی جبکہ کنونشنل میں ایسا کچھ نہیں ہوتا، واپسی کا تصور ہی نہیں ،کمپنی مکمل مالک ہوتی ہے ۔
سوال:تکافل کی تھیم تو آپ نے بھائی چارگی پر مبنی بیان کی ، مگر کیا رسول ﷺ کے دور میں یا مزید ماضی میں اس تھیم کا یا رسک مینجمنٹ کاذکر کہیں ملتا ہے؟
زاہد حسین:ممکنہ خطرات سے بچاؤ کی تدابیر اختیار کرنا (یعنی رسک مینجمنٹ) اورمالی اثرات کو ختم یا کم کرنے کا خیال کوئی نیا تصور نہیں ہے، خود شریعت نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے۔ اگر جائز طریق کار کے مطابق ایسی تدابیر اختیار کی جائیں تو یہ اسلام کے خلاف نہیں۔ چنانچہ اسلام میں بھی رسک مینجمنٹ کی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ اس کی سب سے خوب صورت مثال وہ ہے جو سورۃ یوسف میں قحط سالی سے نبٹنے کے لیے سیدنا یوسف ؑکے اُٹھائے گئے اِقدامات کی صورت میں بیان ہوئی ہے۔ بعض لوگوں کے نزدیک انشورنس یا تکافل اسلام کے تصورِ توکل کے خلاف ہے۔ یہ خیال غلط فہمی پر مبنی ہے ا ور درست نہیں۔ توکل کے معنی ترکِ اسباب کے نہیں، بلکہ اسباب کو اختیار کرتے ہوئے اس کے نتائج کو اللہ کے حوالے کرنے کا نام توکل ہے، لہٰذا اسباب کو اختیا ر کرنا، اور اس کے نتائج و ثمرات کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا ہی توکل ہے۔
جیساکہ حدیث شریف میں ہے کہ ایک صحابی نے نبی کریمﷺسے پوچھا کہ اے اللہ کے رسولﷺ! میں اپنے اونٹ کو باندھ کر اللہ پر توکل کروں یا اس کو چھوڑ دوں، پھر اللہ پر توکل کروں ؟ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: ایسانہ کرو ، بلکہ پہلے اونٹ کو باندھو ، اور پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کرو۔ (ترمذی1772)۔ اِسی طرح آنحضرتﷺاور صحابہ کرام ؓنے اسباب اختیار فرمائے ہیں ، بیماری میں علاج اختیار فرمایا ہے جیساکہ مشکوۃ ، ابو داؤد کی ایک اور حدیث ہے کہ صحابہ کرام ؓنے نبی کریمﷺسے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ!( جب ہم بیمار ہوں تو ) کیا ہم علاج کروائیں؟ جناب رسول اللہ ﷺنے اِرشاد فرمایا: اے اللہ کے بندو ، ہاں ، علاج کرواؤ۔کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے بڑھاپے کے علاوہ تمام بیماریوں کا علاج پیدا کیا ہے۔ اسی طرح یہ بھی حکم ہے کہ اپنی اولاد کے لیے ورثے کے طور پر کچھ مال وغیرہ چھوڑنا، تاکہ وہ بعد میں دوسروں کے آگے ہاتھ نہ پھیلائیں۔ اس کو شریعت نے افضل قرار دیا ہے ، جیسا کہ بخاری کی حدیث شریف میں آتا ہے:آپ اپنی اولاد کو مال دار چھوڑیں ، یہ زیادہ بہتر ہے اس سے کہ آپ انھیں فقر و فاقے کی حالت میں چھوڑیں اور وہ لوگوں سے مانگتے پھریں۔ اسی طرح میں یہ بھی کہنا چاہوں گاکہ تکافل کا تصور کوئی نیا ایجاد کردہ تصور نہیں ہے ،بلکہ واضح طور پر قرآنِ کریم اور احادیث مبارکہ میں یہ تصور موجود ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیث مبارکہ میں باہمی امداد اور تعاون کی بڑی ترغیب دی گئی ہے اور یہی باہمی امداد ہی تکافل کی بنیاد ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری ہے کہ نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو۔اس تعاون اور باہمی بھائی چارے کا تقاضا یہی ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں اور ایک دوسرے کے لیے سہارا بن جائیں ، اور مصیبت میں کام آئیں جیسا کہ بھائی آپس میں کرتے ہیں۔ یہی نظریہ تکافل کی بنیا د ہے۔
سوال: آپ نے تکافل کو بہت اچھا بریف کیا ، لیکن اگر اس کا موازنہ کریں تو روایتی انشورنس اور تکافل میں بڑے فرق کون سے ہیں؟
زاہد حسین: مروجہ انشورنس عقدِ معاوضہ ہے اور شرعاً دونوں کے احکام بالکل الگ الگ ہیں۔ تکافل میں سرپلس میں سے ممبرز کو بھی حصہ مل سکتا ہے جبکہ روایتی انشورنس میں سرپلس جو بھی ہو کمپنی کا ہوتا ہے۔ تکافل میں دی جانے والی رقم (وقف فنڈ) کی ملکیت میں جاتی ہے ، کمپنی اس کی مالک نہیں ہوتی مگر روایتی انشورنس میں اُس رقم اور اُس رقم پر ملنے والے تمام نفع کی مالک بھی کمپنی ہوتی ہے۔ انشورنس کا اصل مقصد پریمیم کے بدلے رسک خریدنا ہے
(باقی صفحہ 11پر)
اور وہ اس میں مالک کا کردار ادا کرتی ہے۔ تکافل نظام میں باقاعدہ شرعی بورڈ ہوتا ہے۔ شریعہ بورڈ کی نگرانی میں فنڈ کو شریعت کے مطابق جائز کاروبار میں لگایا جاتا ہے۔ چنانچہ تکافل رولز 2005ء کی رْو سے ہرکمپنی کا شریعہ بورڈ ضروری ہے، جس میں کم سے کم تین ممبرز ہوں۔ انشورنس میں اس طرح کی کسی بھی قسم کی کوئی نگرانی نہیں ہوتی اور نہ اس طرح کی کوئی پابندی ہی ہے۔ جہاں فائدہ نظر آتا ہے وہاں سرمایہ کاری ہوتی ہے، اس میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کاروبار شرعاً جائز اور حلال بھی ہے یا نہیں۔ لہٰذا یہ واضح ہوا کہ رویتی انشورنس عقد معاوضہ ہونے کی وجہ سے سود ، قمار اور غرر سے مرکب ہے، جب کہ تکافل کی بنیاد محض تبرع ہے، جس میں ربا کا تصور ہی نہیں۔
سوال : آپ کی کمپنی پاک قطر فیملی تکافل لمیٹڈ ہے ، اس میں فیملی تکافل کا کیا مطلب لیا جاتا ہے ؟
زاہد حسین:پاکستان کے حالات کے مطابق انشورنس انڈسٹری میں لائف اور نان لائف انشورنس کی تقسیم ہے ۔ پاکستان میں کوئی بھی کمپنی دونوں انشورنس بیک وقت نہیں کر سکتی یا وہ لائف کرے گی، یا نان لائف۔ اس لیے ہم نے بھی دو الگ کمپنیز بنائی ہیں ۔ پاک قطر جنرل تکافل اور پاک قطر فیملی تکافل ۔
تکافل کی بنیادی طور پراس وقت دو ہی اقسام رائج ہیں : ۱۔ جنرل تکافل ۲۔ فیملی تکافل
عمومی یاجنرل تکافل میں اثاثہ جات، یعنی گاڑی، جہاز ، موٹر ،مشینیں اور مکان وغیرہ کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تکافل کی رکنیت فراہم کی جاتی ہے۔

اسی طرح سفر کے لیے بھی ہم تکافل فراہم کرتے ہیں۔ اگر اس اثاثے کو جس کے لیے تکافل کی رکنیت حاصل کی گئی ہو کوئی حادثہ لاحق ہوجائے تو اس نقصان کی تلافی ’وقف فنڈ‘ (پی ٹی ایف) سے کی جاتی ہے۔کمپنی اس وقف فنڈ کو منظم کرتی ہے اور وکالہ فیس وصول کرتی ہے۔ نیز اس فنڈ میں موجود رقم کو سرمایہ کاری کی غرض سے شرعی کا روبار میں لگاتی ہے ، جس کی مختلف شرعی شکلیں اور صورتیں ہوتی ہیں۔

اس میں فنڈ رب المال ہوتا ہے اور کمپنی مضارب ہوتی ہے، جب کہ نفع کا خاص تناسب طے ہوتاہے۔ اس تناسب سے کمپنی کو بحیثیت مضارب اپنا حصہ ملتا ہے، اور باقی نفع و قف فنڈ میں جاتا ہے ،جو فنڈ کی اپنی ملکیت ہوتا ہے۔
پاک قطر فیملی تکافل یا لائف تکافل میں انسانی زندگی کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تکافل رکنیت فراہم کی جاتی ہے۔ اس میں شرکا کو تکافل تحفظ کے ساتھ حلال سرمایہ کاری کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ یہ شریک تکافل جب کسی تکافل کمپنی میں رکنیت حاصل کر لیتا ہے تو ایک مخصوص مدت کے لیے ایک خاص رقم (پریمیم) ما ہانہ یا سالانہ بنیاد پر ادا کرتا ہے جس میں سے کچھ رقم وقف فنڈ میں جمع کی جاتی ہے، اس میں وقف فنڈکے علاوہ ایک اور فنڈ ہوتا ہے جس کا نام پی آئی اے (Participant’s Investment Account) ہے۔ یہ شریک تکافل کا سرمایہ کاری فنڈ ہوتا ہے، جب کہ جنرل تکافل میں شریک تکافل کا پی آئی اے اکاؤنٹ نہیں ہوتا۔ پاک قطر فیملی تکافل کے ضمن میں ہم شیئر اینڈ کیئر تکافل ، انوسٹمنٹ شیلڈ تکافل، اے بی سی ایجوکیشن تکافل، سیلری سیونگ تکافل، تکافل شیلڈ پلان، گروپ فیملی تکافل اور گروپ ہیلتھ تکافل کی پالیسیز فراہم کرتے ہیں۔ ان کا مقصد مختلف خاندانوں کی مالی اور معاشرتی ضروریات کے مطابق اُن کی زندگیوں میں آسانی لاتے ہوئے معاشی تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس میں مختلف معاشی طبقات کے لیے اُن کی سہولت کے مطابق آفرز ہوتی ہیں جیسے انوسٹمنٹ شیلڈ میں آپ 3لاکھ سے بھی آغاز کر سکتے ہیں۔اسی طرح سیلری سیونگ، گروپ ہیلتھ میں اسپتال و علاج کے اخراجات کی سہولت فراہم کی جاتی ہے ۔
سوال:کیا عالمی سطح پر اس سسٹم کو پذیرائی مل رہی ہے ؟پاک قطر تکافل کا سفر آپ پاکستان میں کیسا دیکھتے ہیں؟
زاہد حسین: تکافل کے شعبے میں’’پاک قطر تکافل گروپ‘‘پاکستان کا پہلا’’تکافل گروپ‘‘ ہے جو ’’فیملی ؍لائف تکافل‘‘اور’’جنرل تکافل‘‘ کی خدمات فراہم کر رہا ہے۔پاک قطر گروپ کا اداشدہ سرمایہ ایک ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے جبکہ پاک قطر فیملی تکافل لمیٹڈ کا اداشدہ سرمایہ تقریباً 995ملین روپے ہے۔ پاک قطر فیملی تکافل ملک کے بیشتر بڑے شہروں میں اپنا برانچ نیٹ ورک قائم کرچکا ہے اور ان شا اللہ عنقریب دیگر شہروں میں یہ نیٹ ورک مزید وسیع ہوگا۔پاک قطر فیملی تکافل کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ تکافل کے ذریعہ ہر شخص کو معاشی تحفظ فراہم کیا جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے کمپنی نے با صلاحیت اور خدمت کے جذبے سے سر شار افراد کا انتخاب کیا ہے ،مزید برآں اپنے کسٹمرز کو بہترین کسٹمرسروسز فراہم کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔ پاک قطر آپ کی خواہشات و ضروریات کے مطابق معاشی تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ آپ کے سرمایہ کو طویل المیعاد سرمایہ کاری میں لگا کر آپ کو بہترین حلال منافع فراہم کرتا ہے۔ پاک قطر فیملی تکافل کمپنی کو سلطنت قطر کی معاشی اعتبار سے بڑی مضبوط کمپنیوں کا تعاون حاصل ہے، اسی طرح ایک ری تکافل کمپنی’’ میونخ ری‘‘،’’ہنوورری‘‘اور ’’ہنوورری تکافل ‘‘ سے ری تکافل کے معاہدہ کے تحت ایک مضبوط معاشی سرپرستی بھی حاصل ہے۔
جہاں تک عالمی سطح پر اس نظام کے اثرات کا تعلق ہے تو اس کی بنیادی مارکیٹ توبظاہر اسلامی ممالک ہی ہیں لیکن ایسا قطعی نہیں کہ یہ صرف اسلامی ممالک تک محدود ہو۔ سود کے مضر اثرات سے مسلمان احکام خداوندی کی وجہ سے لیکن غیر مسلم اس کے معاشی بوجھ اور ظالمانہ پالیسیز کی وجہ سے نکلنا چاہتا ہے۔ اسلامی بنیادوں پر قائم معاشی پالیسیز مسائل کا حل پیش کرنے میں عملی طور پر کامیاب ہوئی ہیں ۔آپ اعداد و شمار سے اندازہ یوں لگائیں کہ ایک اسلامی بینک تھا 70ء کی دہائی میں ، اب 40 سال بعد آپ اِسلامی بینکوں، اسلامی انشورنس کمپنی کی تعداد ہی دنیا بھر میں دیکھ لیں تو آپ کو دنیا کے سامنے ایک متبادل معاشی نظام ابھرتا نظر آئے گا۔ برطانیہ تک میں اسلامی بینک قائم کیا گیا، باقاعدہ قوانین تبدیل کیے گئے۔ اس لیے اس کا عالمی اثر ہے، اس میں کوتاہی مسلمانوں کی ہی ہے کہ سودی ذرائع کے مقابلے میں اسلامی ذرائع کو ترجیح دیں۔ یہی راستہ ہے جو سودی نظام کے خاتمے کا ایسا راستہ دے گا جس کے نتیجے میں سارا معاشرہ سود سے نجات کی جانب تیزی سے اپنی منزل طے کرے گا۔ اس کو صحیح طریقے سے پیش کرنے اور اس میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے ۔ اُسکو مضبوط کریں تاکہ پہلے سے مضبوط سودی نظام کی جڑوں کو کاٹا جا سکے۔ہم بتائیں گے لوگوں کو کہ کہاں اسلامی طریقے سے سرمایہ کاری کریں۔مجموعی طور پر تو میں اس کا بہت اچھا مستقبل دیکھ رہا ہوں ۔
سوال: تکافل کے آنے سے انشورنس انڈسٹری پر کیا فرق پڑا؟
زاہد حسین: جب ضوابط بنے تھے تو بہت اچھی کوشش کی تھی ۔بدقسمتی سے یہاں پاک قطر یا داؤد تکافل کے علاوہ کوئی اور dedicatedسرمایہ لگانے والا مقامی مارکیٹ سے نہیں آیا۔ ساری ذمے داری اب ہم پر ہے ،کہ ہم پاکستان کی اتنی بڑی مارکیٹ میں اس تجربے کو کامیاب کر دکھائیں ۔وجہ یہ ہے کہ لوگ سرمایہ لگانے کو تیار نہیں ، ایک متبادل کے طور پر ہم سامنے بن کر دکھائیں۔ پہلے سے بڑے کھلاڑی موجود ہیں، تو ان کا بزنس تو اثر پڑے گا،مگر دکھ کی بات یہ ہے کہ بڑے بزنس والوں کوسوچنا چاہیے کہ 200 ملین سے زائد کی آبادی میں 2کی جگہ 10 کمپنیاں بھی آجائیں تو کچھ نہیں ہوتا۔دیگر روایتی انشورنس والوں نے کیا یہ کہ تکافل کا مستقبل دیکھتے ہوئے غیر فطری انداز سے ایک ونڈو آپریشن شروع کر دیا اور کام یہ شروع کیا کہ ہمارے ہی تربیت یافتہ لوگ پوری مارکیٹ میں کام کر رہے ہیں اور کئی بڑی کمپنیز میں ہمارے تربیت یافتہ لوگ کام کر رہے ہیں۔ اس لیے میں کہتا ہوںکہ نیت اور لگن بہت ضروری ہے۔ اس کے لیے مجھے عوامی آگہی میں شدید کمی محسوس ہوتی ہے ۔
سوال: اس ضمن میں آپ اس کاروبار کے فروغ میں کس عنصر کی کمی یا وجہ محسوس کرتے ہیں ؟
زاہد حسین: بطور انڈسٹری بھی اس حوالے سے آگہی ہونی چاہیے کہ بیمہ در اصل ہے کیا ، اسلام کیا کہتا ہے اور کیسے ہم اسلامی طریقہ پر سود اور حرام سے بچتے ہوئے اس سے استفادہ کر سکتے ہیں ۔لوگوں کی قبولیت عوامی آگہی کے حساب سے ہی محسوس ہوتی ہے جہاں جہاں بات سمجھ آجاتی ہے وہاں ہم دیکھتے ہیں کہ رجوع بھی بڑھتا ہے ۔ہو یہ رہا ہے کہ ادارے ایک دوسرے سے ہی گاہگ چھیننے میں لگ گئے ہیں جس کی وجہ سے آگہی کی جانب توجہ کم ہو گئی ہے ۔میرا خیال ہے کہ مجموعی طور پر انشورنس کا علم ہی نہیں ،لوگ ایسے بھی آپ کو ملیں گے جو کہیں گے کہ یہ سب ایک ہی چکر ہے ، سب سودی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔ اس وقت پاکستان میں 15 فیصد اسلامی بینکوں کے پاس بزنس ہے ۔ایک اسلامی بینک کی پاکستان میں 600 برانچ کا کھلنا، عوامی مقبولیت کی نشانی ہے۔ بینکوں کی مثال اس لیے کہ یہ سب سے زیادہ عام فہم شکل ہے عوام کے سامنے ۔ ہونا یہ چاہیے کہ وہ بڑے ادارے جو پہلے سے اس فیلڈ میں ہیں اور اب ایک ونڈو آپریشن سے تکافل چلا رہے ہیں اُنہیں بطور کامیاب بزنس مین چاہیے کہ دو سو ملین کی آبادی کو کور کرنے کو ترجیح دیں نا کہ دیگر اداروں کے ممبران کو ہدف بنائیں اس کے نتیجے میں مجموعی تعداد تو نہیں بڑھے گی ۔جبکہ آپ دیکھیں تو مجموعی طور پر رسک میں اضافہ ہوا ہے ،تعلیم ، آمدن ، کاروبار سب چیزوں میں اضافہ ہوا ہے اس لیے تکافل کی ضرورت بھی بڑھی ہے لیکن اُس تک پہنچنا اور اُس کے فوائد سے آگاہ کرنا بہت ضروری ہے ۔
سوال: پاک قطر تکافل نے گزشتہ سال اپنے شیئر ہولڈر میں منافع تقسیم کیا ۔ اب آپ اپنے 10 سال کا سفر کیسا دیکھتے ہیں۔ حکومتی کردار کیا رہا اور حکومت سے کیا چاہتے ہیں آپ بہتری کے لیے؟
زاہد حسین: نیت خالص منزل آسان، ہم نے الحمدللہ کامیابی کا سفر اس طرح طے کیا ہے کہ فنڈ میں بچ جانے والے پیسوں سے اور اس طرح آنے والے دیگر سرمایے سے ہم نے عین اسلامی اصولوں پر اپنے شریعہ بورڈ کی ہدایت کی روشنی میں سرمایہ کاری کر کے منافع حاصل کیا ۔ یہ منافع اپنے شرکامیں ہم نے تقسیم بھی کیا، ایک ایسی مارکیٹ میں جہاں لوگ اس کے نام سے ہی واقف نہ ہوں اور 9 سال میں آپ اپنے شیئر ہولڈر کو ڈویڈنڈ دے دیں یہ بہت بڑی کامیابی ہے ۔ہمیں 3 سال سے منافع ہو رہا ہے ۔ اس ضمن میں ایس ای سی پی ہمیں بہت گائڈ لائن دیتا ہے اور مکمل سپورٹ دیتا ہے ۔انتہائی سخت چیک اینڈ بیلنس ہے، ہمارے کسٹمرز کے پیسے کا تحفظ ہم سے زیادہ تو وہ کر رہے ہوتے ہیں ۔انہوں نے عوام کے لیے بیمہ کمپنی کے خلاف کمپلینٹ کا بہت اچھا اور موثر نظام بنایا ہوا ہے۔ حکومت کا معاملہ یہ ہے کہ اگر حکومت تعاون کرنا چاہے اس ضمن میں تو کم از کم سرکاری اداروں کے ملازمین کو یہ آگہی پہنچانے کی سہولت دے تو بہت اچھا ہو گا کہ جو لوگ کرنا چاہیں تو یہ آپشن ہو اُن کے پاس تو اس سے بہت بہتری آئے گی ۔
پاکستان کی دیگر صنعتوں کی طرح ہمیںبھی ایک صنعت سمجھا جائے ، جس کے پھلنے پھولنے سے حکومت کو ہی فائدہ ہوگا۔اگر پاک قطر کچھ لوگوں کا تکافل کر رہی ہے وہ بھی حکومت کے قوانین کے مطابق کر رہی ہے کئی اور ادارے کر رہے ہیں تو جس طرح آئین دیگر صنعتوں کو پھلنے پھولنے کے لیے تحفظ دیتا ہے تو ہمیں بھی موقع دے ۔ 2سال پہلے سندھ گورنمنٹ نے انشورنس پر ٹیکس لگایا، بجائے اس کے کہ حکومت عوام کو انشورنس کی جانب راغب کرے ایسے ٹیکس لگانے سے لوگ بھاگیں گے ۔