عدالت عظمیٰ ختم نبوت حلف میں ترمیم کا از خود نوٹس لے‘ سراج الحق

344
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق منصورہ میں سیرت خاتم الانبیا کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق منصورہ میں سیرت خاتم الانبیا کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں

لاہور( نمائندہ خصوصی ) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ سپریم کورٹ ختم نبوت میں ترمیم کے مجرموں کو بے نقاب کرنے کے لیے سوموٹوایکشن لے ۔ یہ کلیریکل غلطی تھی نہ اس کے پیچھے کوئی ایک فرد تھا، یہ ایک منظم سازش تھی ۔ عدالت کرپشن میں ملوث سب کی اسکروٹنی کرے۔ کوئی سیاسی ہو یا غیر سیاسی سب کا احتساب ہونا ضروری ہے ۔ قوم کرپٹ عناصر کو ہتھکڑیوں اور اڈیالہ جیل میں دیکھنا چاہتی ہے ۔ دشمن ہمارے وسائل ہمارے خلاف استعمال کررہاہے ۔ ہمارا تیل نہ ہوتو دشمن کے کارخانے چلیں نہ جہاز اڑیں ۔ ہماری دولت سے دشمن کے بینک آباد اور ان کے ملک چل رہے ہیں ۔ حکمرانوں کو اسلامی نظام اور کشمیر کاز سے بے وفائی اور عاشق رسول ؐ ممتاز قادری کو شہید کرنے کی سزا ملی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں منعقدہ ’’ سیرت خاتم الانبیأ ﷺ کانفرنس ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سیرت کانفرنس سے ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ،حافظ ساجد انور ، امیر العظیم ، مولانا عبدالمالک ، ابتسام الٰہی ظہیر، پیر سید ہارون گیلانی ، مولانا امجد خان و دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ عالمی اسٹیبلشمنٹ پاکستان سمیت مسلم ممالک میں حقیقی اسلامی قیادت کے راستے میں رکاوٹ ہے ۔ عالم اسلام میں ہر جگہ امریکی سامراج و عالمی اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کار برسراقتدار ہیں تاکہ اسلام کے بڑھتے قدموں کو روکا جاسکے ۔ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں سیاسی لیڈر اور کرپٹ اشرافیہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں ۔ موجودہ سیاسی کلچر صرف امراء اور دولت مندوں کے لیے ہے ، غریب اور عام آدمی کے لیے اس میں کوئی جگہ نہیں ۔ حکمران دودھ پیتے اور مکھن و بالائی کھاتے ہیں اور غریب کو لسی بھی نہیں ملتی ۔ حکومت منزل کھو بیٹھی ہے ۔ مصنوعی آکسیجن پر کب تک چلے گی ۔ غاروں میں بیٹھے مسلح دہشتگرد اور ایوانوں میں بیٹھے سیاسی اور معاشی دہشتگرد پاکستان کے لیے یکساں خطرناک ہیں ۔ جماعت اسلامی نے ۱۲ ربیع الاول ملک بھر میں یوم عزم تحفظ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے طور پر منایاہے ۔ ختم نبوتؐ کے مسئلے پر پوری قوم متحد ہے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ موجودہ حکومت مصنوعی آکسیجن ٹینٹ میں ہے اور معلوم نہیں کب تک اس میں رہے گی۔ حکومت راستے سے بھٹک کر اپنی منزل کھو چکی ہے اور اب اندھیرے میں ٹامک ٹویاں مار رہی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت کو اپنی عوام کی خدمت اور مفاد کے بجائے اپنے مفادات عزیز تھے ان کے تحفظ کے لیے جمہوریت کی آڑ میں قوم کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا ۔ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ لاد کر ان میں مسلسل اضافہ کیا جاتا رہا اس کے مقابلے میں انہیں کوئی سہولت نہیں دی گئی ۔ قرضوں کے انبار لگا کر بیرون ملک اپنے بینک بیلنس بڑھائے گئے ۔ عوام کو نت نئی قیمتوں میں اضافے کے تحفے دیے گئے ۔ غریب کے لیے ہسپتال میں علاج کی سہولت ہے نہ دوائی نہ ان کے بچوں کے لیے تعلیم کا کوئی اہتمام ۔ ان کے اپنے اور خاندان کے علاج لندن اور امریکہ میں ہوتے ہیں اور ان کا بوجھ بھی غریب اٹھاتے ہیں ۔ ان کی اولادیں بیرون ملک تعلیم حاصل کرتی ہیں یہ صرف پاکستان پر حکمرانی کر تے ہیں ان کی جائیدادیں باہر اور اولادیں بیرون ملک کاروبار کرتی ہیں تھی ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ اسلام اور اسلامی تعلیمات سے ان کو الرجی ہے اور نصاب تعلیم سے اسلام کو کھرچ کھرچ کر نکالا جارہاہے ۔ پاکستا ن کی بقا و سا لمیت کی ضمانت صرف اسلامی نظام دے سکتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ اسوۂ رسول ؐ کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے دولت نہیں ، عجز و انکسار کی ضرورت ہے ۔ فرید احمد پراچہ نے کہاکہ خاتم الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو خالق کائنات نے تمام انسانوں کے لیے آئیڈیل اور نمونہ قرار دیاہے ۔آپ ؐ کا ذکر کسی ایک دن یا ایک ماہ کے لیے نہیں بلکہ زندگی ، ہر لمحہ اور ہر دن رات اور چوبیس گھنٹوں کے لیے ہے ۔مولانا ا مجد خان نے کہاکہ یہود و نصاری ٰ کی غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہوکر ملک اس دن امن کا گہوارہ بنے گا جب ملک میں نظام مصطفےٰؐ کا نفاذ ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ قادیانیوں اور ان کے غلاموں کی ختم نبوت کا حلف نکالنے کی سازشیں صرف اس لیے ناکام ہوئیں کہ اسمبلی میں سینیٹر سراج الحق اور مولانا فضل الرحمن کے کارکن موجودتھے۔ انہوں نے کہاکہ جب تک ملک میں دینی جماعتیں موجود ہیں ، پاکستا ن کو سیکولر اور لبرل بنانا کسی کے بس کی بات نہیں ۔امیر العظیم نے اپنے خطاب میں کہاکہ سیاست کو بے دینی اور غیر اسلامی سمجھنے والے بے دین اور کرپٹ ترین لوگوں کو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچا کر ان سے اپنی امانتوں کے تحفظ کی امید رکھتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ عوام کو پریشانیوں میں مبتلا کرنے اور ملک کو مسائل کی دلدل میں دھکیلنے کے اصل مجرم یہی حکمران ہیں ۔خواجہ معین الدین کوریجہ نے کہاکہ پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی ریاست بنانے کے لیے اولیا اللہ کی تعلیمات کو عام کرنا ہوگا ۔اولیا اللہ اور مشائخ نے اللہ اور اس کے رسول ؐ کی اطاعت و بندگی کے جو سنہرے اصول ہمیں بتائے ہیں ، ان پر عمل کیے بغیر ملک میں اسلام اور آپ ؐ کی ختم نبوت کے خلاف ہونے والی سازشوں کو روکا نہیں جاسکتا ۔ حافظ ابتسام الٰہی ظہیر نے سیرت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مغربی استعمار نے مسلمانوں کے دلوں سے جذبہ جہاد ختم کرنے کے لیے جھوٹے مدعیان نبوت پیدا کیے اور ایجنٹوں کے ذریعے ختم نبوت پر ڈاکہ زنی کی ناکام جسارت کی ۔ مسلم لیگ آج تمام ترامیم کو واپس لینے پر مجبور ہے ۔ شیخ القرآن واالحدیث مولانا عبدالمالک نے اپنے خطاب میں کہاکہ ختم نبوت کا مسئلہ پوری امت کا مشترکہ مسئلہ ہے اس پر کسی ایک مسلک یا جماعت کی اجارہ داری نہیں ۔ ختم نبوت کے نام پر سر پٹھول کرنا اور دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرنا نا قابل قبول ہے ۔