سابق یمنی صدر کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر سعودی عرب کا خیرمقدم

250

صنعا (آن لائن) سعودی عرب کی سربراہی میں قائم اتحاد نے یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کا خیرمقدم کیا ہے۔ عبداللہ صالح کو 2012ء میں اس وقت اقتدار چھوڑنا پڑا جب ملک بھر میں احتجاج شروع ہو گیا تھا۔ انہیں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی حمایت حاصل ہے۔ علی عبداللہ صالح نے ٹی وی پر ایک بیان میں کہا کہ وہ ایک نئی شروعات پر تیار ہیں اگر سعودی اتحاد شمالی یمن کی ناکا بندی ختم کر دے اور حملے روک دے۔عبداللہ صالح کے ایک ترجمان ہاشم شرف عبداللہ نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا ہے کہ سابق صدر نے یہ فیصلہ حوثی باغیوں کے نامناسب رویے کے سبب کیا ہے۔