مودی سرکارہوش کے ناخن لے

55

کنٹرول لائن پربھارتی افواج کی آئے دن مسلسل اشتعال انگیزی کرتے ہوئے ہلکے اوربھاری ہتھیاروں کے استعمال نے سرحدوں پرسخت کشیدگی کاماحول گرم کررکھاہے جس کے نتیجے میں کئی بے گناہ شہری شہید اورزخمی ہورہے ہیں۔پاکستان کی جوابی کاروائی سے یہ سلسلہ کچھ دیر کے لیے تھم جاتاہے لیکن مکمل ختم ہونے کانام نہیں لے رہا۔اسی طرح مقبوضہ کشمیرمیں بھی مظلوم اورنہتے کشمیریوں پربھارتی سفاک فوجیوں کے گھناؤنے مظالم میں اضافہ ہوتاجارہاہے۔ اس صورتحال کوکنٹرول کرنے کے لیے پاکستان اوربھارت کے ڈائریکٹرجنرل ملٹری آپریشنز کے مابین 19 نومبرکوایک غیرمعمولی ٹیلی فونک رابطہ ہواجہاں پاکستان نے سخت الفاظ میں تنبیہ کرتے ہوئے انہیں آگاہ کیاکہ اگریہ سلسلہ بندنہ کیاگیاتواس سے بھارت کوناقابل تلافی نقصان اٹھاناپڑسکتاہے۔
مقبوضہ کشمیرکے ضلع بانڈی پورہ میں محاصرے اور سرچ آپریشن کے دوران 6 معصوم بے گناہ کشمیریوں کوشہیدکردیاگیاجبکہ بھارتی ائرفورس کاایک کمانڈو بھی مارا گیا۔ مقبوضہ کشمیرمیں ایک مرتبہ پھرموبائل انٹرنیٹ کی سروس کوبندکردیاگیاہے اوربھارتی فوج کاآپریشن جاری ہے۔ پاک بھارت سرحداورلائن آف کنٹرول پرایک مدت سے تسلسل کے ساتھ گولہ باری جاری ہے جن پرجوابی کاروائی پاکستان کے لیے بھی ناگزیرہوتی ہے۔اس ضمن میں دکھ کی بات یہ ہے کہ بھارت کی مسلح افواج جان بوجھ کرسول آبادی پرگولہ باری کرکے سول آبادی کونشانہ بناتی ہے،یوں مودی سرکارکی شرپسندانہ اوراشتعال انگیزحکمت عملی نے جنوبی ایشیاکے امن واستحکام کوسخت خطرے میں ڈال رکھاہے۔ 19 نومبرکوبھی کنٹرول لائن پربھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک خاتون سمیت دوافرادشہیداورچارزخمی ہوگئے جبکہ پاک فوج کے منہ توڑجواب سے بھارتی بندوقیں خاموش ہوگئیں۔
آرمی چیف جنرل قمرباجوہ نے راولپنڈی ہیڈکوارٹرکے دورے کے موقع پرجہاں فائربند ی کی بھارتی خلاف ورزیوں کاپاک فوج کی جانب سے مؤثرجواب دینے پراطمینان کا اظہارکیاوہیں قوم کواس حقیقت کااحساس بھی دلایاکہ ہماری مشرقی سرحداورکنٹرول لائن پرکسی بڑے تصادم کامستقل طورپرخطرہ موجودہے جس سے غفلت نہیں برتی جاسکتی۔ لہٰذا ہرقسم کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ہماری تیاری ہرلمحے مکمل رہنی چاہیے۔ بھارت نے باہمی کشیدگی میں مسلسل اضافے کی جوامن دشمن پالیسی بنارکھی ہے اس کااندازہ کچھ اس امرسے لگایاجاسکتاہے کہ سال رواں کے دوران اب تک بھارتی افواج نے کنٹرول لائن اورورکنگ باؤنڈری پرفائربندی کے معاہدے کی 1300 سے زائدمرتبہ خلاف ورزی کرکے انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی قوانین کی پامالی کی مرتکب ہوچکی ہیں۔
بھارت خطے میں امن واستحکام قائم کرنے کے بجائے مسلسل جنگ کے شعلے بھڑکانے کی کوششوں میں مشغول ہے۔ بھارت کے ان جارحانہ اقدامات کے مقاصدمیںسے ایک واضح طور پر یہ ہے کہ کشمیریوں کی جانب سے حق خودارادیت کے مطالبے کی ناقابل شکست تحریک کی جانب دنیاکی توجہ ہٹائی جائے جبکہ دوسراسبب پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے جس نے بھارتی قیادت کوتڑپارکھاہے،اسے کچھ نہیںسوجھتاکہ سی پیک منصوبے کوسبوتاژکرنے کے لیے کیاسازش کرے جس کے وہ اپنے حق میں نتائج حاصل کرسکے،اس کی بنا پروہ پاکستان کے خلاف مسلسل سازشی کاروائیوں میں مصروف ہے۔ افواج پاکستان کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل زبیرمحمودحیات چندروزقبل ایک سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے اس خبرکی توثیق کرچکے ہیں کہ اس منصوبے کوناکام بنانے کے لیے مودی سرکار 50 کروڑڈالرمختص کرچکی ہے اوربدنام زمانہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ اسی رقم کو پاکستان میں دہشتگردکاروائیوں کے لیے استعمال کررہی ہے جبکہ چین اورپاکستان دونوں کی جانب سے بھارت کوسی پیک میں شامل ہونے کی کھلی پیشکش کی جاچکی ہے جسے قبول کرکے بھارت خوداپنے عوام کے لیے خوشحالی کی راہیں کھول سکتاہے۔اس لیے بھارت کے اس روّیے کوتعصب ،حسداوربغض کانتیجہ ہی قراردیا دیا جاسکتا ہے جس کاکوئی جوازموجودنہیں جبکہ بھارتی اشتعال انگیزیاں کسی بھی وقت بڑے تصادم میں بدل سکتی ہیں اورجنوبی ایشیاکی ایٹمی طاقتوں کے درمیان باقاعدہ جنگ چھڑسکتی ہے جس میں شکست خوردملک اپنے آخری ہتھیارکے طورپرجوہری اسلحے کااستعمال کرسکتاہے جونہ صرف خطے بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے خطرے کاباعث ہوسکتاہے۔ان حالات میں نہ صرف افواج پاکستان بلکہ پوری پاکستانی قوم کوہرممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیاررہناہوگاجبکہ عالمی برادری کوبھی جنوبی ایشیاکی اس تشویشناک صورتحال پرآنکھیں بندکرکے نہیں بیٹھے رہنا چاہیے بلکہ ایسے کسی بھی ممکنہ خطرے کے سرپرآجانے سے قبل ہی اس کے سدباب کے لیے متحرک ہوجانا چاہیے۔
اس میں کوئی شک نہیںکہ وطن عزیزآج تاریخ کے ایک بڑے اورمشکل ترین دورسے گزررہا ہے۔ اسے داخلی اوربیرونی دونوں محاذوں پرسنگین چیلنجز کاسامناہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکارممکن نہیںکہ قومیں مشکلات کوجرأت وبہادری اورجوانمردی سے شکست دے کرہی سربلندوسرفرازہوتی ہیں ۔پاکستانی قوم کوجوآج مشکلات درپیش ہیں،ان شاء اللہ وہ اسے مزیدمستحکم وتواناکرنے کاذریعہ بنے گی لیکن اس کے لیے ہمیں اپنی صفوں کوانتشارسے پاک کرنااورہرقسم کے اختلافات کودشمنی تک پہنچانے کی بجائے صبروتحمل اورآئینی و جمہوری حدودمیں افہام وتفہیم کے ذریعے سے یہ طے کرنااپناوتیرہ بناناہوگا۔ان حالات میں ڈائریکٹرجنرل ملٹری کی جانب سے بھارتی ہم منصب سے غیرمعمولی رابطے کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے اوریہ حقیقت سمجھ میں آجاتی ہے کہ اب مسلح افواج بھارتی فوج کی آئے دن کی سول آبادی پرگولہ باری سے ہونے والے جانی نقصان سے تنگ آچکی ہے اوراب اس کاخاتمہ چاہتی ہے،بصورت دیگرپاک فوج کے پاس اپنی مرضی کے محاذاوراپنے پسندیدہ وقت پرٹھوس اورمؤثرجواب دینے کاحق محفوظ ہے یعنی بھارتی عسکری قیادت کسی خوش فہمی میں نہ رہے اورپاکستان کی امن دوست پالیسی کوہماری خوف یابزدلی سمجھنے کی غلطی نہ کرے ورنہ بھارت کوناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتاہے۔