روسی صدر نے ذرائع ابلاغ پر پابندیوں کے قانون پر دستخط کر دیے

173

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے نئی قانون سازی پر دستخط کر دیے ہیں جس سے حکومت کو یہ اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ بیرون ملک سے مالی وسائل حاصل کرنے والے کسی بھی میڈیا کو غیر ملکی عناصر قرار دے کر اس کے خلاف پابندیاں عائد کر سکتی ہے۔ یہ نیا قانون روس کے سرکاری انٹرنیٹ پورٹل پر ہفتے کے روز جاری کیا گیا تھا۔ مسودہ قانون ایوان بالا فیڈریشن کونسل نے گزشتہ بدھ کو متفقہ طور پر منظور کیا تھا جب کہ ایوان زیریں 15 نومبر کو اسے حتمی طور پر منظور کر چکی تھی۔ قانون منظور ہونے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی وزارت قانون نے ریڈیو فری یورپ؍ ریڈیو لبرٹی کی کئی سروسز کو انتباہ جاری کر دیا۔ ان انتباہی خطوط میں یہ تو واضح نہیں کیا گیا کہ ان سروس کو کن تعزیرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن قانون سازوں کا کہنا ہے کہ غیر ملکی عناصر قرار دیے جانے والے میڈیا کو اپنی مکمل مالی وسائل کی تفصیل فراہم کرنا پڑ سکتی ہے۔ ریڈیو فری یورپ؍ ریڈیو لبرٹی ان کئی ذرائع ابلاغ میں شامل ہے جنہیں روسی حکام نے غیر ملکی عناصر قرار دینے سے متعلق خبردار کیا ہے۔ اس فہرست میں وائس آف امریکا، سی این این اور جرمنی کا بین الاقوامی نشریاتی ادارہ ڈوئچے ویلے بھی شامل ہیں۔ صدر پیوٹن کی طرف سے قانون سازی پر دستخط کیے جانے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ریڈیو فری یورپ کے صدر تھامس کنٹ کا کہنا تھا کہ ہم اس موقع پر کوئی قیاس آرائی نہیں کر سکتے کہ نئے قانون کے مضمرات کیا ہوں گے کیوں کہ تاحال کسی بھی تنظیم کو غیرملکی عناصر قرار نہیں دیا گیا اور نہ ہی ان پر تعزیرات عائد کی گئی ہیں۔ ان کے بقول ہم اپنے روسی بولنے والے سامعین کو درست اور بامقصد خبر پہنچانے کے لیے بدستور اپنا صحافتی کام جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہیں۔

امریکا میں سگریٹ ساز کمپنیاں تمباکو نوشی سے خبردار کرنے پر مجبور

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں سگریٹ ساز کمپنیوں کی اکثریت نے اتوار کے روز سے سگریٹ نوشی کے خطرات سے خبردار کرنے کے لیے اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں اشتہارات شائع کرانا شروع کر دیے ہیں۔ نومبر 2006ء میں ایک امریکی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ سگریٹ ساز درحقیقت عوام کو سگریٹ نوشی کے نقصانات کے حوالے سے دھوکا دیتے ہیں۔ عدالت نے سگریٹ ساز کمپنیوں کو پابند بنایا کہ وہ اس غلط بیانی کی تصحیح کے لیے اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں اشتہارات نشر کریں۔ تاہم مذکورہ کمپنیوں نے فیصلے میں بعض تفصیلات کی ترمیم کے لیے اپیل دائر کر دی تھی اور اس طرح وہ فیصلے پر عمل میں 10 برس سے زیادہ کی تاخیر ممکن بنانے میں کامیاب ہو گئیں۔ قانون کے مطابق سگریٹ ساز کمپنیوں پر لازم ہے کہ وہ سال میں 5 بار واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز جیسے 50 مقامی اخبارات کے ابتدائی صفحات میں ایک مکمل صفحے کا اشتہار شائع کروائیں۔ اس کے علاوہ کمپنیوں کو سال کے 12 ماہ کے دوران ABC , CBS اور NBC جیسے بڑے چینلز پر 260 اشتہارات کا سلاٹ خریدنا ہو گا۔ ان اشتہارات میں سخت قسم کی زبان استعمال کی جائے گی۔ مثلا سگریٹ نوشی روزانہ 1200 امریکیوں کی جان لے لیتی ہے یا سگریٹ نوشی درحقیقت جرائم، ایڈز جیسے مرض، ٹریفک حادثات اور شراب نوشی کے سبب موت کا شکار ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد سے زیادہ لوگوں کو موت کی نیند سلا دیتی ہے ۔ سگریٹ نوشی کے سبب ہر سال امریکا میں تقریباً 5 لاکھ افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

جرمنی میں حکمراں جماعت وسیع تر اتحاد کے لیے تیار

برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) جرمن چانسلر انجیلا مرکل کی سیاسی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی نے پارلیمان کی دوسری بڑی سیاسی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ وسیع تر اتحاد بنانے پر اتفاق کر لیا ہے۔ چانسلر مرکل کی قیادت میں گزشتہ مخلوط حکومت میں بھی ان دونوں جماعتوں کا اتحاد تھا۔ تاہم حالیہ انتخابات میں ایس پی ڈی کی مایوس کن کارکردگی کے بعد اس جماعت نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ چانسلر مرکل کی جماعت نے پارلیمان میں دیگر 2 چھوٹی جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنانے کی کوشش کی تھی، تاہم مخلوط حکومت بنانے کے لیے یہ مذاکرات کامیاب نہیں ہو پائے تھے۔ واضح رہے کہ ایس پی ڈی نے ابھی مخلوط حکومت بنانے کے لیے مذاکرات کرنے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

جرمنی مہاجرین کی وطن واپسی میں لچک دکھائے‘ سابق افغان صدر

برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) سابق افغان صدر حامد کرزئی نے جرمن حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ افغان مہاجرین کی ملک بدری کے تناظر میں لچک دار رویہ اختیار کرے۔ پیر کے روز اپنے دورہ جرمنی کے دوران ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایسے افغان مہاجرین کو واپس وطن روانہ کرنے سے قبل کچھ وقت دینا چاہیے۔ یہ وہ افغان مہاجرین ہیں، جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔ حامد کرزئی نے پیر کے روز بون میں ڈوئچے ویلے کے دفتر کا دورہ بھی کیا۔