وقت کا سفر

330

اسٹیون ہاکنگ
تلخیص و تحقیق : خرم عباسی
” سٹیون ہاکنگ کی کتاب (A Brief History of Time) مدتوں تک بیسٹ سیلر (best seller) شمار ہوتی رہی ہے، دنیا کی اکثر زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوچکا ہے۔ مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ کتاب کوئی آسان کتاب نہیں ہے۔ اس کی وجہ محض یہ نہیں کہ اس کے موضوعات مشکل ہیں، بلکہ اصل وجہ ہی ہے کہ یہ کتاب ان عوامل کو بیان کرتی ہے، جو روزمرہ کی زندگی میں ہمارے تجربے میں نہیں آتے اور نہ ہی اس کے بیشتر موضوعات کو تجربہ گاہ کی سطح پر ثابت ہی کیا جاسکتا ہے مگر اس کے باوجود یہ موضوعات ایسے ہیں جو صدیوں سے انسان کو اپنی طرف متوجہ کئے ہوئے ہیں اور ان کے بارے میں بعض ایسی معلومات حال ہی میں حاصل ہوئی ہیں، جو شاید فیصلہ کن ہیں۔ یہ کتاب بیسوی صدی کے آخر میں لکھی گئی ہے، لہٰذا اس میں فراہم کردہ مواد ابھی بہت نیا ہے، ابھی اسے وقت کے امتحان سے بھی گزرنا ہے اور لوگوں کو اس سے آشنائی بھی حاصل کرنی ہے۔ ہماری طالب علمی کے زمانے میں کہا جاتا تھا کہ آئن سٹائن کے نظریات کو سمجھنے والے لوگ ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔ اس سے کچھ پہلے ایڈنگٹن (Eddington) کو یہ خیال تھا کہ آئن سٹائن کو سمجھنے والا وہ شاید واحد فرد ہے، مگر اب یہ حال ہے کہ آئن سٹائن کے نظریات کو سائنس کا عام طالب علم بخوبی سمجھتا ہے۔ کارل سگاں(Carl Sagan) کا خیال ہے کہ آئن سٹائن کو سمجھنے کے لئے جس قدر ریاضی جاننے کی ضرورت ہے، وہ میٹرک کا عام طالب علم جانتا ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ آئن سٹائن نے جن موضوعات کو چھیڑا ہے، وہ ایسے ہیں جو روزمرہ کی زندگی میں کم ہی سامنے آتے ہیں، لہٰذا اسے سمجھنا مدتوں تک مشکل ہی شمار ہوتا رہا ہے۔
سٹین ہاکنگ کی یہ کتاب بھی اسی زمرے میں آتی ہے، اسے سمجھنا مشکل نہیں ہے، بشرطیہ کہ آپ روزمرہ کے تجربات سے ماورا جانے کے خواہش مند ہوں،اب بلا مبالغہ لاکھوں لوگوں نے اس کتاب کو پڑھا ہو یا پڑھنے کی کوشش کی ہو۔ اس کتاب کے سلسلے میں جو سروے ہوئے ہیں، یہ بتاتے ہیں کہ تجسس کے جذبے کی وجہ سے یہ کتاب خریدی تو بہت گئی ہے مگر پڑھی محدود تعداد میں گئی ہے۔ کچھ حصوں کے بارے میں خاص طور پر نشاندہی کی گئی ہے کہ وہ مشکل ہیں لیکن ان کو زیادہ آسان بنایا نہیں جاسکتا۔ ہمارے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات خاصی پیچیدہ ہے اور لاکھوں برس اس میں گزارنے کے باوجود ابھی ہم نے شاید اسے سمجھنا شروع ہی کیا ہے۔
سٹیون ہاکنگ کی یہ کتاب آپ سے یہ مطالبہ نہیں کرتی کہ آپ اسے اپنے اعتقاد کا حصہ بنالیں، مگر یہ ضرور چاہتی ہے کہ آپ اپنے بنائے ہوئے ذہنی گھروندے سے نکلیں اور یہ دیکھنے کی کوشش کریں کہ دنیا میں اور بھی بہت کچھ موجود ہے۔ یہ تو ہم سبھی لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ سپیس (Space) کی تین جہتیں یا ابعاد(Dimensions) ہیں اور وقت اس کی چوتھی جہت یا بعد ہے، ہم صدیوں سے وقت کو مطلق تصور کرتے چلے آتے ہیں لہٰذا ہمارے لئے چند لمحوں کے لئے بھی، یہ آسان نہیں ہے کہ ہم وقت کو سپیس کا ایک شاخسانہ سمجھ لیں۔
جو لوگ سپیس ٹائم کو چار ابعادی بھی خیال کرتے ہیں۔ ان کے لئے بھی مشکل ہے کہ وہ اپنی عادات سے ماوراجاکر کسی ایسے تصور تک رسائی حاصل کریں، جس کا تجربہ ہم سطح زمین پر نہ کرسکتے ہوں۔ میں ایک مثال پیش کردوں گا۔
اگر کبھی سورج اچانک بجھ جائے تو آٹھ منٹ تک ہمیں معلوم ہی نہ ہوگا کہ سورج بجھ چکا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آٹھ منٹ تک وہ روشنی زمین پر آتی رہے گی جو سورج سے چلی ہوئی ہے۔ پھر دوسرے سیارے اور ستارے بھی ہیں، چاند کی روشنی چند سیکنڈ میں ہم تک آجاتی ہے، لیکن بعض کہکشائیں اس قدر دور ہیں کہ ان کی روشنی اربوں سالوں میں ہم تک پہنچی ہے، اب اگر یہ کہکشائیں معدوم ہوچکی ہوں، تو ہم اربوں برس تک یہ معلوم نہ کرسکیں گے کہ وہ موجود نہیں ہیں۔ دوسرا بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ روشنی کی بھی کمیت (Mass) ہوتی ہے۔ وہ جب کسی بڑے ستارے کے پاس سے گزرتی ہے، تو وہ اسے اپنی طرف کھینچتا ہے لہٰذا وہ ذرا سا خم کھا جاتی ہے، ایسی روشنی جب ہم تک پہنچی ہے، تو اسے دیکھ کر سیارے یا ستارے کے جس مقام کا تعین کیا جاتا ہے وہ درست نہیں ہوسکتا۔
جب ہم آسمان کودیکھتے ہیں تو وہ ستارے، سیارے اور کہکشائیں اصل میں وہاں موجود نہیں ہوتیں، جہاں وہ ہمیں نظر آتی ہیں۔ لہٰذا جو کچھ ہم دیکھتے ہیں وہ ماضی کی کوئی صورت حال ہے، جو اب بدل چکی ہے ورنہ یہ تبدیلی تمام اجرام فلکی کے لئے ایک جیسی بھی نہیں ہے، لہٰذا ہمیں جو کچھ نظر آتا ہے، اس کا تعلق اسی شئے سے نہیں ہے، جسے ہم حقیقت کہتے ہیں۔ مگر آسمان کا اپنی موجودہ شکل میں نظر آنا ایک ایسی حقیقت ہے جسے تسلیم کئے بغیر انسان چند قدم نہیں چل سکتا۔ اس کی شاعری اور اس کے فنون لطیفہ شاید کبھی بھی اس صورت حال کو تبدیل کرنے کے لئے تیار نہ ہوں، جو ان کا ذاتی اور اجتماعی تجربہ ہے۔
لہٰذا ہم ایک وقت میں کئی سطحوں پر زندگی گزارتے ہیں، جس طرح جدید طبیعیات کے باوجود ابھی نیوٹن کی طبیعیات متروک نہیں ہوئی کیونکہ اس سے کچھ نہ کچھ عملی فائدہ ہم ابھی تک اٹھا رہے ہیں، مگر جب جہان کبیر، (Macrocosm) یا جہان صغیر (Microcosm) کی بات ہوئی ہے، تونیوٹن کی طبیعیات کسی طرح بھی منطبق نہیں کی جاسکتی۔جدید عہد کو سائنسی نظریات کے بغیر سمجھا ہی نہیں جاسکتا۔ اس لئے اگر آپ سائنس کے باقائدہ طالب علم نہ بھی ہوں، پھر بھی کچھ بنیادی باتوں کا علم ہونا ہم سب کے لئے ضروری ہے، اور یہ کتاب ان چند کتابوں میں سے ہے، جو اس سلسلے میں بنیادی نوعیت کی کتابیں کہی جاسکتی ہیں۔ بجائے اس کے کہ ہم سائنس کے بارے میں صحافیوں کے لکھے ہوئے مضامین پڑھیں۔ کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ ایک ایسے سائنس دان کی کتاب پڑھ لی جائے جسے جدید عہد کے اہم نظریاتی سائنس دانوں میں شمار کیا جاتا ہے، کچھ لوگ ہاکنگ کو آئن سٹائن کے بعد اہم ترین سائنس دان سمجھتے ہیں، میں اسی بحث میں نہیں پڑوں گا کہ یہ اندازہ درست ہے یا غلط، بہرحال اتنی بات ضرور ہے کہ موجودہ سائنسی برادری میں اسے ایک اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ وہ کیمبرج میں اس چیئر پر کام کررہا ہے، جہاں کبھی نیوٹن ہوا کرتا تھا۔
موجودہ کتاب کا ترجمہ جناب ناظر محمود نے 1992ء میں مشعل پاکستان کے لئے کیا تھا، جب سے اب تک اس کے تین ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ کسی سائنسی کتاب کے تین ایڈیشن شائع ہوجانا، بجائے خود اس امر کی دلیل ہے کہ کتاب کو پسند کیا گیا ہے۔ ناظر محمود صاحب نے یہ ترجمہ دلجمعی کے ساتھ کیا ہے، اس پر نظرثانی کرتے ہوئے، بہت کم مواقع ایسے آئے ہیں جہاں مجھے ان سے اتفاق نہ ہوا ہو، ویسے بھی میں نے کوشش کی ہے کہ اصل متن میں کم سے کم تبدیلی کروں اور صرف وہیں تک محدود رہوں، جہاں تک اس کی اشد ضرورت ہیـ‘‘.
فکرِ مغرب اِنسانیت کو تباہی کے دہانے پر لے آیا ہے۔ مادّی علوم کی روشنی میں ضوابطِ حیات ترتیب دینے والے معاشرے اندرونی شکست و ریخت کا شکار ہو کر رْوح کی طمانیت اور قلب کی آسودگی سے یکسر محروم ہو چکے ہیں۔ مادّی سائنسز کی ہر نازک شاخ فطرتِ اِنسانی کا بوجھ اْٹھائے رکھنے کے ہرگز ہرگز قابل نہیں۔ زوال لمحوں کے حصارِ بے اَماں میں اْلجھا عالمِ مغرب اپنی منزل کی تلاش میں بھٹک رہا ہے۔ آنے والا وقت اْس کی رْوحانی اور فِکری محرومیوں اور نا آسودگیوں میں مزید اِضافہ کر دے گا۔ نفسیاتی یا شعوری سائنسز کو پسِ پشت ڈال کر صرف مادّی ترقی سے اپنا ناطہ جوڑنے کا خمیازہ مغربی دْنیا کے ساتھ ساتھ پورے عالمِ اِنسانی کو بھگتنا پڑے گا، بلکہ اِس کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔ جب ثقافتی رِشتے ٹوٹتے ہیں اور فطری اَقدار سے عدم اِطمینان کا جذبہ اْبھرتا ہے تو اِنسان عملاً زِندہ لاش میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ رْوح کی موت جسم کی موت سے بھیانک منظر پیش کرتی ہے۔ اندر کا آدمی مر جائے اور اپنی رِوایات سے اْس کا رشتہ کٹ جائے تو اِنسان اور حیوان میں تمیز مشکل ہو جاتی ہے۔ درندگی اور وحشت کے پیرہن میں اِنسان شیطان کے بھی پر کاٹنے لگتا ہے۔
اس کتاب کی تلخیص سے پیشتر ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے گرد و پیش وْقوع پذیر ہونے والے حالات و واقعات اور حوادثِ عالم سے باخبر رہنے کے لئے غور و فکر اور تدبر و تفکر سے کام لیا جائے اور اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ شعور اور قوتِ مْشاہدہ کو بروئے کارلائیں تاکہ کائنات کے مخفی و سربستہ راز آشکار ہوسکیں۔اِسلام ہر شعبہ زِندگی میں اِنقلاب آفریں تبدیلیوں کا پیامبر بنا۔ فاران کی چوٹیوں پر نورِ ہدایت چمکا تو فرسودگی کا ہر نشان مٹ گیا۔ سوچ اور اِظہار کے نئے نئے دروازے وَا ہوئے، فرد کے اندر کی کائنات (انفس) کے ساتھ فرد کے خارِج کی دْنیا (آفاق) کی تسخیر کا آغاز بھی ہوا۔ خود اللہ کی آخری کتاب سائنسی حوالوں کی معتبر ترین دستاویز ہے۔ مسلمان سائنس دانوں نے علومِ جدیدہ کی بنیاد رکھتے ہوئے سائنٹیفک سوچ کے دروازوں پر پڑے قْفل توڑے اور ذِہنِ جدید کو کشادگی اور وْسعت کے جواہر سے آراستہ کیا۔اَشرفْ المخلوقات بنی نوع اِنسان سے اللہ ربّ العزت کا آخری کلام حتمی وحی قرآنِ مجید کی صورت میں قیامت تک کے لئے محفوظ کر دیا گیا۔ چونکہ یہ اللہ تعالی کی آخری وحی ہے اور اُس کے بعد سلسلہ وحی ہمیشہ کے لئے منقطع ہو گیا، چنانچہ اللہ تعالی نے اْس میں قیامت تک وْقوع پذیر ہونے والے ہر قسم کے حقائق کا علم جمع کر دیا ہے۔ کلامِ اِلٰہی کی جامعیت بنی نوعِ انسان کے لئے روزِ قیامت تک کے لئے رہنمائی کی حتمی دستاویز ہے جو عقلی و نقلی ہر دو قسم کے علوم کو محیط ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جو اوّل سے آخر تک اصلاً تمام حقائق و معارف اور جملہ علوم و فنون کی جامع ہے۔ قرآن خود کئی مقامات پر اِس حقیقت کی تائید کرتا ہے۔
اِرشادِ باری تعالی ہے: اور ہم نے آپ پر وہ عظیم کتاب نازل فرمائی ہے جو ہر چیز کا بڑا واضح بیان ہے(النحل، 16:89)۔ِّ شَیء کے لفظ کا اِطلاق کائنات کے ہر وْجود پر ہوتا ہے، خواہ وہ مادّی ہو یا غیر مادّی۔ جو چیز بھی ربِ ذوالجلال کی تخلیق ہیِّ شَیء‘ کہلاتی ہے، چنانچہ ہر شئے کا تفصیلی بیان قرآن کے دامن میں موجود ہے۔ اِرشاد فرمایا گیا ہے: اور (قرآن) ہر شئے کی تفصیل ہے (یوسف، 12:111)۔ ایک اور مقام پر اِرشاد ہے: ہم نے کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی (الانعام، 6:38)۔چونکہ اَزل سے ابد تک جملہ حقائق اور مَا کَانَ وَ مَا یَکْون کے جمیع علوم قرآنِ مجید میں موجود ہیں اِس لئے اِس حقیقت کو اِس انداز سے بیان کیا گیا ہے:اور نہ کوئی تر چیز ہے اور نہ کوئی خشک چیز مگر روشن کتاب میں (سب کچھ لکھ دیا گیا ہے)(الانعام، 6:59) ۔علامہ ابنِ برہان اِسی کی تائید میں فرماتے ہیں:کائنات کی کوئی شئے ایسی نہیں جس کا ذِکر یا اْس کی اصل قرآن سے ثابت نہ ہو(الاتقان، 2:126)۔ گویا قرآن میں یا تو ہر چیز کا ذکر صراحت کے ساتھ ملے گا یا اْس کی اصل ضرور موجود ہو گی۔ یہ بات لوگوں کی اپنی اپنی اِستعداد و صلاحیت، فہم و بصیرت اور قوتِ اِستنباط و اِستخراج کے پیشِ نظر کہی گئی ہے کیونکہ ہر کوئی ہر شئے کی تفصیل قرآن سے اَخذ کرنے کی اِستعداد نہیں رکھتا۔
اگر قدرت کی طرف سے کسی کو نورِ بصیرت حاصل ہو، اِنشراحِ صدر ہو چکا ہو، حجابات اْٹھ چکے ہوں اور ربّ ِذْوالجلال نے اْس کے سینے کو قرآنی معارف کا اَہل بنا دیا ہو تو اْسے ہر شئے کا تفصیلی بیان بھی نظر آتا ہے۔اِسی موقع پر اِمام سیوطی فرماتے ہیں : کائنات میں کوئی ایسی چیز نہیں جس کا اِستخراج و اِستنباط آپ قرآن سے نہ کر سکیں لیکن یہ علوم و معارف اْسی پر آشکار ہوتے ہیں جسے ربّ ِذْوالجلال خصوصی فہم سے بہرہ وَر فرما دیں۔ محقق بن سراقہ ’کتابْ الاعجاز‘ میں جامعیتِ قرآن پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں: کائنات میں کوئی شئے اَیسی نہیں جسکا ذِکر قرآن میں موجود نہ ہو(الاتقان، 2:126)۔ اِس سے یہ ثابت ہوا کہ اگر کوئی شئے قرآن میں مذکور نہ ہو تو وہ کائنات میں موجود نہیں ہو سکتی، گویا قرآن میں کسی چیز کا مذکور نہ ہونا کائنات میں اْس کے موجود نہ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ قرآن کی جامعیت کا یہ عالم ہے کہ اْس میں کسی چیز کے ذِکر یا عدم ذِکر کو کائنات میں اْس کے وْجود و عدم کی دلیل تصوّر کیا گیا ہے۔
امام بیہقیؓ ،حضرت حسنؓ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے ایک سو چار کتابیں نازل فرمائیں، جن میں کائنات کے تمام علوم و معارف بیان کر دیئے۔ پھر اْن تمام علوم کو چار کتابوں میں جمع کر دیا۔ پھر اْن میں سے پہلی تین کتابوں کے تمام معارف کو قرآنِ حکیم میں جمع فرمایا اوریوں یہ قرآن ایسی جامع کتاب قرار پائی کی ابنِ ابی الفضل فرماتے ہیں: اِس قرآن نے اوّل سے آخر تک، اِبتداء سے اِنتہا تک کائنات کے تمام علوم و معارف کو اپنے اندر اِس طرح جمع کر لیا ہے کہ فی الحقیقت خدا اور اُس کے بعد رسولﷺ کے سوا اُن علوم کا اِحاطہ نہ کوئی آج تک کر سکا اور نہ کر سکے گا۔
بشکریہ :سٹیون ہاکنگ /ترجمہ:ناظر محمود/ نظرِ ثانی:شہزاد احمد/ادریس آزاد/قرآنی علوم کی وْسعت/بن سراقہ ’کتابْ الاعجاز‘/الاتقان ,علامہ ابنِ برہان/سٹیون ہاکنگ
(A Brief History of Time), (The Grand Design), (The Conquest of Space), (Maurice Bucaille), (The Bible, the Qur’an and Science), (الاتقان ,علامہ ابنِ برہان), (بن سراقہ ’کتابْ الاعجاز‘), (’الام‘), (Stephen Hawking:Black Holes and Baby Universes and other essays, Bantam Press, U.K. 1994.), Stephen Hawking’s Univers, Avon Books, New York, 1989), (Kitty Ferguson: Stephen Hawking’s Ouest for a theory of Everythins, Bantam Press, U.K. 1992), (Michael White and john gribbin: Stephen Hawking: A life in science, Penguin Books, 1992),
( جاری ہے)