لاہورہائیکورٹ: ناصر عباس کو 6روز میں بازیاب کرنے کا حکم 

231

لاہور(نمائندہ جسارت) لاہورہائیکورٹ کے جسٹس قاضی محمد امین احمد نے متحدہ مجلس مسلمین کے لا پتا رہنما ناصر عباس کو6 یوم میں بازیاب کروا کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت کا ملٹری انٹیلی جنس اور انٹیلی جنس بیورو کے ذمے دار افسران کے پیش نہ ہونے پر اظہار برہمی۔عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہماری ایجنسیوں کے لیے لاپتا شخص کو بازیاب کرانا کوئی بڑی بات نہیں ہے، عدالت ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے آگاہ ہے۔ دوران سماعت ناصر عباس کے بھائی علی عباس نے عدالت کو بتایا کہ ایلیٹ فورس کی گاڑی میں4 مسلح نوجوان بھائی ناصر عباس شیرازی کو اٹھا کر لے گئے، ناصر عباس نے رانا ثنااللہ کی جانب سے جسٹس باقر نجفی کے بارے میں متنازع بیان دینے پر ان کی نا اہلی کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ انہوں نے استدعا کی کہ عدالت ان کے بھائی کی بازیابی کا حکم دے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شان گل نے پولیس کی جانب سے عدالت کو بتایا کہ ناصر عباس کی بازیابی کے لیے پولیس نے مشتبہ جگہوں پر چھاپے مارے مگر کامیابی نہیں ہوئی۔ عدالت نے کہا کہ حکومت مصالحے لگا کر بات کرنا بند کرے، وزیروں کو کہیں کہ عدلیہ کی عزت کریں، بازیابی کے لیے ملکی ایجنسیوں سے ہی مدد لینی ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 4 دسمبر تک ملتوی کر دی۔