فیض آباد دھرنے میں اغوا کیے گئے 2 پولیس اہلکار مل گئے

335
روالپنڈی: دھرنا مظاہرین کے ہاتھوں جلائی گئی پولیس کی گاڑی سڑک سے ہٹائی جارہی ہے
روالپنڈی: دھرنا مظاہرین کے ہاتھوں جلائی گئی پولیس کی گاڑی سڑک سے ہٹائی جارہی ہے

راولپنڈی/فیصل آباد (آن لائن) فیض آباد دھرنے میں اغوا کیے جانے والے 2 پولیس اہلکارمل گئے۔ ذرائع کے مطابق راولپنڈی اوراسلام آبادکے سنگم پر واقع فیض آباد انٹر چینج پر مذہبی جماعتوں کے دھرنے کے دوران ان کی جانب سے مبینہ طور پر اغوا کیے جانے والے 2 پولیس اہلکاردھرنے کے اختتام پر سوہن میں سڑک کے کنارے سے مل گئے۔ پولیس اہلکاروں کو مظاہرین کی جانب سے اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ ہفتے کو ہونے والے آپریشن میں قتل کیے گئے لوگوں کی پوسٹ مارٹم کے لیے لاش کے ساتھ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹراسپتال میں موجود تھے۔ مذہبی جماعتوں کا ایک گروہ اسپتال کے مردہ خانے میں داخل ہوا اور ایس آئی اسلم حیات سے بحث کی اور مظاہرین جو چاہتے تھے انہوں نے اس کے مطابقلکھنے سے انکار کیا جس کے بعدمظاہرین نے ایس آئی اسلم حیات اور ان کے ساتھ پولیس اہلکار کو تشدد کا نشانہ بنایا اور گاڑی میں ڈال کر ساتھ لے گئے جن پراغوا کے دروان شدید جسمانی تشدد کیا گیا جس کے باعث ان اہلکاروں کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہیں اور جسم پر تشددکے نشانات بھی موجودہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق سب انسپکٹر اسلم حیات کی الٹی کہنی فریکچر ہے‘ بازیاب اہلکاروں کے مطابق اُن پر پلاسٹک کے تاروں، ڈنڈوں اورلاٹھیوں سے تشدد کیا گیا اور انہیں اغوا کے بعد فیض آبادکے ایک خیمے میں رکھاگیا‘ لیگل میڈیکل رپورٹ کے بعد ہی تشدد اور زخموں کی شدت کے مطابق درج ایف آئی آرمیں قانون کی مزیددفعات شامل کی جائیں گی۔علاوہ ازیں صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ کے ڈیرے کوآگ لگانے کی کوشش کے دوران پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے بعد گرفتار ہونے والے 22 افراد کوتھری ایم پی او کے تحت سینٹرل جیل میں نظر بند کردیا گیا جبکہ تحریک لبیک کے رہنما وحید قادری کو رہا کردیا گیا۔