کراچی:جرگے کے حکم پر پسند کی شادی کرنے والا جوڑا قتل

462
کراچی: مومن آباد میں پسند کی شادی پر قتل کیے جانے والوں کی میتیں قبروں سے نکال پر اسپتال منتقل کی جارہی ہیں‘ چھوٹی تصویر میں ملزمان حوالات میں بند ہیں
کراچی: مومن آباد میں پسند کی شادی پر قتل کیے جانے والوں کی میتیں قبروں سے نکال پر اسپتال منتقل کی جارہی ہیں‘ چھوٹی تصویر میں ملزمان حوالات میں بند ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) شہر قائد میں جرگے کے فیصلے پر پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو قتل کرنے کے بعد لاشوں کی تدفین خاموشی سے کر دی گئی، واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس نے 9ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ جرگہ مقتولین کے باپ ،بھائیوں اورقریبی رشتہ داروں پر مشتمل تھا۔ تفصیلات کے
مطابق مومن آباد تھانے کی حدود میں واقع نواب کالونی میں ایک مکان میں خون کی موجودگی پر مالک مکان نے پولیس کو اطلاع دی، اس نے بتایا کہ کچھ روز قبل ایک جوڑے کو اپنا گھر کرائے پر دیا تھا تاہم گزشتہ 4 روز سے ان کی عدم موجودگی کی وجہ سے شک ہونے پر وہ گھر کے اندر داخل ہو ا توگھر کاسامان بکھرا ہو ا تھاجبکہ ایک موبائل فون پڑا تھا۔ پولیس نے مکان سے ملنے والے موبائل کی مدد سے 2 افراد کو حراست میں لے لیا جنہوں نے بتایا کہ اتحاد ٹاؤن کے رہائشی نوجوان نے چند روز قبل محبت کی شادی کی تھی اور فرار ہو کر مومن آباد میں رہائش اختیار کر لی تھی ، لڑکی کے والد اور بھائی کی خواہش پر جرگہ ہوا اور جس میں ان کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ، لڑکی کے والد اور بھائی نے مکان کی ریکی کی اور مقتول ہادی کی گھر پر موجودگی کی اطلاع پر رات کے اندھیرے میں ایوب مکان میں کود گیا اور دروازہ کھول کر اپنے بھائی اور والد کو بھی اندر بلالیا، ملزمان نے لڑکی کو پھندا لگا کر قتل کیا جبکہ لڑکے کو تشدد کا نشانہ بنایا اور پھندا لگا کر قتل کر دیا اور رات میں ہی ان کو اتحاد ٹاؤن قائمخانی قبرستان میں دفن کردیا۔ ملزمان کی نشاندہی پرعلاقہ مجسٹریٹ کی موجودگی میں قبر کشائی کی گئی اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق قتل 5 روز قبل ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق 5 2سالہ ہادی اور 21 سالہ حسینی نے پسند کی شادی کی تھی جس پر لڑکا، لڑکی کے والد اور بھائی نے دونوں کو قتل کا فیصلہ کیا ،پولیس نے لڑکے کے والد اور لاشیں دفن کرنے میں شامل 9 افراد کو گرفتار کرکے تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ لڑکی کا والد اور بھائی ایوب ،اعظم اور حبیب کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کراچی ہے یہاں کیسے جرگہ ہوا اور کیسے قتل کا فیصلہ دیا گیا، واقعے کی پوری رپورٹ دیں اور قانون کو فوری حرکت میں لائیں۔