دو روز میں رفاہی اراضی واگزار نہ ہوئی تو ڈی جی کے ڈی اے کو جیل بھیج دینگے‘ عدالت عظمیٰ

389

کراچی (اسٹاف رپورٹر)عدالت عظمیٰ نے کراچی کے تمام رفاہی پلاٹس سے 2 روزمیں قبضہ ختم کرانے کا حکم دے دیا۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ کراچی کی زمین کو میراث سمجھا ہوا ہے ؟ جسے چاہتے ہو الاٹ کردیتے ہو،جو حالات چل رہے ہیں کراچی میں سانس لینا مشکل ہوگیا ہے۔عدالت عظمیٰ کراچی میں عدالتی حکم پر پلاٹ الاٹ کرنے کے بجائے رفاہی پلاٹ دینے سے متعلق صبیحہ پروین کی درخواست پر سماعت ہوئی۔رفاہی اور ایس ٹی پلاٹس کی الاٹمنٹ پر عدالت نے اظہار برہمی کیا۔عدالت نے کشمیر روڈ، یونیورسٹی روڈ، ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد میں تمام غیر قانونی تعمیرات مسمار کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام میدانوں اور پارکوں سے شادی ہالز ختم کرکے رپورٹ پیش کریں۔ جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیے کہ 2روزمیں قبضہ ختم نہ کیا تو ڈی جی کے ڈی اے کو جیل بھیجیں گے،کراچی میں سانس لینا مشکل ہوگیا ہے ،کیا شادی ہالز کے لیے کراچی بنا تھا ؟۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ تمام ایس ٹی پلاٹس کو خالی کرکے رپورٹ پیش کریں۔ عدالت نے سیکرٹری لینڈ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ تم جیسے لوگ کراچی کے دشمن ہیں، تمہیں شرم نہیں آتی ؟۔ جسٹس گلزار نے ریمارکس میں کہا کہ جو حالات چل رہے ہیں کراچی میں سانس لینا مشکل ہوگیا ہے،کراچی کی زمین کو میراث سمجھا ہوا ہے؟ جسے چاہتے ہو الاٹ کردیتے ہو، کراچی کا سبزا ختم کردیا ہے،سارے رفاہی پلاٹس بیچ دیے، کراچی بھر کے میدانوں کو ختم کردیا اب لڑکے کرکٹ کھیلتے ہوئے نظر نہیں آتے،ناظم آباد اور نارتھ ناظم آباد کے میدانوں پر بھی قبضہ کرلیا گیا ہے۔عدالت نے یونیورسٹی روڈ پر میدانوں کی دیواریں فوری گرانے کا حکم دے دیا۔ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہوا تو ڈی جی کے ڈی اے سمیت اعلیٰ افسران کے خلاف کارروائی کریں گے۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ عدالتی حکم پر کے ڈی اے نے متبادل پلاٹ دینے کے بجائے رفاہی پلاٹ الاٹ کردیا۔عدالت نے صبیحہ پروین کو نارتھ کراچی سیکٹر11۔A میں متبادل پلاٹ دینے کا حکم دیا تھا۔ درخواست گزار نے پلاٹ پر قبضے کی شکایت کی تھی۔ علاوہ ازیں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل آغامقصودعباس کی ہدایت پر ڈیمالیشن اسکواڈ نے شہرکے مختلف علاقوں میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں منہدم و سربمہرکر دیا ہے۔