عوام مائنس ون فارمولا کامیاب نہیں ہونے دینگے،نواز شریف

557

سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ عوام مائنس ون فارمولا کامیاب نہیں ہونے دیں گے،احتساب کے نام پر انتقام لیا جا رہا ہے،مجھے صرف اس وجہ سے نکالا گیا کیونکہ بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہیں لی۔

کوئٹہ میں جلسہ عام سے خطاب کر تے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ محمود خان اچکزئی، سردار ثناء اللہ زہری اور عزیز بھائیوسب کو سلام پیش کرتا ہوں، میں نے شیشہ ہٹوا دیا ہے تا کہ میں آپ کو اور آپ مجھے دیکھ سکیں، شیشہ رکاوٹ تھی،میں نے کہا میری سیکیورٹی اللہ کے ہاتھ میں ہے، میرا اور عوام کا مضبوط تعلق ہے، ہم سب ایک ہیں اور ایک رہیں گے،محمود خان اچکزئی، نواز شریف سب ایک ہیں،محمود اچکزئی کے ساتھ میرا نظریاتی تعلق ہے، نظریہ مجھے ہمیشہ عزیز رہا ہے جس کو کبھی نہیں چھوڑوں گا، میری سیاست اسی نظریے پر چلے گی، خان عبدالصمد خان اچکزئی نے نظریے کی جنگ لڑی، برصغیر کے عظیم سپوت تھے، انہوں نے جام شہادت نوش کیا اور 24سال جیل میں صرف ایک نظریے کیلئے گزارے۔

 سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ہم آئین اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائیں گے، یہ میرا وعدہ ہے، کوئٹہ آ کے مجھے خوشی ہوئی ہے، یہاں کے لوگوں کی محبت اور بہادری کا میں قائل ہوں،آپ پاکستان کے اصل رکھوالے ہیں،انہوں نے کہا کہ  بلوچستان کے لوگ سچے اور کھرے لوگ ہیں، ہر امتحان میں پورے اترے ہیں، ان لوگوں نے پاکستان کا پرچم جھکنے نہیں دیا، نواز شریف کو آپ پر فخر ہے، آپ نے نفرتوں کی آگ بڑھانے والوں کا مقابلہ کیا اور دہشت گردی کا مقابلہ کیا، میں آپ کو سلام پیش کرتا ہوں، انہوں نے کہا کہ چار سال میں جتنی ترقی بلوچستان میں ہوئی اس کی مثال نہیں ملتی، چار سال پہلے یہاں کوئی ترقی نہیں تھی۔

نواز شریف نے کہا کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی صحیح طرح قائم ہو گی تو ترقی مہینوں میں ہو گی،2013 میں جب حکومت سنبھالی تو لوڈشیڈنگ تھی، فیکٹریاں بند تھیں، ٹیوب ویل بند تھے اور اندھیرے تھے، کسی نے ان سے پوچھا جنہوں نے اندھیرے لائے ملک میں؟ٹی وی دیکھیں چار سال پہلے ہر طرف احتجاج ہوتے تھے، کبھی اس کا حساب بھی لو، میرا حساب تو لیتے ہو،

انہوں نے کہا کہ احتساب کے نام پر مجھ سے انتقام لیا گیا، کیا کسی اور سے بھی پوچھا، چار سال میں ایک پیسے کی بھی کرپشن سامنے نہیں آئی تو اس بات پہ نکال دیا کہ اس نے اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہیں لی،اس لئے میں صادق اور امین نہیں،یہ بھی کوئی فیصلہ تھا وزیراعظم کو نکالنے کیلئے۔

انہوں نے کہا کہ صادق اور امین کا فیصلہ انہوں نے دیا جو ڈکٹیٹروں کو حلف دیتے رہے اور جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھائےوہ مجھے کہہ رہے ہیں کہ تم صادق اور امین نہیں ہو کوئٹہ کے عوام بھی فیصلہ منظور نہیں کررہے، پہلے ایبٹ آباد والوں نے فیصلہ دیا ،آج کوئٹہ کے عوام فیصلہ سنا رہے ہیں کہ نواز شریف کی بے دخلی منظور نہیں، کیا ملک کیلئے آپ نے فیصلہ کیا، چھ ہیرے چن کے تلاش کئے اور اس طرح ایک بینچ نے بار بار فیصلے کئے،ملکی تاریخ میں پہلی بارایسا ہوا، اس کے باوجود ایک پیسے کی کرپشن کا الزام بھی نہیں ہے، نواز شریف نے کرپشن نہیں کی، اگر فیصلہ دیتے تو یہ دیتے کہ نواز شریف نے ایک ہزار روپے سرکاری کھایا تو میں تسلیم کرتا، جب پیشہ نہیں کھایا تو تم کیسے بے دخل کر سکتے ہو؟۔

نواز شریف نے کہا کہ مائنس ون کیلئے جب کوئی بہانہ نہیں ملا تو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر وزیراعظم کو نا اہل کر دیا، ملک ہمیشہ اسی طرح کے فیصلوں سے برباد ہوتے ہیں اور انتشار پھیلتا ہے، مائنس ون کا جو سلسلہ چلانا چاہیے وہ کیسے مائنس ہو گا جسے عوام پلس کر دیں اسے کوئی نہیں مانے گا،عوام 2018 میں فیصلہ سنائے گی اور عوام ہمیں سرخرو کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ عوام وزیراعظم کو ووٹ دیں اور پانچ لوگ اس وزیراعظم کو فارغ کر دیں یہ منظور نہیں،70سال سے مائنس اور پلس کے گیم کھیلے جاتے رہے، عوام کے فیصلے کو کسی کو تبدیل نہیں کرنا چاہیے، تمام عوام ووٹ کی حکمرانی کیلئے ساتھ ہوں گے اور مل کر مارچ کریں گے، آپ نے ووٹ کے تقدس کیلئے ہمارا ساتھ دینا ہو گا تا کہ 70سالہ پرانی تاریخ دہرائی نہ جائے، عوام ساتھ ہوں تو پھر سب ٹھیک ہے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ خیبرپختون خوا نیا پاکستان کیا بنتا وہ تو پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوگیا،جو نیا پاکستان بن رہا ہے، کرکٹر لاہور میں بننے والی میٹرو بس کو جنگلہ بس کہتا تھا، مگر اب خود پشاور میں میٹرو بس بنارہا ہے جو 4 سال سے مکمل نہیں ہوئی، جبکہ شہباز شریف نے لاہور، ملتان، راولپنڈی میں میٹرو بنادی،ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اگر موقع ملا تو کوئٹہ میں میٹرو بس بنائیں گے۔نواز شریف نے کہا کہپاکستان کی عوام ہمارے ساتھ ہے اور 2018 میں ناچنے گانے والے فارغ ہو جائیں گے۔