شامی امن مزاکرات ،اسدی وفد جنیوا پہنچ گیا

127
دمشق/ جنیوا: شام کے محصور علاقے مشرقی غوطہ میں اقوام متحدہ کا طبی وفد داخل ہو رہا ہے‘ چھوٹی تصویر حزب اختلاف اور عالمی ایلچی کی ملاقات کے بعد کی ہے
دمشق/ جنیوا: شام کے محصور علاقے مشرقی غوطہ میں اقوام متحدہ کا طبی وفد داخل ہو رہا ہے‘ چھوٹی تصویر حزب اختلاف اور عالمی ایلچی کی ملاقات کے بعد کی ہے

جنیوا (انٹرنیشنل ڈیسک) جنیوا میں شامی امن مذاکرات کا آٹھواں دور جاری ہے۔ اس مقصد کے لیے بدھ کے روز بشار الاسد حکومت کے نمایندے جنیوا پہنچ گئے ہیں۔ تاہم اسدی وفد نے دہرایا ہے کہ ان مذاکرات میں بشار الاسد کو اقتدار سے الگ کرنے پر بات چیت نہیں کی جائے گی۔ جنیوا میں یہ مذاکراتی عمل منگل کے شروع ہوا تھا، تاہم اسد حکومت کی نمایندگی کے بارے میں کوئی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔ جنیوا میں شامی حزب اختلاف کے نمایندہ وفد اور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے درمیان بات چیت ہوئی ہے، جب کہ اسد حکومت اور اپوزیشن کے وفود کے درمیان آیندہ ہفتے براہِ راست مذاکرات متوقع ہیں۔ خیال رہے کہ شامی حزب اختلاف ملک میں قیام امن کے لیے بشار الاسد کے استعفے کو ناگزیر قرار دیتی ہے۔ جنیوا مذاکرات میں ایسا پہلی بار ہوا کہ مختلف دھڑوں کی نمایندگی کوئی ایک متحدہ وفد کررہا ہے۔ حزب اختلاف کے مذاکراتی وفد کے سر براہ نصر حریری کہتے ہیں کہ اب ہر چیز بحث کے لیے مذاکراتی میز پر ہے۔ مغربی طاقتیں اسد حکومت پر بمباری اور بڑے پیمانے پر اذیت رسانی اور ہلاکتوں سمیت انسانی حقوق کی بڑی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتی ہیں، لیکن اسد کو اقتدار سے الگ کرنے کے ان کے مطالبے کم ہو گئے ہیں۔جنیوا میں شامی اپوزیشن کے نمایندوں اور اقوام متحدہ کے اہل کاروں کے درمیان اہم ملاقات کے بعد اقوام متحدہ کی طرف سے واضح کیا گیا ہے کہ مذاکرات میں کسی فریق پر کوئی پیشگی شرط عائد نہیں کی جائے گی۔ عالمی ایلچی اسد حکومت اور اپوزیشن کے نمایندوں سے الگ الگ ملاقات کریں گے۔ امریکی معاون وزیر خارجہ ڈیوڈ ساٹر فیلڈ بھی اپوزیشن کے نمایندوں سے ملیں گے۔ اس کے بعد سلامتی کونسل کے 5مستقل ارکان بھی ملاقاتیں کریں گے۔