پوپ فرانسس کا میانمر میں خطاب‘ روہنگیا بحران پر خاموشی

136
نیپیداؤ : کیتھولک مسیحیوں کے پیشوا پاپ فرانسس آنگ سان سوچی سے ملاقات کررہے ہیں
نیپیداؤ : کیتھولک مسیحیوں کے پیشوا پاپ فرانسس آنگ سان سوچی سے ملاقات کررہے ہیں

نیپیداؤ/ لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) پوپ فرانسس نے میانمر میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ یہ ملک میں خانہ جنگی اور تشدد کی وجہ سے تقسیم کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ تاہم اس دوران انہوں نے روہنگیا مسلمان اقلیت کے خلاف جاری حکومتی کریک ڈاؤن کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق منگل کے روز پوپ فرانسس نے میانمر میں ایک اجتماع سے خطاب میں کہا کہ تشدد سے بچنے کی خاطر مذہبی اختلافات کو دور کرتے ہوئے قومی مصالحت کی راہ اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے تحفظ کی خاطر قیام امن کی کوششیں کرنا ہوں گی اور انصاف کا بول بالا کرنا ہو گا۔ کیتھولک مسیحیوں کے رہنما پوپ فرانسس کا مزید کہنا تھا کہمذہبی اختلافات کسی تقسیم یا بداعتمادی کی وجہ نہیں بننا چاہییں، بلکہ یہ تو ایسی طاقت ہے، جس کی وجہ سے اتحاد، درگزر، برداشت اور قوم کی ترقی کو تقویت دی جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ میانمر میں قیام امن کی کوششوں کو تیز کر دینا چاہیے۔اس سے قبل منگل کو ہی انہوں نے آنگ سان سوچی سے ملاقات بھی کی۔ واضح رہے کہ روہنگیا مسلمانوں پر جاری ریاستی مظالم کے تناظر میں پاپ فرانسس کے دورہ میانمر کو خاصا اہم سمجھا جا رہا تھا، تاہم روہنگیا بحران پر مسیحی پیشوا کی خاموشی سے عالمی برادری کو سخت مایوسی ہوئی ہے۔ دوسری جانب ایک اور پیشرفت میں آکسفورڈ سٹی کونسل نے میانمر کی رہنما آنگ سان سوچی کو دیا گیا ’فریڈم آف دی سٹی‘ کا ایوارڈ واپس لے لیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ میانمر میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری حکومتی کریک ڈاؤن پر سوچی کی خاموشی کی وجہ سے یہ اعزاز واپس لیا گیا ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی سابق طالبہ سوچی کو امن کا نوبل انعام بھی دیا گیا تھا۔ سماجی حلقوں کے مبصرین کا مطالبہ ہے کہ ان سے یہ انعام بھی واپس لے لینا چاہیے۔