سعودی حکومت اور گرفتار افراد میں مصالحت شروع

264
سعودی عرب میں رہائی پانے والے شہزادہ متعب بن عبداللہ السعود کی فائل فوٹو
سعودی عرب میں رہائی پانے والے شہزادہ متعب بن عبداللہ السعود کی فائل فوٹو

ریاض (انٹرنیشنل ڈیسک) سعودی حکومت اور گرفتار افراد کے درمیان مصالحت شروع ہوگئی ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق شہزادہ متعب بن عبداللہ السعود کو منگل کی شب رہا کردیا گیا ہے، جب کہ دیگر3 افراد کی رہائی کے لیے بھی شرائط طے پا گئی ہیں۔ سعودی حکام نے 3 ہفتے قبل گرفتار کیے گئے شہزادہ متعب بن عبداللہ کو رہا کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے اپنی رہائی کے لیے ایک ارب ڈالر ادا کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔ ایک وقت تھا کہ شہزادہ متعب کے سعودی تخت تک پہنچنے کی پیشین گوئیاں کی جاتی تھیں۔ یاد رہے کہ شہزادہ متعب ان 200 اہم سیاسی اور کارروباری شخصیات میں سے ایک ہیں، جنہیں 4 نومبر کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان میں سے کئی افراد کو رہا بھی کیا جاچکا ہے، جب کہ کچھ کے خلاف مقدمات قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ شہزادہ متعب موجودہ ولی عہد محمد بن سلمان کے چچازاد ہیں اور وہ سعودی نیشنل گارڈز کے سربراہ تھے۔ گرفتار کیے گئے افراد میں سے وہ سب سے زیادہ سیاسی طاقت رکھنے والے شہزادے تھے۔ 64 سالہ شہزادہ متعب سابق بادشاہ عبداللہ کے بیٹے ہیں اور انہیں گرفتاری سے تھوڑی دیر قبل ہی ان کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔ سعودی عرب میں نئی انسداد بدعنوانی کمیٹی نے 11 شہزادوں، 4موجودہ اور درجنوں سابق وزرا کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ گرفتار ہونے والوں میں معروف سعودی کاروباری شخصیت شہزادہ ولید بن طلال بھی شامل تھے، جو تاحال لاپتا ہیں۔ یہ گرفتاریاں اس انسداد بدعنوانی کمیٹی کی تشکیل کے چند گھنٹوں بعد کی گئیں جس کے سربراہ ولی عہد محمد بن سلمان ہیں، تاہم اب مصالحت کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔