قوم کیساتھ مذاق بند کیا جائے‘ اسلام آباد ہائیکورٹ۔ کیا دھرنے کے پیچھے فوج تھی؟

618

اسلام آباد ( خبر ایجنسیاں + مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کے دوران فوج کے سیاسی کردار پر انتہائی سخت ریمارکس دیے ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا ہے کہ آرمی چیف کی آزادانہ حیثیت کیا ہے اور وہ کیسے دھرنے کے معاملے میں ایگزیکیٹو کا حکم ماننے کے بجائے ثالث کا کردار ادا کر سکتے ہیں؟ہم نے فیض آباد خالی کرانے کا حکم دیا تھا، یہ تونہیں کہا کہ معاہدہ کریں۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ملک کے ادارے ہی ریاست کے خلاف کام کر رہے ہیں اور اگر فوجیوں کو سیاست کرنے کا شوق ہے تو وہ نوکری سے مستعفی ہو کر سیاست میں آئیں۔انہوں نے کہا کہ ملکی آئین میں آرمی چیف کی بطور ثالث بننے کی کیا حیثیت ہے؟ریاست کے ساتھ ایسا کب تک ہوتا رہے گا؟قوم کے ساتھ مذاق بند کیا جائے۔ عدالت کا کہنا تھاکہ فریقین کے درمیان ہونے والے معاہدے میں آرمی چیف اور ان کے نمائندے کا شکرایہ ادا کیا گیا ہے جنہوں نے دھرنا ختم کرنے سے متعلق اہم کردار ادا کیا۔ کیا جنرل باجوہ ایگزیکٹو ہیں؟۔ عدالت نے احسن اقبال سے استفسار کیا کہ آپ تو آئین کی بات کرتے ہیں پھر یہ ثالثی کرنے والا میجر جنرل کون ہے؟۔سوشل میڈیا پر آئی ایس آئی کے میجر جنرل فیض حمید کا نام لیا جارہا ہے جو آرمی چیف کے نمائندے کی حیثیت سے پیش ہوئے تھے۔ وزیرداخلہ نے عدالت کو بتایا کہ قومی قیادت کی مشاورت سے یہ فیصلہ کیا جس پر جسٹس شوکت عزیز نے کہا کہ کیا فوج قومی قیادت ہے؟ آئین پاکستان کے تحت فوج کیسے غیرجانبدار رہ سکتی ہے؟ کیا فوج اقوام متحدہ ہے جو معاہدہ کروا کر ثالث بن جائے۔میجر جنرل ثالث کیسے بنا یہ بتائیں،جس میجر جنرل کا کورٹ مارشل ہونا چاہیے آپ نے اسے ثالث بنا دیا۔ احسن اقبال نے جواب دیا کہ میجر جنرل صرف گواہ کے طور پر شامل ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ گواہ کے طور پر آئی جی یا کمشنر کیوں شامل نہیں؟آج آپ نے ثابت کردیا کہ یہ پراجیکٹ کس کا تھا،وہ اور آپ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے ملک تباہ کررہے ہیں۔سازش کے تحت پولیس اور انتظامیہ کو ناکام بنایا گیا۔فوج حدمیں رہے،کیا ہمیں نہیں معلوم قادنیوں کو ڈارلنگ کس نے بنایا؟اب عدالتوں میں جسٹس منیر کے پیروکار نہیں رہے۔سماعت میں خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سیکٹر انچارج بریگیڈیئر عرفان شکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ سوشل میڈیا پر چھپنے والا مواد غیر تصدیق شدہ ہوتا ہے، اس لیے اس پر ریمارکس بھی نہیں دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دھرنے کے پیچھے آئی ایس آئی کا کوئی کردار نہیں ہے۔ آئی ایس آئی کے سیکٹر انچارج نے عدالت کو بتایا کہ صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لیے 2 ہی راستے تھے کہ اسے پر امن طریقے سے حل کیا جاتا یا پھر پرتشدد طریقے سے علاقہ خالی کروایا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ جب عدالت کا حکم ملا تو پھر پرامن راستے کا انتخاب کیا گیا۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے آئی ایس آئی کے سیکٹر انچارج سے استفسار کیا کہ آپ انتظامیہ کا حصہ ہیں، آپ ثالث کیسے بن گئے؟ عدالت کا کہنا تھا کہ بیرونی جارحیت کی صورت میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ ہم نے بھارت کے ساتھ 1965ء کی جنگ میں جھولی پھیلا کر افواج کے لیے چندہ جمع کیا۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ فوج کا یہ کردار قابل قبول نہیں کہ قانون توڑنے اور قانون نافذ کرانے والوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرے۔عدالت نے سوال کیا کہ فوجی کیوں خوامخواہ ہیرو بنے پھرتے ہیں؟عدالت کا کہنا تھا کہ سیکورٹی ادارے پورے ملک میں ردالفساد کے نام سے آپریشن کر رہے ہیں تاکہ ملک سے دہشت گردی کو ختم کیا جا سکے ،انہیں فیض آباد دھرنا نظر نہیں آیا؟عدالت کے استفسار پر وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ دھرنا دینے والوں کے ساتھ معاہدہ قومی قیادت نے اتفاق رائے سے کیا جس پر بینچ کے سربراہ نے کہا کہ قانون توڑنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان فوج کا ثالثی کردار قابل قبول نہیں ہے۔احسن اقبال نے عدالت کو بتایا کہ ملک ایک ایسی صورت حال پر آ گیا تھا جہاں خانہ جنگی کا خطرہ تھا اس لیے حالات کو دیکھتے ہوئے معاہدہ کرنا ناگزیر تھا۔جسٹس شوکت عزیزنے کہا کہ پھر آپ نے انہی کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے،آپ نے اپنی ہی انتظامیہ کو ذلیل کروا دیا ہے،کیا آپ نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت فوج بلوائی؟ احسن اقبال نے جواب دیا کہ ہم نے فوج کو بلایا تھا، فوج نے کچھ استفسار کیا جس کاجواب دے دیا ہے، انتظامیہ کو ذلیل نہیں کروایا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ وہ یہی چاہتے تھے کہ انتظامیہ ناکام ہو جائے اور وہ ہوگئی،دھرنے والے یہ بتانے میں کامیاب رہے کہ ہرمرض کی دوا فوج ہے۔ احسن اقبال آپ نے کام نہیں بلکہ سرنڈر کیا ہے، یہ بتائیں مظاہرین کے پاس اسلحہ، ماسک کہاں سے آیا؟۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سخت ریمارکس دیے کہ فیض آباد کے ساتھ جی ایچ کیو ہوتا تو دیکھتا یہاں کوئی کیسے بیٹھتا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج ہونے والے مقدمات کو فریقین کے درمیان ہونے والے معاہدے سے کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟جسٹس شوکت نے وزیر داخلہ سے استفسار کیا کہ کیا اگر فیض آباد کے قریب حمزہ کیمپ کے بجائے فو ج کا ہیڈ کوراٹر ہوتا تو تب بھی مظاہرین اسی جگہ پر دھرنا دیتے؟ اس پر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اس کا جواب تو مظاہرین ہی دے سکتے ہیں۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ حکومت اور دھرنا دینے والی قیادت کے درمیان جو معاہدہ طے پایا ہے اس میں ججوں سے معافی مانگنے کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا کیونکہ مظاہرین نے دھرنے کے دوران اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے بارے میں نازیبا الفاظ ادا کیے تھے۔سماعت کے دوران عدالت نے وزیر داخلہ کی سرزنش بھی کی کہ انہوں نے مظاہرین کے خلاف کارروائی کے دوران اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو تنہا چھوڑ دیا۔عدالت نے وزیر داخلہ سے ان وجوہات کے بارے میں بھی طلب کیا ہے جس کی وجہ سے دھرنا دینے والوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی ناکام ہوئی۔