مٹاپا … ایک عذاب

357

مظہر حسنین

جب 3 آدمیوں کی گنجائش والی لفٹ میں آپ کو داخل ہوتا دیکھ کر آواز آئے کہ ’جگہ نہیں ہے‘ یا بس کے مسافر آپ کو نشست سنبھالتا دیکھ کر سلامتی کی دعائیں مانگنے لگیں، یا آپ کے کپڑے الماری میں لٹکے لٹکے سکڑ جائیں، یا ٹیکسی والا آپ کو بٹھانے سے پہلے کئی بار سوچے، یا آپ جب وزن بتانے والی مشین پر اپنا وزن کرنے کے لیے کھڑے ہوں اور اس کی سوئی رحم رحم پکارنے لگے تو آپ سمجھ جائیے کہ آپ موٹے ہو گئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا کی 10 فیصد آبادی مٹاپے کا شکار ہے۔ مٹاپے کی ابتدا عموماً بچپن سے ہی ہو جاتی ہے۔ مائیں اپنے بچوں کو ہر وقت کچھ نہ کچھ کھلانے کی فکر میں لگی رہتی ہیں اور اپنے گول مٹول سے بچے کو صحت مند و تندرست سمجھتی ہیں۔ ایک معیاری پیمانے کے مطابق ایک سال کے بچے کا وزن اگر 10 کلو گرام سے زیادہ ہو تو غذائی احتیاط شروع کر دینی چاہیے۔ موٹے لوگ کھانے کے بڑے شوقین ہوتے ہیں۔ جی بھر کر کھاتے ہیں۔ لہٰذا جب انہیں سمجھانے کے لیے دل میں یہ جذبہ پیدا کرنا ہوگا کہ مٹاپا بڑی نقصان دہ چیز ہے اس سے ہائی بلڈ پریشر، ہارٹ اٹیک، ذیابیطس، پتے کی تکالیف، جوڑوں کا درد لاحق ہو جاتا ہے تو وہ شاید علاج کی کوشش کریں۔ وزن کم کرنے کے لیے پہلے ان باتوں کا خیال رکھیں۔ وزن کم کرنے کی مہم میں ایک بات جو بڑی اہم اور ضروری ہے وہ ارادہ ہے۔ وزن گھٹانے کی کوشش کرتے ہوئے دل میں یہ جذبہ موجزن ہونا چاہیے کہ وزن کم کرنا ہے اور ہر صورت میں اسے کم کر کے رہیں گے۔ دنیا میں کچھ بھی نا ممکن نہیں لیکن یقین کے ساتھ کوشش کرنا ضروری ہے۔ اس یقین میں جادو ہے۔ یہ بات یاد رکھیے کہ اگر یقین محکم ہے اور اپنی کوششوں پر پورا اعتماد ہے تو کامیابی یقینی ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھیں کہ کامیابی یکدم نہیں آہستہ آہستہ حاصل ہوتی ہے۔ یقین رکھیے کہ آپ کی کوشش ایک نہ ایک دن رنگ لائے گی۔ کھانا، سونا اور دیگر خواہشات کو جتنا بڑھایا جائے یہ اتنا ہی بڑھتی ہیں اور قابو پانے پر گھٹتی ہیں۔ خواہشات پر قابو پانا اس کا علاج ہے۔ اگر آپ 2 چپاتی سے آسودہ ہو سکتے ہیں تو تعداد میں اضافہ نہ کیجیے۔ کیونکہ 3 چپاتی سے جلد ہی یہ تعداد 4 اور پھر 5 ہو جائے گی۔ مٹاپے کی وجہ سے اس سے پیشتر کہ زندگی اختتام کو پہنچے، جسمانی مشینری کے بیشتر اعضا متاثر ہوتے ہیں اور ان میں دل سب سے پہلے اور زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ دل اگر تندرست ہو اور آدمی معیاری وزن اور اچھی خوراک کا مالک ہو تو اس وقت دل کی دھڑکنوں کا شمار دن میں 4 کروڑ ہوتا ہے جب کہ ہر 500 گرام وزن کی خاطر دل کو ڈیڑھ کلو میٹر لمبی فالتو شریانوں میں خون پہنچانا پڑتا ہے تاکہ دور افتادہ حصوں کو بھی خون کی خوراک مہیا ہو سکے۔ اگر وزن معیاری وزن سے زیادہ ہو تو دل کو زیادہ کام کرنا پڑے گا۔ اگر دل کی دھڑکن میں ایک منٹ میں صرف 20 ہو تو دن میں اس کی دھڑکنوں میں 30000 دھڑکنوں کا اضافہ ہوگا اور اس شمار کے مطابق ایک سال میں 107دن کے برابر زیادہ کام کرنا پڑے گا اور دل کے آرام کا وقفہ کم ہو جائے گا جو اس کی صحت کے لیے مضر ہے۔ اس سے نہ صر ف دل پہ کام کا بوجھ پڑے گا بلکہ زیادہ چکنائی کی وجہ سے دل کی شریانوں میں سختی پیدا ہوگی اور شریانوں کی اندرونی جگہ کھردری اور تنگ ہو جائے گی۔ شریانوں میں سختی کی وجہ سے دوران خون متاثر ہوتا ہے اور کئی دفع شریانوں میں انجماد خون کا بھی دورہ پڑ جاتا ہے جس کی وجہ سے دل کے ایک مخصوص حصہ کو خون نہیں پہنچ پاتا اور وہ حصہ بظاہر مردہ ہوجاتا ہے۔ یہ سب مٹاپے کی بدولت ہوتا ہے۔ دل میں درد کی شکایت جو کہ طبی اصطلاح میں انجائنا کہلاتی ہے، یہ بھی اس وجہ سے لاحق ہوتی ہے کہ جب دل پر اس کی طاقت سے زیادہ کام کا بوجھ پڑ جائے۔ ورزش کے بعد اور بہت زیادہ کھانا کھانے کے بعد دل کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔ وزن میں کمی کی وجہ سے دل پر سے کام کا بوجھ ہلکا ہوگا جس سے انجائنا کی شرح میں کمی واقع ہوگی اور بلڈ پریشر بھی نہیں بڑھے گا۔ اس کے ساتھ فالج کے دورے کے امکانات بھی کم ہو جائیں گے۔ موٹے افراد کو ہمیشہ سانس پھولنے کی شکایت رہتی ہے۔ یہاں تک کہ معمولی ورزش کرنے کی وجہ سے بھی ان کا سانس پھول جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص بہت مٹا ہو تو آرام کی حالت میں بھی اسے سانس کی تکلیف رہتی ہے۔ مٹاپے کا ایک نقصان یہ ہے کہ نظام ہضم در ہم بر ہم ہوجاتا ہے کیونکہ زیادہ کام کرنا پڑتا ہے جس سے اکثر بد ہضمی کی شکایت رہتی ہے۔ مٹاپے کے باعث ذیابیطس میں مبتلا ہونے کے بہت زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ موٹے افراد عام طور پر پیروں میں درد کی بھی شکایت کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیر کے نیچے دو محرابیں ہوتی ہیں ایک لمبائی کے رخ اور دوسرا پیر کی چوڑائی کے رخ میں۔ ان محرابوں کی وجہ سے جسم کا وزن پیروں پر برابر بٹ جاتا ہے لیکن اگر یہ محراب خراب ہو جائے اور ایک حالت جو کہ چپٹے پیر کہلاتی ہے، ہوجائے تو وزن برابر بٹنے کے بجائے پیر کی جگہ ٹخنوں اور چھوٹی ہڈیوں پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موٹے آدمی پیروں میں درد محسوس کرتے ہیں۔ پیروں کے درد کے ساتھ موٹے آدمیوں کے ٹخنوں پر عام طور پر ورم آجاتا ہے۔ زیادہ موٹی عورتیں عام طور پر بانجھ رہتی ہیں۔ اگر وہ اپنا وزن کم کر لیں تو ان میں حمل کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ملک میں موسم گرما میں مٹاپا و بال جان بن جاتا ہے۔ موٹے لوگوں میں سر سام کے امکانات دبلے پتلے لوگوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ درمیانی عمر کی ایک موٹی عورت اگر وزن کم کرنا چاہتی ہو تو اس کو صرف 1000 کیلو ریز والی خوراک حاصل کرنی چاہیے۔ مٹاپے سے نجات پانے اور اس کے اثرات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ خوراک میں پروٹین کا استعمال زیادہ ہو۔ غذا میں پروٹین کی موجودگی سے جسم کی حرارت و قوت کے استعمال میں تیزی آجاتی ہے جس کی وجہ سے قوت کا زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ تھوڑی سی کوشش اور دھیان سے آپ اپنی خوراک میں ان چیزوں کا شمار کر سکتے ہیں جو کہ لذیذ بھی ہوں اور ان میں کیلوری کی مقدار بھی کم ہو۔ مٹھائی، خشک میوہ، کیک، پیسٹری، بریانی، حلوہ، پڈنگ اور دیگر میٹھی اشیا سے پرہیز کریں۔ خوراک پر کنٹرول کے دوران ورزش جاری رکھنی چاہیے اور ورزش میں آہستہ آہستہ روز بروز اضافہ کرنا چاہیے۔ جس سے نہ صرف وزن میں کمی ہوگی بلکہ جتنا وزن کم کیا جائے گا اسے قائم بھی رکھا جا سکے گا۔ دیگر امراض کو تو دوائوں کے ذریعے علاج ممکن ہے مگر مٹاپے کا علاج دوائوں کے ذریعے اتنا کارگر ثابت نہیں ہوا۔ مٹاپے کو کم کرنے کے لیے عادات میں نظم و ضبط خصوصاً خوراک پر کنٹرول کرنا لازمی ہے اور یہ آدمی کو خود کرنا پڑتا ہے۔
ورزش: ورزش ہمارے اس مضمون کا نہایت اہم باب ہے۔ جس طرح زندہ رہنے کے لیے غذا کی ضرورت ہوتی ہے بالکل اسی طرح اچھی صحت کے لیے مناسب ورزش اشد ضروری ہے۔ اچھی صحت کی راہ پر چلتے ہوئے جب آپ نے غذائی معاملات کو درست کر لیا تو یہ آپ کئی برس کے کام کو سیٹ کر کے مہینوں میں لے آئے گی۔ کوئی بھی ورزش شروع کرنے سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ ضرور کر لیجیے اور یاد رکھیے پیدل چلنا بہترین ورزش ہے۔ اس سے نہ صرف یہ کہ کھایا پیا اچھی طرح ہضم ہوجاتا ہے بلکہ وزن قابومیں رہتا ہے۔ اگر آپ ورزش نہیں کرتے اور محض غذائی احتیاط سے وزن گھٹانے کی فکر میں ہیں تو اس کے نتیجے میں آپ بے شک جسم تو گھٹا لیں گے لیکن لٹکا لٹکا گوشت، بے جان جسم، چہرے پر وقت سے پہلے جھریاں آپ کا مقدر بن جائیں گی۔ گویا ایسا غبارہ جس میں سے ہوا نکل گئی ہو۔ بکہ ہلکی پھلکی 15 منٹ، آدھ گھنٹہ روز کی چہل قدمی آپ کے کم ہوتے ہوئے عضلات کو بر قرار رکھے گی۔ ورزش کون سی مناسب ہے؟ اس سلسلے میں کوئی ایک ہدایت سب کو نہیں دی جا سکتی البتہ کچھ اصول و قوانیں مسلم ہیں۔ ان کو ذہن میں رکھ کر ہی کسی ورزش کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔ سب سے پہلے تو آپ کو اپنے معالج سے ورزش کی اجازت لینی ہوگی۔ یہ آپ کا معالج ہی جانتا ہے کس قدر ورزش آپ کے لیے موزوں ہوگی۔ پھر اس ورزش کا انتخاب کریں جس کو ساری عمر کے لیے قائم و جاری رکھاجاسکتا ہے۔ کیونکہ ماضی میں کی گئی ورزش جو 20 منٹ سے دورانیہ یا ہفتے میں کم از کم 4 بار نہ کی جائے عملاً کچھ فائدہ نہیں رکھتی ہے۔ پھر یہ بھی نہایت ضروری ہے کہ آپ ورزش کے بعد خود کو ترو تازہ محسوس کریں۔ اگر آپ خود کو تھکا تھکا محسوس کرتے ہیں تو ورزش کی نوعیت یا دورانیہ کم کرنا ہوگا۔ بہر کیف پیدل چلنا ہی بہتریں ورزش ہے اور اس کو عمر بھر کے لیے جاری رکھنا بھی کچھ مشکل کام نہیں۔
باڈی بلڈنگ اور وزن کم کرنے میں فرق رکھیے:
ہم نے اکثر پر جوش نوجوانوں کو ان دنوں کیفیات کو گڈ مڈ کرتے دیکھا ہے۔ کبھی کبھی تو وہ کھانا پینا کم کرکے اپنا وزن گھٹانا شروع کر دیتے ہیں اور کبھی کبھی فلمی ہیرو جیسا جسم بنانے کے لیے ہیلتھ کلب میں سخت ورزشیں شروع کر دیتے ہیں جو کہ لائن ہی دوسری ہے اور تن سازی (باڈی بلڈنگ) کے ضمن میں آجاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے تو اضافی پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا بہتر ہے کہ پہلے اپنی سمت کا تعین کریں۔ اگر آپ صرف خود کو فٹ رکھنے تک ہی محدود رکھنا چاہتے ہیں تو سخت ورزش نا موزوں ہے کیونکہ ان ورزشوں کے بعد آپ کو بہت بھوک لگے گی اور یوں کھانے سے ہاتھ کھینچنا محال ہو جائے گا۔
وزن گھٹانے والی دوائیں: کوئی اخبار یا رسالہ اٹھا کر دیکھ لیجیے آپ کو وزن گھٹانے والی کسی نہ کسی دوا کا اشتہار ضرور نظر آئے گا۔ ان میں اکثر دوائیں مہلک اثرات بھی رکھتی ہیں اور ان کا طریقہ بھی صرف بھوک کے احساس کو زائل کر دینا ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ان کے استعمال سے آپ کا وزن واقعی کچھ کم ہو جائے لیکن ان کے ضمنی اثرات سے بچنا ممکن نہیں۔
وزن کم کرنے کے لیے چند نسخے اور گھریلو ٹوٹکے درج ذیل ہیں:
٭ …صبح و شام ایک لیموں ایک گلاس پانی میں نچوڑ کر استعمال کریں۔
٭…. ایک گلاس نیم گرم پانی میں ایک چمچ شہد گھول کر استعمال کریں۔
٭… آج کل سلمنگ سینٹر میں وزن کم کرنے کے لیے سیکڑوں روپے کے بدلے میں جو سفید پائوڈر دیا جاتا ہے وہ در حقیقت پسی ہوئی اسپغول کی بھوسی ہوتی ہے۔ 2 چمچ اسپغول کی بھوسی صبح و شام آپ بھی استعمال کریں۔
٭… مرغن غذا سے پرہیز کریں۔
توند کی اصلاح کیجیے: بڑھا ہوا پیٹ ایک مصیبت اور عذاب سے کم نہیں ہوتا۔ موٹے آدمی کے لیے چلنا پھرنا دو بھر ہوجاتا ہے۔ دس بیس قدم چلنے پر ہی سانس پھول جاتی ہے۔ توند صحت مندی کا نشان نہیں۔ اسے ایک طرح کی بیماری ہی تصور کرنا چاہیے۔ بیماری بھی ایسی جو خوبصورتی اور توانائی کی دشمن ہے۔ جن لوگوں کی توند حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے اور ہاتھ پائوں پتلے رہ جاتے ہیں وہ اچھے خاصے مریض لگتے ہیں۔ عام طور پر پیٹ غیر معمولی طور پر 30، 40 سال کی عمر کے بعد ہی بڑھا کرتا ہے اس سے قبل صرف ان لوگوں کی توند بڑھتی ہے جو مٹاپے کی راہ پر چل پڑتے ہیں اور بیٹھے رہنے کے خوگر ہوتے ہیں یا جنہیں اپنے کاروبار کے سلسلے میں مجبوراً بیٹھنا پڑتا ہے۔ چکنی اور میٹھی چیزوں کی کثرت سے بھی توند نکل آتی ہے۔ خوب پیٹ بھر کر کام میں مشغول ہو جانا اور ورزش کی طرف سے غفلت برتنا پیٹ بڑھنے کا بہت اہم سبب ہے۔ بعض لوگ کھانا کھاتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ انہیں کس مقدار میں غذا کھانی چاہیے۔ اس طرح کچھ بھی کھانے کا انجام یہ ہوتا کہ معدہ قدرتی طور پر درد ناک ہو کر پھولتا ہے اور چونکہ خوب بھرا ہوا ہوتا ہے اس لیے غذا کو اچھی طرح سمیٹ نہیں سکتا۔ معدے میں وہ غدود جو ہاضم رطوبت پیدا کرتے ہیں، زیادہ غذا کی وجہ سے مسدود ہو کر اپنا کام بند کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور کھائی ہوئی غذا معدے پر نا گوار بوجھ بن جاتی ہے۔ معدہ اس بوجھ کو 22 سے 23 فٹ لمبی نالی میں دھکیل دیتا ہے۔ اس جد و جہد میں اس کی کافی قوت صرف ہو جاتی ہے اور غذا کو ہضم کرنے کے سلسلے میں اس کی قوت کمزور پڑ جاتی ہے۔ اگر بسیار خوری کی یہ عادت جاری رہی تو آنتوں میں سختی پیدا ہو جائے گی اور آنتوں میں سے غذا باآسانی گزر نہیں سکے گی۔ غذا کے زیادہ ٹھہر نے اور جگہ جگہ رُکنے سے اس میں سڑاند پیدا ہو جاتی ہے جس کی خرابی پورے پیٹ میں پھیل جاتی ہے اور پیٹ بڑھ جاتا ہے پھر بڑھتے بڑھتے وہ توند کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ آدمی سست اور کاہل ہو جاتا ہے اور پیٹ کی گونا گوں بیماریاں گھیر لیتی ہیں۔ توند کی مصیبت کا ازالہ صرف دوا سے نہیں ہو سکتا اس کے لیے بڑے جتن کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پہلی بات تو یہ ذہن نشیں کر لیجیے کہ کھانے کے بعد کم ازکم ایک گھنٹے تک پانی نہیں پینا چاہیے۔ دوسری تدا بیر کے سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ غذا میں کمی کر دی جائے اور پرخوری کی عادت ترک کر دینی چاہیے۔ یہ بات ہمیشہ یاد رکھیے کہ غذا کی کمی سے اتنا نقصان نہیں پہنچتا جتنا پرخوری سے پہنچتا ہے۔ توند کی اصلاح کے لیے لیموں اور شہد کا استعمال مفید ہے۔ اسپغول کی بھوسی بھی آپ کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
(بشکریہ:مضامین ڈاٹ کام)