بحری مشق بارہ کوڈا۔ 8جاری، سمندر میں تیل کا پھیلاؤ روکنے کا مظاہرہ

539

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان نیوی کی رہنمائی میں پاکستان میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی کے زیر اہتمام بحری مشق بارہ کوڈا۔

VIII جاری ہے جس کے دوسرے روز کھلے سمندر میں کراچی بندرگاہ سے تقریباً 10 ناٹیکل میل پر عملی طور پر سمندر میں تیل کے پھیلاؤ کی روک تھام اور اس کا ذخیرہ کرنے کی مشق کا مظاہرہ کیا گیا، جس میں پاک بحریہ، پاکستان میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی کے جہازوں اور ہیلی کاپٹر کے علاوہ کراچی پورٹ ٹرسٹ، پورٹ قاسم اتھارٹی، بائیکو پیٹرولیم، وزارت موسمیاتی تبدیلی، سندھ انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی، نیشنل آئل ریفائنری اور دیگر اداروں کے مندوبین نے عملی مظاہرہ دیکھا، اس مشق کا تیسرا مرحلہ
آج 6 دسمبر کو کراچی کلفٹن ساحل پر منعقد کیا جائے گا جس میں زمین پر تیل کے پھیلاؤ کو ٹھکانے لگانے کے اقدامات کا مظاہرہ کیا جائے گا۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل پاکستان میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی کموڈور عبدالماجد نے میڈیا کو مشق کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مشقوں کے باقاعدگی سے انعقاد کا مقصد سمندری آلودگی پر کنٹرول اور اس سے نمٹنے کی تیاری ہے۔ سال 2003ء میں کراچی میں MV-TASMAN نامی تیل بردار جہاز کے تباہ کن حادثے کے بعد سمندری آلودگی سے نمٹنے کے لیے ایک موثر پروگرام تشکیل دینے کی ضرورت شدت سے محسوس کی گئی اور اسی تناظر میں 2007ء میں گورنمنٹ آف پاکستان کی جانب سے قومی سطح پر سمندری آلودگی سے نمٹنے کے لیے پاکستان نیوی اور پاکستان میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی کے بطور اہم کردار ایک منصوبہ تیار کیا گیا۔ قومی سطح پر سمندری آلودگی اور تباہی سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے یہ منصوبہ ایک جامع تنظیم اور بہترین منصوبہ بندی کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے چیئرمین پاکستان میرین ڈیزاسٹر مینجمنٹ بورڈ کی جانب سے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ جس کی سربراہی چیف آف نیول اسٹاف کر رہے ہیں۔ ہیڈ کوارٹر پاکستان میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی میں ڈیزاسٹر رسپانس سینٹر کی جانب سے ایک رسپانس کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس کا مقصد رونما ہونے والی تباہی سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے بہترین کوششیں بروئے کار لانا ہے۔ اس مشق کا مقصد سمندر میں ہنگامی بنیادوں پر تیل کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات کرنا اور جامع طریقہ کار کو وضع کرنا ہے۔ انہوں نے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ آلودگی ہماری آنے والی آئندہ نسلوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوگی۔ انہوں160نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آلودگی کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کی جانب فوری اور سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔