سفارت خانے کی منتقلی ،امریکا نتائج بھتنے کیلیے تیار رہے، اُردن

207
بغداد: عراقی شہری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ طور پر سفارت خانے کو بیت المقدس منتقل کرنے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں
بغداد: عراقی شہری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ طور پر سفارت خانے کو بیت المقدس منتقل کرنے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں

عمان (انٹرنیشنل ڈیسک) اُردن کے وزیر خارجہ نے امریکی حکام کو خبردار کیا ہے کہ اگر بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا گیا تو اس کے خطرناک نتائج ہوں گے ۔ اردن کے وزیر خارجہ ایمن سفادی نے امریکی سیکرٹری خارجہ ریکس ٹلرسن کو بتایا ہے کہ اس قسم کا اعلامیہ عرب اور اسلامی دنیا میں ناراضی پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے ۔ واضح رہے کہ امریکی ٹی وی چینل سی این این سمیت بہت سے امریکی اورمغربی ذرائع ابلاغ امریکی حکام کے حوالے سے اطلاع دے رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ سے اس متنازع فیصلے کا اعلان رواں ہفتے متوقع ہے تاہم صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کا کہنا ہے کہ ابھی اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ امریکی اعلیٰ حکام کا کہنا ہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بیت المقدس کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کرنے والے ہیں۔ اقوام متحدہ بیت المقدس پر اسرائیل کی حاکمیت تسلیم نہیں کرتا اور اس کے مطابق یہ متنازع علاقوں میں شامل ہے جس پر اسرائیل نے قبضہ کر رکھا ہے ۔ فلسطینی بھی کسی طور بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور ان کی طرف سے اس بارے میں شدید رد عمل سامنے آ سکتا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر کی طرف سے ممکنہ طورپرمقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی کے امکانات پرغور کے لیے آج (منگل) عرب لیگ کے مستقل مندوبین کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط کی زیرصدارت اجلاس میں بیت المقدس اور اس کے تقدس کو لاحق خطرات پرغور کیا جائے گا۔عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل کے معاون حسام زکی کے مطابق عرب لیگ کے مستقل مندوبین کا ہنگامی اجلاس قاہرہ میں طلب کیا گیا ہے۔ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے گزشتہ روز فلسطینی قیادت سے ملاقات کے دوران القدس کے بارے میں ممکنہ امریکی فیصلے پر سخت تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فیصلہ شدت پسندی اور تشدد میں اضافے کا سبب بنے گا اور یہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان امن عمل کے کسی کام نہیں آئے گا۔ اُدھر امریکی اخبار نیویارک کے صحافی تھامس فریڈمین کا کہنا ہے کہ سعودی اسرائیلی تعلقات میں قربت کی باتیں سادہ لوحی کے سوا کچھ نہیں جس کو سیاسی حماقت سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ سعودی عرب اس بات کے لیے تیار نہیں ہے کہ 2002ء میں پیش کیے جانے والے منصوبے کی جانب لوٹے بغیر اس کے اور اسرائیل کے درمیان کسی بھی قسم کے تعلقات ہوں۔