صدقہ جاریہ اس طرح کا تو نہیں ہو سکتا

655

اختر عباس

ہماری محبتوں کا عجیب معاملہ ہے، ہم عمر بھر ہر چھوٹی بڑی چیز سے محبت کر لیتے ہیں، ہر معروف مقبول اداکار، کھلاڑی، کالم نگار، ٹی وی اینکر، مصنف، شاعر اور گلوکار سے اظہار محبت بھی کر لیں گے، گھر، دفتر، فرنیچر، گاڑی، کاروبار، رشتے، چہرے، جسم، کپڑے، سفر، سہولتیں، مرتبے، عہدے، خاندان، برادری، علاقے، مزار، آبا واجداد غرض کوئی بھی چیز ہماری عقیدت کا مرکز بن سکتی ہے، ہماری توجہ کھینچ سکتی ہے، ہم اس کی چاہت اور ضرورت کے مطابق ڈھل سکتے ہیں، جگہ جگہ اس کا ذکر کر سکتے ہیں، وسیع الظرف کہلا سکتے ہیں، انسانوں سے جڑ سکتے ہیں، ان سے نئے رشتے بنا سکتے ہیں، ان سے جڑے رشتوں کو با آسانی قبول کر سکتے ہیں، ان کے مطابق خود کو بدل سکتے ہیں بہت کچھ برداشت کر سکتے ہیں، ان سے داد پا سکتے ہیں مگر جہاں سے مستقل عزت افزائی مل سکتی ہے، جہاں قدر دانی ہو سکتی ہے، اس سے جڑنے اور اظہار محبت کے لیے ایک خاص دن اور مہینے کا انتظار کرتے ہیں، پھر روشنیاں جلاتے، بازار سجاتے، جھنڈیاں لگاتے، پہاڑیاں بناتے اور نعتیہ گانے فلمی دھنوں پر گاتے، اس دن کی ساری نمازوں کو قربان کرتے گزار دیتے ہیں، یہ سارے کام عقیدت میں کرتے ہیں اور اسے محبت سمجھتے ہیں، عقیدت کے بنیادی خمیر میں احترام ہے محبت نہیں، آنکھیں جھکانا ہے، کھلی آنکھوں سے ماننا اور پیروی کرنا نہیں، عقیدت اظہار کا ذریعہ ہے ذہنی اور عملی تبدیلی کا نہیں۔
اس پورے منظر نامے میں اس سال بہت ہی تکلیف دہ باتیں ہونے لگی ہیں، آپ کسی بھی عمر میں ہوں کسی بھی ذات برادری سے ہوں، کبھی آپ کو اظہار محبت کرنا ہو تو کیا کسی اور کے ذمے لگاتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف سے یہ کام کر کے آئے اور اس کا فیض آپ کو ملے، آپ آنکھیں بند کر کے سر پر ٹوپی لے کر بیٹھ جائیں اور آنکھیں بند کر کے سوتے جاگتے سر گھماتے رہیں گے، اس پورے اظہار محبت میں آپ کہاں ہیں اور سامنے اسٹیج پر بیٹھا ایک آدمی جسے اپنی ویلوں اور معاوضے سے غرض ہے، وہ اچانک آپؐ سے عقیدت کے نام پر ٹن ٹنا ٹن سنانا اور گانا شروع کر دے تب بھی آپ کی محبت اور عقیدت کے ماتھے پر کوئی شکن نہ آئے۔ [فلم جڑواں کے اس غلیظ گانے کے بول معلوم کیے تو وہ یوں تھے [سنا ہے تیرے چاہنے والے آگے دس ہیں پیچھے بارہ، چلتی ہے کیا نو سے بارہ، ٹن ٹنا ٹن ٹن ٹن تارہ، ایک بار سے دل نہیں بھرتا مڑ کے دیکھ مجھے دوبارہ]
کوئی ایک آدمی اٹھ کر اس گانے والے سے یہ نہ پوچھے کہ تمہیں دنیا کے سب سے مدبر، سنجیدہ، پاکیزہ اور محبوب انسان کے ساتھ یہ گستاخی کرنے کی جرأت کیسے ہوئی؟ میں ہوں قادری، سنی ٹن ٹناٹن ہوں قادری، پس منظر میں روضہ رسول کا فلیکس لگا ہوا ہے، وڈیو میں پوری بے شرمی سے مسکراتے اور جذبوں کا تمسخر اڑاتے کوئی ذی شان صاحب جھوم رہے ہیں اور ان کے پیچھے بیٹھے دو گستاخ رسول پوری ڈھٹائی کے ساتھ لوگوں کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے اس حرکت کا لطف لے رہے ہیں، یہ تو ہو نہیں سکتا کہ اس محفل میں کوئی نبی سے محبت کا دعوے دار ہی موجود نہ ہو، میں نے دعوے دار لکھا ہے، کوئی سچی محبت کرنے والا اور اللہ رسول پر ایمان رکھنے والا، ہزاروں خرچ کرنے والا، وہاں ہوتا تو کیسے ممکن تھا کہ یہ جاہلانہ کلام گایا جاتا اور ظلم یہ ہے کہ اب ملک بھر میں ہر ہر موبائل پر چل رہا ہے، لوگ مسکراتے ہیں اور آگے فارورڈ کر دیتے ہیں۔ حد یہ ہے کہ رضی صاحب نے بھی اپنی پوسٹ کا اختتام اسی ٹن ٹنا ٹن پر کرنا شروع کیا ہے۔
اس کم عقلی اور کم فہمی کی انتہا کا سامنا میرے رسولؐ ہی کو اپنے امتیوں کے ہاتھوں کیوں ہر بار کرنا پڑتا ہے، چند برس قبل جب یورپ میں کچھ بد قسمت لوگوں نے خاکے بنائے تھے تو مجھے اچھی طرح یاد ہے ان دنوں میں قومی ڈائجسٹ کا ایڈیٹر تھا، وہیں دفتر میں ایک صاحب اپنا لیپ ٹاپ لے کر آگئے اور پورے اشتیاق سے میرے میز پر رکھ کر سارے اسٹاف کو دعوت دینے لگے کہ ’’آؤ تمہیں میں وہ خاکے دکھاتا ہوں جو کسی کے پاس نہیں ہیں اور میں نے بڑی تگ و دو سے انہیں حاصل کیاہے‘‘۔
ان سے میری بہت دوستی تھی مگر میں اپنی آواز کو بلند ہونے سے نہیں روک سکا تھا کیا کوئی اپنے والد کی بے عزتی کرنے والے کارٹون لے کر گھر گھر جائے گا اور اسی شوق سے دکھائے گا کہ دیکھو ابا جی کی کتنی بے عزتی ہوئی ہے، یہ اس سے لاکھوں گنا زیادہ حساس معاملہ ہے، آپ نے سوچ بھی کیسے لیا کہ گھر گھر جا کر اس گناہ بے لذت کا ارتکاب کریں گے، اسے پھیلائیں گے اور ہم خاموشی سے یہ ہوتا دیکھیں گے‘‘۔
میرے ان سے تعلقات اس واقعے کے بعد نارمل نہیں رہ سکے، رہتے بھی کیسے یہ میری عزت، محبت اور عقیدت کا معاملہ ہے، میں اپنے رسول کی جگ ہنسائی کی کسی کوشش کا حصہ بننا تو دور اس کے ساتھ کھڑے ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اور سچ کہوں تو آپ سب اس محترم ذاتؐ سے مجھ سے کہیں زیادہ محبت کرتے ہیں، ہماری دنیا ہی نہیں آخرت کی ساری کامیابی ہی ان سے جڑی ہے، ان کی محبت سے جڑی ہے، حوض کوثر پر ملاقات ہو یا اللہ کے حضور حاضری کے دوران کس منہ سے ان کو انڈیا کی فلمی دھنوں پر سلام پیش کریں گے، اس کے لیے کسی خصوصی کم فہمی اور گستاخی کے کیا نتائج ہوں گے ذرا لمحے بھر کو سوچیے وہاں تو یہ روپوں کی ویلیں ہوں گی اور نہ داد کے نعرے ہوں گے، ’’چلاں گی پکھیاں تے بڑا کچھ کہن گیاں اکھیاں‘‘ یہ کہتے ہوئے کیا شرم سے ڈوب مرنے کا مقام نہیں ہوگا، کل کسی نے فلم دھڑکن کا گانا اور ساتھ نعت کی بے حرمتی پر مبنی گانے کا کلپ بھیجا ’’دل نے یہ کہا ہے تم سے مدینہ بس گیا ہے دل میں، میری جان ہے مدینہ، میری زندگی مدینہ میری جستجو مدینہ، میری دھڑکنیں مدینہ ہا ہا ہا ہا صلو علیہا، ‘‘سن کر تکلیف سے دل پھٹنے لگا، میں نے اپنے معاون اسامہ فیاض سے کہا ذرا یوٹیوب دیکھو کیا یہ کلپ واقعی وہاں ہے یا کسی نے شرارت کی ہے، چند لمحے لگے اس نے گوگل سرچ میں لکھا نعتیہ سونگز، وہی کلپ سب سے پہلے سامنے تھا، ۴۳۲۴۸ لوگ اسے دیکھ چکے تھے۔ لکھا تھا فلم دھڑکن کے گانے ،نے کہا ہے دل سے کی کاپی دعوت اسلامی نعت خوانی انڈین سانگز پارٹ ون۔
برصغیر میں آپؐ سے محبت میں نعت لکھنا ہمیشہ ایک اعزاز مانا جاتا رہا ہے، ہر بڑے شاعر کو حمد لکھنے میں مشکل بھی ہوئی تو اس نے نعت ضرور لکھی، احمد رضا بریلوی سے لے کر احمد ندیم قاسمی اور حفیظ تائب جیسی نعت کہنے والی محبت اور عقیدت سے بھیگی شخصیات اسی خطے کی نمائندہ اور سرخیل رہی ہیں، انہی جیسے صاحبان دل کی قدردانی کی جاتی رہی ہے، بریلو ی مکتبہ فکر سے وابستہ امتیوں ہی نے لاکھوں روپے دے کر نعت خوانوں کو سننے کا رواج ڈالا تھا مگر یہ تو انہوں بھی نہیں سوچا ہو گا کہ آپؐ کی توہین ہونے لگے گی۔ یہ مکتبہ فکر تو ہمیشہ خرچ بھی اسی محبت کے نام پر سب سے زیادہ کرتا ہے، بازاروں کا سجانا، ماڈل بنانا، عقیدت کا اظہار کرنا، بارہ وفات کو یہیں لاہور میں عید میلاد النبی کا نام دینے اور سفید کپڑے پہن کر منانے کا آغاز کرنے والے شمع رسالت کے پروانوں کو کیا خبر تھی کہ میلاد کے نام پر سجے بازاروں میں نبی کے نام کے بینروں کے عین نیچے ۲۰۱۷ء میں خواجہ سراؤں کا رقص کرایا جانے لگے گا اور سیکڑوں شیدائی انہیں دیکھ کر وڈیو بنا بنا کر پوسٹ بھی کر رہے ہوں گے۔، مجھے یقین ہے کہ میلاد النبی کا آغاز اس لیے تو بالکل نہیں کیا گیا ہو گا۔ محبت کے اظہار اور اعلان میں جتنی بھی شدت ہو صدقہ جاریہ بننے والی عقیدت ایسی تو بالکل نہیں ہو سکتی۔ عوامی عقیدت سے ڈرنے کے بجائے اس سچی محبت کو مثبت اور سچا رخ دینے، مجھے پختہ یقین ہے باہر سے کوئی نہیں آئے گا۔