منزلیں اور بھی ہیں!۔

205

فرحت طاہر
آج صبح سے فضاسوگوار تھی اور گھر والے کربناک لمحوں سے گزر رہے تھے ۔اگر آفت اللہ کی طرف سے ہو توانسان بے بس ہوتاہے مگر خود ساختہ مصیبت پر صبر آنا مشکل ہوتا ہے ۔ شیریں آج اپنا گھر چھوڑ کر والدین کے گھر جارہی تھی ۔روئے زمین پر کوئی گھر ٹوٹے تو شیطان کے دل کی کلی کھلتی ہے اور جس چیز سے شیطان کو خوشی ملے وہاں ضرور انسانیت دم توڑتی ہے ۔
احمد علی صاحب کے دو بیٹے سہیل اور عادل تھے اکلوتی بیٹی سعدیہ جو بچپن سے ہی اپنے چچا اسد علی کے بیٹے عدنان سے منسوب تھی ۔عدنان سے بڑی عذرا آپا جبکہ چھوٹی سیما تھی اور سب سے چھوٹی ریما تو سیما سے بھی تیرہ سال چھوٹی تھی۔جب سعدیہ کی شادی ہونے لگی تو ساتھ سہیل کی دلہن لانے کا بھی خیال آیا اور نظر انتخاب سیما پر پڑی ۔یوں سیما اور سعدیہ ایک ساتھ دلہن بن کر اپنے اپنے چچا کے گھر رخصت ہوگئیں ۔دیکھنے والوں نے دیکھا کہ دونوں طرف کا پلڑا بالکل برابر ہے ۔جتنی خوبصورت سعدیہ تھی اتنی ہی دلکش سیما بھی تھی ۔ اور جتنے قابل سہیل تھے اتنے ہی عدنا ن بھی! زندگی بہت خوشگوار تھی ۔سیمااور سہیل کو اللہ نے ایک بیٹے فیصل سے نوازا تھا جبکہ سعدیہ کو یکے بعد دیگرے تین بیٹیاں دیں ۔یہاں آکر توازن کا پلڑا تھوڑا سا جھک گیا تھا اور سعدیہ ذہنی طور پر دبائو کاشکار تھی مگر پھر بھی زندگی قطعاً نارمل تھی ۔ حالات میں تغیراس وقت پیدا ہوا جب سیما ایک ہفتہ بیمار رہ کر اللہ کو پیاری ہوگئی ۔صدمہ اچانک تھا مگراللہ کی رضا پر صبرکے سوا چارہ نہیں ! گھر بری طرح درہم برہم ہو کر رہ گیا تھا ۔ سعدیہ کافی عرصے ماں باپ کے گھر رہی ، عذرا آپا او ر ریما بھی آتی رہیں مگر سیماکا خلا کسی طرح پر نہ ہو سکا ۔چھہ ماہ اسی طرح گزر گئے ۔بالآ خر سہیل کو دوسری شادی کر نا پڑی اور شیریں اس گھر میں دلہن بن کر آگئی ۔
شیریں ثمر واقعی اسم با مسمیٰ تھی ۔وہ اپنے تمام بھائی بہنوں میں آخری نمبر پر تھی اور لاڈلی ہونے کے باوجود بچپن سے ہی منفرد خصوصیات کی حامل تھی ۔کسی بچے کو سزا ملتی تو وہ اپنے آپ کو پیش کر دیتی کہ اس کے بدلے میں اس کو سزا دے دیں! اپنی چیزوں سے خوش اسلوبی سے دست بردار ہونا اس کے خمیر میں تھا ۔جوں جوں وہ بڑی ہوتی گئی اس کی عادتیں نکھرتی گئیں۔وہ کسی کو اوور ٹیک نہیں کر سکتی تھی ۔شکل تو اس کی واجبی سی تھی مگر چمکدار آنکھیں اور شفاف پیشانی اس کو ممتاز کرتی تھی کیونکہ اس ے آج تک تیوریوں پر بل نہیں ڈالے تھے ۔لوگ اسے بے وقوف سمجھتے مگر وہ فطرت پر تھی ۔امی اور بڑی بہنیں اس کی طرف سے بڑی پریشان رہا کرتی تھیں ۔بقول امی ایسی سیدھی سادی لڑکی سسرال میں کیاکرے گی ؟ واقعی سسرالی سیاست تو گمبھیر فن ہے جس سے وہ نابلد تھی بس زندگی کو عبادت سمجھ کر گزار رہی تھی ۔شیریں اور سہیل کے مشترکہ رشتہ دار جب شیریں کا رشتہ لے کر اس کے گھر آئے تو اس کی امی نے بہت برا منا یا مگر شیریں نے ان کو مجبور کیا کہ وہ اپنا انکار واپس لیں ۔وہ اپنی بیٹی کے پاگل پن سے واقف تھیں چنانچہ انہیں ہاں کہتے ہی بن پڑی ۔یوں وہ سہیل کی بیوی بن کر احمد ولا میں داخل ہوئی۔
سیما کے میکے والے تسلیم کر رہے تھے کہ سہیل کی دوسری شاد ی ناگزیر تھی۔ مگر عذرا آپا اور چچی جان کا خیال تھا کہ کسی غیر لڑ کی کے بجائے سہیل ریما سے شادی کر لیں تاکہ بچہ سوتیلی ماں کی دست برد سے محفوظ اپنی خالہ کے ہاتھوں پرورش پائے ۔ریما سے شادی کا تصور ہی اتنا مضحکہ خیز تھا کہ سوچ کر ہی سہیل شرم سے پسینے پسینے ہوجاتے! جب وہ انجینیرنگ یونیورسٹی میں داخلہ لے رہے تھے ا س وقت تو ریما شاید پیدا ہوئی تھی ۔ اور شادی کی اکثر تصویروں میں وہ بہن بہنوئی کی گود میں بیٹھی نظر آرہی تھی ۔اور بات صرف عمر کی نہیں بلکہ تعلق کی تھی۔ سہیل جب بھی اسے پکارتے منہ سے ریما بیٹے ہی نکلتا ۔حالانکہ اب وہ خاصی لمبی ہوگئی تھی اور انٹر پاس کر چکی تھی مگر اب بھی اس کو تحفہ دیتے وقت ان کو کھلونوں کی دکان میں گڑیا ہی پیک کروانے کا ہی خیال آتا ۔جہاں تک ریما اور فیصل کا تعلق تھا تو یہ ٹھیک ہے کہ وہ اسے بہت چاہتی تھی مگر اسے چھیڑ کر اور رلا کر ہی اسے مزہ آتا تھا ۔ان کے درمیان ماں بیٹے کا تعلق پید اہونا محال تھا ۔
ابھی سہیل اور ریما کی شادی پر دبائو دبے دبے لہجے میں ہی تھا کہ سہیل اور شیریں کی شادی ہوگئی ۔ان لوگوں نے اس کا بائیکاٹ کیا ۔یہ ان کا حق تھا مگر اس سے آگے بڑھ کر عذرا آپا اور چچی جان جس طرح سعدیہ کو تنگ کرنے لگیں واقعی زیادتی تھی۔ سہیل سیما کی موجودگی میں شادی کرتا تو پھر بھی کوئی بات ہوتی مگر انہوں نے سعدیہ کی زندگی اجیرن بنا دی ۔عذرا آپا اولاد کی نعمت سے محروم تھیں لہٰذا وہ اپنے مسکین سے شوہر کو گھر چھوڑ کر زیادہ تر میکے کی پالیسیاں ہی مرتب کرتی تھیں ۔ انہوں نے سیما کو بھی سسرال میں نبٹنے کے بہت سے گر سکھا ئے تھے یہ اور بات ہے کہ اس نے ان پر کبھی کان نہ دھرا تھا ورنہ ہنگامہ آرائی بہت پہلے شروع ہو چکی ہوتی۔۔۔۔۔
یہ تھے وہ حالات جن میں شیریں نے اس گھر میں قدم رکھا ۔اپنے مزاج کے باعث وہ بہت جلد پورے گھر پر چھا گئی ۔سہیل کی بات دوسری تھی مگر فیصل نے بھی جس طرح شیریں کی محبت کے جواب میں اس کو اپنی ماںکے روپ میں قبول کیا حیران کن تھا ۔ شاید اس کے لا شعور میں کہیں ماں سے جدائی کی محرومی چھپی ہوئی تھی لہذا وہ شیریں سے ایک منٹ کو جدا ہونے کو تیار نہ تھا ۔حالانکہ عذرا آپا اسے دن رات سمجھا تیں کہ وہ تمہاری ماں نہیں ہے مگر وہ ان کے سامنے ہی شیریں سے اتنی محبت کا اظہار کرتا کہ وہ اپنے تمام سمجھانے پر پانی پھرتے دیکھ کر غصے سے آگ بگولا ہو جاتیں ۔اگر چہ باقی لوگ اور رشتے اسی طرح قائم تھے مگر بچہ شاید اپنی ماں کے بغیر اپنے آپ کو ادھورا سمجھتا ہے ۔اب عذرا آپا اور سیما کے گھر والوں کو تو خوش ہونا چاہیے تھا کہ بچہ محبت کر نے والی ماں کے ہاتھوں میں ہے مگر انہوں نے اس طرح دخل اندازی کی پالیسی اپنائی کہ سہیل اکثر غصہ کر نے پر مجبور ہوجاتے اور شیریں ان کو ٹھنڈا کرتی کہ یہ سب فطری ہے ! مگر عذرا آپا کے بجائے سعدیہ کا رویہ اس کے لیے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ۔اس نے ایک لمحے کو بھی شیریں کو اپنے برابر نہ جانا ۔کچھ تو وہ اپنی مغرور ضدی طبیعت سے مجبور تھی اور کچھ وہ اپنی ساس نند کے طنز بھرے سلوک کا بدلہ شیریں سے اتار کر اپنی تسکین کرتی ۔جس دن سعدیہ آتی گھر کا سکون درہم برہم ہوجاتا اور شیریں بھی دل میں سہم کر رہ جاتی ۔
شروع شروع میں اس نے شیریں کی شکل و صورت کا مذاق اڑایا ۔فیصل کو حتی الامکان شیریں سے دور رکھنے کی کو شش کی ۔ مگر جب اس طرح خاطر خواہ کامیابی نہ ہوئی تو اس نے شیریں کے ہر فعل کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کردیا ۔حالانکہ شیریں اپنی طبیعت سے مجبور معذرت خواہانہ رویہ رکھتی مگر سعدیہ کی تیوریوں کے بل سیدھے نہ ہوتے ۔شیریں کے لیے سب سے تکلیف دہ لمحہ یہ ہوتا کہ جب سعدیہ کی الٹی سیدھی باتوں کے جواب میں عادل یا امی جان شیریں کی وکالت کرتے اور اس بات پر وہ آپس میں الجھ جاتے ۔سعدیہ رونے بیٹھ جاتی اور شیریں اپنے آپ کو مجرم سمجھنے لگتی کہ اس کی وجہ سے گھر والے آپس میں الجھ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔
اس دن سعدیہ دوپہر میں اپنی بچیوں کے ہمراہ گھر میں داخل ہوئی تو شیریں فیصل کو اسکول لینے جارہی تھی ۔اس نے ہنگامے سے بچنے کے لیے پیش قدمی کرنے کا فیصلہ کیا ۔ راستے میں بازار پڑتا تھا ۔اس نے ڈرائیور سے گاڑی روکنے کو کہا اور فیصل سے بولی
’’ ۔۔۔آپ کی پھپھو اور بہنیں آئی ہیں ۔ان کے لیے تحفہ لے لیں ۔۔۔۔۔‘‘
سعدیہ سے تعلقات بہتر کرنے کے علاوہ فیصل کی تر بیت کا پہلو بھی تھا ۔ گاڑی رکتے ہی فیصل جلدی جلدی سیڑھیاں چڑھتے گھر میں داخل ہوا اور خوشی سے بولا
’’ پھپھو ! سارا! زارا ! میں آپ سب کے لیے تحفے لایا ہوں ۔۔۔۔‘‘ تحفے کے لفظ میں بڑی کشش ہے ! سعدیہ اور اس کی بچیاں ڈائننگ ٹیبل کے گرد جمع ہوگئیں جہاں فیصل شاپنگ بیگ کھول رہا تھا اور پھر اس نے میز پر تمام چیزیں پلٹ دیں ۔
چھوٹی موٹی جیولری اس نے بچیوں کو پکڑائی اور ایک چمکدار کلپ اٹھا کر بولا ، ’’ پھپھو ! یہ آپ کے لیے ہے !‘‘
سعدیہ تیوریوں پر بل ڈال کر اپنے ریشمی بالوںکو ایک ادا سے جھٹکتے ہوئے بولی ’’ میں اس کا کیا کروں گی ؟ ‘‘ تحفہ تو تحفہ ہوتاہے اور کلپ تو تراشیدہ بالوں میں بھی لگ سکتا ہے مگر شاید وہ شیریں کی مصالحانہ کوشش کو بھانپ چکی تھی ۔ اس صورت حال پر فیصل نے استفہامیہ نظروں سے شیریں کو دیکھا جس کا رنگ پھیکا پڑ گیا تھا مگر سنبھل کر بولی:
’’ اور چلو پھپھو کا تحفہ ادھار رہا ! یہ میں لے لیتی ہوں۔۔‘‘ عادل اس موقع پر اس کی مدد کو آیا
’’ لائیں بھابھی یہ مجھے دے دیں ۔۔۔۔۔۔!‘‘
’’ تم کیاکرو گے ؟ ‘‘
’’ میں اسے اپنی دلہن کے لیے رکھ دوں گا ! ‘‘ اس بے چارے نے ماحول بدلنے کے لیے کہا اور شیریں ہنس پڑی
’’۔۔۔اور اگرا س کے بھی کام کا نہ ہوا تو؟ ‘‘
’’ ۔۔ہر گز نہیں ! مجھے کٹے بالوں والی لڑکی نہیں چاہیے ۔۔‘‘ موضوع تبدیل ہونے سے ماحول کا تنائو دور ہونے لگا مگر سعدیہ نے اپنی انسلٹ سمجھا اور عادل سے لڑنا شروع کر دیا ۔ویسے تو دونوں اوپر تلے ہونے کے باعث بچپن سے ہی لڑتے آئے تھے مگر اب تو لڑائی کا رنگ دوسرا تھا ۔
’’ تم ہمیشہ اس کے مقابلے میںمیری مخالفت کرتے ہو ۔۔۔!
’’ ظاہر ہے میرا نام عادل ہے ۔جو بات کروں گا عدل کی ہوگی چاہے تمہیں بری لگے ۔۔۔‘‘
’’ ہوں ! بڑا آیا عدل والا !! یہ سلوک ہوتا ہے میرے ساتھ یہاں ! ‘‘ سعدیہ نے زور زور سے چلانا شروع کردیا اور شیریں مجرم بن کر رہ گئی۔ بچے چونکہ معصوم ہوتے ہیں لہذا تحفے میں مگن تھے اس صورت حال پر سہم کر رہ گئے ۔
اسی وقت سہیل گھر میں داخل ہوئے ۔یہ نقشہ ان کے لیے بالکل نیا تھا کیونکہ ان کے سامنے کبھی کوئی جھگڑا نہیں ہوا تھا ۔اور وہ سمجھ رہے تھے کہ شیریں نے پورے گھر کو موہ لیا ہے ۔ سعدیہ سہیل بھائی سے شکایت کر نے لگی ۔سہیل نے سوالیہ نظروں سے شیریں اور عادل کو دیکھا ۔عادل نے مناسب الفاظ میں سعدیہ کی زیادتی بلکہ پچھلی تمام زیادتیوں کا بھانڈا پھوڑ دیا ۔ان کے حیرت زدہ ہوکر تمام باتیں سننے نے ظاہر کر دیاکہ شیریں نے آج تک تمام ہنگاموں سے سہیل کو بے خبر رکھا ہے ۔یہ بات سعدیہ کے گمان سے باہر تھی کہ کوئی عورت اپنے شوہر کے سامنے سسرالیوں کی زیادتیوں کا ذکر نہ کرے ؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ شیریں نے سہیل کو تمام جھگڑوں سے لاعلم رکھا ہے ؟ مگر حقیقت یہ ہی تھی لہذا سہیل کا بھونچکا ہونالازمی تھا ۔انہوں نے سعدیہ اور عادل کو ٹھنڈا کیا اور شیریں سے کھانا لگا نے کو کہا ۔
کھانے کے دوران اور اس کے بعد اس موضوع پر کوئی بات نہ ہوئی ۔بچے بھی ہنسی خوشی کھیل میں مصروف ہوگئے مگر سہیل کے دل میں پھانس سی چبھ گئی ’’ کیا گھر کا امن اسی طرح بر باد رہے گا ؟‘‘ ان کو شیریں بھی برابر کی قصور وار نظر آرہی تھی ورنہ اس طرح نہ چھپاتی ! شیریں کی بد قسمتی کہ اس کی نیکی بھی اس کو مجرم گرداننے کاسبب بن رہی تھی۔ مگر دل تھا کہ برابر شیریں کی صفائی پیش کر رہاتھا
’’اتنی صلح جو اور کھلے ذہن کی شیریں سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی ! مگر ہوبھی سکتا ہے آخر یہ رشتہ بھی تو بہت نازک ہوتا ہے ! ‘‘ امی جان سہیل کو کشمکش میں مبتلا دیکھ رہی تھیں اور ان کا دل دکھ رہا تھا ۔شام کو جیسے ہی عدنان نے گاڑٰ ی کا ہارن دیا اور سعدیہ بچیوں کی انگلی تھا مے ان کو خدا حافظ کہہ کر اپنے گھر روانہ ہوئی وہ سہیل کے قریب آ بیٹھیں جو لائو نج میں بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے ۔انہوں نے نپے تلے انداز میں سعدیہ کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے شیریں کی وکالت کی ۔یہ شیریں کے کردار کی عظمت تھی کہ اس کی ساس تک بیٹی کے مقابلے میں اس کی حمایت کر رہی تھیں ۔سہیل کے دل و دماغ کی کشمکش نے شیریں کے کے وجود کو ذرا سا دھندلا دیا تھا مگر اس وقت امی جان کی باتوں کی روشنی میں وہ پھر شفاف ہوکر نکھر گئی تھی ۔
’’ ۔۔مگر امی سعدیہ کو کیا ہو گیا ہے ؟سیما سے تو وہ ایسے نہ لڑتی تھی ؟ ‘‘ بالآ خر وہ کہہ اٹھے
’’ بیٹا وہ تو برابر کی ٹکر تھی نا ! صورت شکل ، مزاج، رشتہ ،عمر ہر چیز میں برابر تھی ۔شیریں چونکہ گردن جھکالیتی ہے لہذا سعدیہ اس پر حاوی ہوجاتی ہے ۔ذرا نہیں سوچتی کہ کس طرح اس نے گھر کو سنبھالا ہے۔ حالانکہ عمر میں برابر ہی ہے مگر کتنی ذمہ دار اور منظم ہے ! تم کو ،فیصل کو ،مجھ بوڑھی ہڈیوں کو کتنا آرام اس نے دیا ہے ۔۔۔اللہ خوش رکھے ۔۔۔! ‘‘ امی جان ہاتھ پھیلا کر دعائیں مانگ رہی تھیں اور سہیل بھی سوچ رہے تھے کہ واقعی گھر میں جتنا سلیقہ، انتظام ،سکھ چین اور خوشگوار ماحول اب ہے سیماکے زمانے میںناپید تھا ۔اگرچہ وہ دمکتاہوا حسن تھی اور بظاہر شر و فساد سے بھی دور تھی ۔
’’ لیکن بیٹا ! سعدیہ بھی تو مجبور ہے ۔اسے وہاں کتنی بد سلوکی کا سامنا ہے ۔بس یہاں آتی ہے تو اپنے دل کی بھڑاس نکال لیتی ہے ۔۔۔‘‘
امی جان آخر ماں تھیں ،بیٹی کا بھی دفاع کرنا شروع کر دیا ۔
’’ مگر امی ! ۔۔۔یہ تو کوئی طریقہ نہیں ہے کہ کسی کا بدلہ کسی سے لیا جائے ؟ ‘‘
’’ ہاں بیٹے ! میں تو خود سعدیہ کو سمجھاتی ہوں مگر وہ بھی کیا کرے ؟ ‘‘
’’ یہ اچھی مجبوری ہے کہ اپنی جیسی عورت کو دکھ دے کر ہی دور ہوتی ہے ۔۔۔! ‘‘ سہیل فکر مندی سے سوچ رہے تھے ۔
(جاری ہے)